محبت کو ہمیشہ انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت تجربہ کہا گیا ہے، مگر جن لوگوں نے واقعی محبت کو جیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ خوشبو نہیں، آگ ہے۔ یہ تنہائی کے سرد موسم میں نرم روشنی اور خوشگوار حرارت سے شروع ہوتی ہے، مگر کچھ ہی دیر میں جلانے لگتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ محبت خوبصورت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا محبت انسان کو بناتی ہے یا تباہ کرتی ہے؟
جب محبت انسان کی زندگی میں آتی ہے تو اسے نرم کر دیتی ہے۔ اس کے اندر کے بند دروازے کھول دیتی ہے۔ وہ دنیا کو پھر سے محسوس کرنے لگتا ہے۔ بارش کے قطرے، بچوں کی ہنسی، خاموشی میں چھپی موسیقی۔ محبت انسان کو انسان بناتی ہے، اس کے علم کو احساس میں بدل دیتی ہے، اور کچھ عرصے کے لیے وہ خود کو پہلے سے زیادہ زندہ محسوس کرتا ہے۔
ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں
میں زندہ تھا، کہ اب زندہ ہوا ہوں
(رسا چغتائی)
مگر جب محبت چلی جاتی ہے، نامکمل، غیر متبادل یا سراسر رد شدہ۔ تو وہی انسان ایک گہرے خلا میں جا گرتا ہے۔ دنیا کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں، ذرا سا شور تکلیف دیتا ہے، اور ہر دھڑکن اسے اپنی بے بسی یاد دلاتی ہے۔ جو محبت پہلے اسے انسان بنا رہی تھی، اب اسی کی کمزوری ظاہر کر دیتی ہے۔ یہ اس سے ضبط، غرور اور معنی سب چھین لیتی ہے۔
تو پھر سوال باقی رہتا ہے:
کیا یہ نامرادی انسان کو بناتی ہے یا برباد کرتی ہے؟
شاید دونوں۔
سادھگرو نے کہا تھا کہ “محبت خسارے کا سودا ہے”۔ وہ ہمیں محبت سے ڈرانا نہیں چاہتے، بلکہ اس کی فطرت بتاتے ہیں۔ محبت میں انسان کنٹرول کے فریب سے نکل آتا ہے۔ وہ "لین دین” کے تصور کو کھو دیتا ہے۔ حقیقی محبت معاہدہ نہیں، سپردگی ہے۔ جو شخص اس نقصان کو کڑواہٹ کے بغیر قبول کر لیتا ہے، وہ وسیع ہو جاتا ہے۔ جو قبول نہیں کر پاتا، وہ جل کر راکھ بن جاتا ہے۔
جون ایلیا نے اسی کیفیت کو ایک سادہ مگر تباہ کن سچائی میں ڈھال دیا تھا:
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا، اور ملال بھی نہیں
یہی محبت کا المیہ ہے۔ خود کو برباد کر دینا اور پھر بھی اس بربادی پر افسوس نہ ہونا۔ ٹوٹ جانا، مگر اس ٹوٹنے پر شکر گزار رہنا۔ نامکمل محبت روح کا امتحان ہے۔ یہ یا تو انسان کو نکھار دیتی ہے یا گھٹا دیتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آگ میں کیا جلتا ہے، اس کے وہم یا اس کا اصل۔
اگر محبت صرف مایوسی چھوڑ جائے تو یہ انسان کو تباہ کرتی ہے۔اگر یہ نرمی، عاجزی اور سمجھ بوجھ پیدا کرے تو یہی محبت انسان کو بناتی ہے۔شاید یہی محبت کا سب سے بڑا راز ہے:
یہ انسان کو برباد کرتی ہے تاکہ وہ خود کو نئے سرے سے پہچان سکے۔
فیس بک کمینٹ

