عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عہدہ عمران خان کی امانت تھی، اب انہیں لوٹا رہا ہوں۔ اب نامزد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اعتماد کا ووٹ لے کر صوبے کی حکومت کا سربراہ بنیں گے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس تبدیلی کی وجوہات میں کے پی کے میں دہشت گردی اور اس بارے میں وفاقی حکومت کے ساتھ اختلاف رائے کا حوالہ دیا ہے۔
تاہم پارٹی کی قیادت یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کی پالیسی ناکام ہورہی ہے یا پاک فوج عمران خان کی مرضی و خواہش کے مطابق دہشت گردوں سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کی بجائے ، ان کا مقابلہ کرکے صوبے یا ملک میں امن و امان بحال کرنا چاہتی ہے تو یہ مقصد صوبے میں وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے سے کیسے پورا ہوسکے گا؟ سلمان اکرم راجہ نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ علی امین گنڈا پور کی علیحدگی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ساتھ ان کے اختلافات کے بعد ضروری ہوگئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تنازعہ کا کے پی کے میں نیا وزیر اعلیٰ لانے کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں تھی۔ اس لیے کابل حکومت، افغان پناہگزینوں اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی میں اضافہ کو عذر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج ضلع اورکزئی میں ہونے والے سانحہ نے عمران خان کو بہت دکھی کردیا ہے جس کی وجہ سے صوبے کا وزیرا علیٰ تبدیل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ’آج بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 فوجی جوان شہید ہوگئے تھے۔ کارروائی میں 19 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے‘۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کا فیصلہ بہت پہلے کرلیا گیا تھا اور عمران خان نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ بھی وصول کرلیا تھا تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے۔ البتہ تحریک انصاف کی طرف سے دہشت گردی کے ایک واقعہ کو پارٹی کے اندر جاری لڑائی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کو ٹالنے کے لیے حجت کے طور پر استعمال کرنا ، کسی بھی طرح مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ اس سے عام شہریوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جیسے وفاقی حکومت اور فوج اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ کا سبب بنی ہوئی ہے۔ جبکہ صرف تحریک انصاف ایسی سیاسی قوت ہے جو اس معاملہ میں متوازن اور درست پالیسی پیش کررہی ہے۔ یہ بیان درحقیقت درجن بھر فوجی افسروں اور جوانوں کے اہل خاندان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جنہوں نے آج ہی ملک سے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کرنے کی جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
علی امین گنڈا پور نے چند روز پہلے ایک ویڈیو پیغام میں علیمہ خان پر تحریک انصاف پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرنے اور پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ علی امین گنڈا پور کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آرہی تھیں۔کم از کم یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ علیمہ خان تحریک انصاف میں کوئی عہدہ نہ ہونے کے باوجود پارٹی کی پالیسی اور معاملات میں اثر انداز ہوتی ہیں اور انہیں عمران خان کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ علی امین گنڈا پور بار با راعلان کرنے کے باوجود تحریک انصاف کا کوئی ایسا احتجاج منظم کرنے میں بھی ناکام رہے تھے جو عمران خان کی خواہش کے مطابق اسلام آباد کی طرف مارچ کرتا اور موجودہ حکومت کو بھاگنے پر مجبور کردیتا۔ اس کے علاوہ ، وہ اسٹبلشمنٹ سے چینلز کھلے رکھنے کے باوجود عمران خان کے لیے کوئی سہولت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ عمران خان کی خواہش تھی کہ علی امین گنڈا پور اور پارٹی کے ایسے ہی دیگر لیڈر جو اسٹبلشمنٹ سے رابطوں میں ہیں، کسی طرح عمران خان سے فوج کے مذاکرات کی راہ ہموار کریں تاکہ ان کی رہائی اور اقتدار میں واپسی کی امید بحال ہوسکے۔ لیکن ایک شخص یا چند افراد کو نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کو اپنی سیاسی غلطیاں اور اشتعال انگیز پالیسیاں دکھائی نہیں دیتیں جن کی وجہ سے وہ مسلسل اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت میں ناکام رہے ہیں۔
ان میں سر فہرست 9 مئی 2023 کو ہونے والا احتجاج ہے۔ اب اس احتجاج کے حقیقی مقاصد کے کئی گوشے منظر عام پر آچکے ہیں۔ تحریک انصاف نے اس روز ہنگاموں اور تشدد کے ذریعے فوج میں بغاوت اور تبدیلی کی کوشش کی تھی۔ غلط اشارے ملنے یا اندازوں کی غلطی کی وجہ سے کوئی بھی طریقہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف بھی 9 مئی کے ہنگاموں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔ لیکن بعد از وقت ایک ذمہ دار سیاسی قوت کے طور پر پارٹی نے اس سانحہ سے لاتعلقی اختیار کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے مسلسل اصرار کیا ہے کہ اس میں وہ تو ہرگز شامل نہیں تھی لیکن فوج نے جعلی حملوں کے ذریعے پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کوسزائیں دینے کے لیے جال تیار کیا تھا۔ یہ بیانیہ حقیقی واقعات کے برعکس تھا اور عمران خان کے اس بے بنیاد گمان کی پر استوار تھا کہ ان کے ایک اشارے پر عوام سڑکوں پر نکل کر حکومت کو ناکام بنا دیں گے۔ یہ اندازے بھی درست ثابت نہ ہوئے لیکن عمران خان سانحہ 9 مئی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف اختیار کرکے ملک میں سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ اب وہ خیبر پختون خوا میں اپنی پارٹی کی اکژیت کو وفاق سے براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے لیے استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی لیے کے پی کے کا وزیر اعلیٰ تبدیل کیا جارہا ہے۔
نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ضرور عمران خان اور تحریک انصاف کے وفادار کارکن ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ایسی سیاسی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ خیبر پختون خوا کو درپیش مسائل کو حکمت عملی اور سوجھ بوجھ سے حل کرسکیں۔ البتہ عمران خان کا خیال ہے کہ ایک نئے چہرے کے ذریعے تند و تیز بیانات دلوا کر وہ شاید وفاقی حکومت کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ یا فوج کو عمران خان سے مواصلت پت مجبور کرسکیں گے۔ حالانکہ گزشتہ دو اڑھائی سال کے تجربہ سے انہیں سیکھنا چاہئے کہ ملک میں سیاسی مفاہمت اور تحریک انصاف کے لیے قبولیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے فوج سے بات چیت کی کوشش کرنے کی بجائے سیاسی پارٹیوں سے روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کے پی کے میں تبدیلی سے ظاہر ہورہا ہے کہ عمران خان بدستور صرف اپنی سیاسی مقبولیت کو ہی کامیابی کا راستہ سمجھتے ہیں ۔ اب خیبر پختون خوا میں وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے سے ایک تو گنڈا پور حکومت پر انتظامی ناکامی اور بدعنوانی کے حوالے سے جو الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، ان سے نجات حاصل کرلی جائے گی ۔ اوردوسری طرف ایک نوجوان اور جذباتی وزیر اعلیٰ کے ذریعے نئی گرمجوشی پیدا کرکے اپنے لیے کوئی موقع تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم دریں حالات ایسی پالیسی کامیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی اندرونی لڑائی اور سیاسی منظر نامہ میں واپسی کے لیے سیاسی اقدامات ہی کارآمد ہوسکتے ہیں۔ ان میں سرفہرست سیاسی مکالمہ کا راستہ اختیار کرنا اور للکارنے کی بجائے مل جل کر معاملات سے نمٹنے کا طریقہ اختیار کرنا اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسی حرف آخر نہیں ہوسکتی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ لیکن ایک صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے سوال پر وفاقی حکومت کے مدمقابل کھڑا کرنے کے اشارے نہ تو عمران خان کو سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے وفاق یا فوج کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ کابل حکومت نے مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کی سرپرستی کی ہے اور انہیں روکنے کی کسی تجویز کو نہیں مانا۔ اب عمران خان پاکستان میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والی افغان حکومت اور براہ راست دہشت گردی میں ملوث عناصر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے وفاق سے محاذ آرائی کا اشارہ دے رہے ہیں۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

