تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

چند کلمات مظلوم وکیلوں کی حمایت میں ۔۔ سید مجاہد علی

ملک کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گزشتہ ہفتہ کے دوران لاہور کے امراض قلب ہسپتال پر حملہ کو قابل افسوس و مذمت قرار دیا ہے اور وکالت و ڈاکٹری کے معزز پیشہ سے وابستہ افراد کو عقل کے ناخن لینے اور اپنے باوقار پیشوں کی عزت کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے وکیل رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ پھول لے کر کارڈیولوجی انسٹی ٹیوٹ جائیں اور ڈاکٹروں سے مل کر باہمی رنجش دور کرلیں۔
اس دوران وکیلوں کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں اور پولیس کے ہاتھوں ان کے ساتھ کئے جانے والے ظلم کی داستانیں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم وکیلوں کے ایک بڑے گروہ نے جس طرح امراض قلب ہسپتال پر حملہ کیا اور اس موقع پر تشدد، لاقانونیت اور وحشت کے جو مظاہرے دیکھنے میں آئے، ان کی وجہ سے عام رائے میں وکیل قصور وار ٹھہرائے جارہے ہیں۔ حالانکہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پارلیمنٹ بھی موجود ہو، عدالتیں بھی کام کررہی ہوں اور حکومتوں کے پاس بھی امن و امان نافذ کرنے کے اختیارات بھی ہوں ، جرم کا تعین کرنا کسی بھی فرد، میڈیا، گروہ، یا ادارے کا کام نہیں ہے بلکہ یہ کام صرف مجاز عدالت ہی کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں ملک بھر کے وکیلوں پر ہونے والی نکتہ چینی اور انہیں ملک میں لاقانونیت کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟
اگر یہ مان لیا جائے کہ وکیلوں نے اپنی گروہ بندی اور اتحاد کی وجہ سے تھانہ کچہریوں میں ہی نہیں بلکہ عام طور سے معاشرے میں غنڈہ گردی کا چلن عام کیا ہے تو پھر یہ سوال اٹھانا اور اس کا جواب تلاش کرنا بے حد ضروری ہے کہ کیا کسی پیشہ یا گروہ کی بنیاد پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا رویہ صرف وکالت کے پیشہ سے وابستہ لوگوں میں ہی پایا جاتا ہے یا معاشرے کے دوسرے گروہ بھی اس قسم کے پر تشدد اور غیر قانونی ہتھکندوں کو عام طور سے برتنے لگے ہیں اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی نہ کسی مصلحت یا مجبوری کی وجہ سے ان سے درگزر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ عام طور سے چشم پوشی اپنی کاہلی، نااہلی اور فرائض سے غفلت پر پردہ ڈالنے کے لئے برتی جاتی ہے۔ لاہور سانحہ کے بعد بھی کچھ اسی قسم کا رویہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس صورت میں معاشرتی عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے پرتشدد رجحان کی وجوہ جاننے کی بجائے وکیلوں کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔
ایسے میں اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ سارا قصور وکیلوں کا ہی تھا ۔ وہ منظم ہو کر حملہ کے ارادے سے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ گئے اور وہاں رونما ہونے والے غیرمتوقع واقعات نے انہیں مزید مشتعل کیا اور وہ ہسپتال کے گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔ ان واقعات کے بارے میں مصدقہ اور غیر مصدقہ متعدد کہانیاں سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہو رہی ہیں یا کی جارہی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہسپتال میں موجود نرسوں اور ڈاکٹروں نے چھت پر چڑھ کر یا بند کھڑکیوں کے پیچھے سے ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج کے لئے جمع ہونے والے وکیلوں کو للکارا اور ’کچھ کر دکھانے کی‘ دعوت دی۔ خبروں کے مطابق اس ہیجان خیز صورت میں کچھ نوجوان خاتون وکیلوں نے سامنے آکر اپنے وکیل ساتھیوں کو ’غیرت‘ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح جوش دلائے گئے نوجوان وکیل ہسپتال پر دھاوا بولنے پر ’مجبور‘ ہوگئے۔ یہ سطور اس افسوسناک فعل کی دلیل دینے یا اسے جائز قرار دینے کے لئے نہیں بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش میں لکھی جارہی ہیں کہ آخر پڑھے لکھے لوگوں کا ایک گروہ کیوں ایک غیر انسانی اور غیر قانونی حرکت پر مجبور ہؤا۔
اس پس منظر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ اس دوران پنجاب پولیس اور حکام نے صورت حال کا اندازہ کرنے اور تادیبی کارروائی کی قطعی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔ البتہ جب ہسپتال پر حملہ کے بعد توڑ پھوڑ اور مریضوں کے دربدر ہونے کی تصاویر میڈیا پر دکھائی جانے لگیں تو پولیس نے پوری قوت سے وکیلوں پر دھاوا بول دیا۔ موقع پر بھی پولیس نے وکیلوں کے خلاف طاقت کا ناجائز اور پر تشدد استعمال کیا اور اس کے بعد چونکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاسی و سماجی لیڈروں کے بیانات کی وجہ سے وکیلوں کے خلاف ایک خاص ماحول پیدا ہوچکا تھا لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے اپنی انتظامی ناکامی و نااہلی کو چھپانے کا مناسب موقع سمجھا۔ وکیلوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تشدد صرف ایک گروہ کو منتشر کرنے کے لئے ہی استعمال نہیں ہؤا بلکہ انفرادی طور پر ’قابو‘ آنے والے وکیلوں پر پوری بے دردی سے زور بازو آزمایا گیا۔ کیا پولیس اور متعلقہ حکام کے اس رویہ کی کوئی حجت یا وضاحت پیش کی جاسکتی ہے۔
یہ سلسلہ صرف بدھ کے روز پیش آنے والے واقعہ تک ہی محدود نہیں رہا۔ اس سانحہ میں شرکت کے نام پر متعدد وکیلوں کو گرفتار کیا گیا بلکہ بعض خبروں کے مطابق جو بھی کالے کوٹ میں دکھائی دیا اسے ’جائز ٹارگٹ‘ سمجھتے ہوئے زد و کوب کیا گیا۔ زیر حراست وکیلوں پر پولیس تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اور اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب زیر حراست وکیلوں کے معاملات عدالتوں میں پیش ہوں گے تو پولیس کے مظالم و چیرہ دستیوں کی نت نئی کہانیاں بھی سامنے آئیں گی۔ کیا کسی بھی پولیس کو یہ اختیار دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بھی الزام میں پکڑے جانے والے کسی بھی شخص کی توہین کرے یا اسے تشدد کا نشانہ بنائے؟ کیا اس ظلم اور لاقانونیت پر پولیس اور ان کے ذمہ دار افسروں کے خلاف بھی کوئی آواز بلند کی جاسکتی ہے یا وکیلوں کی مذمت میں بلند ہونے والے بے ہنگم شور میں ریاست و حکومت کی ہر زیادتی کا جواز ’امن و امان بحال کرنے کی کوشش‘ کو بنایا جاسکتا ہے؟
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہسپتال پر حملہ وکیلوں کی صریح غلطی تھی۔ انہیں بہادری سے اس کا اعتراف کرنا چاہئے تھا اور ان کی قیادت کو اس ناجائز ، غیر اخلاقی اور افسوسناک کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ان تمام وکیلوں کے لائسنس معطل کرکے حقیقت حال جاننے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ ہسپتال پر حملہ کرنے والے وکیلوں سے بھی زیادہ بڑی کوتاہی اور ظلم وکیلوں کے ان قائدین نے کیا ہے جنہوں نے جاں بحق ہونے والے مریضوں کا افسوس کرنے کی بجائے وکیلوں کے دفاع کو ہی واحد اور مناسب راستہ سمجھا۔ ملک بھر کی وکلا تنظیموں نے ہڑتال کی کال دی اور اس پر زبردستی عمل کروایا گیا۔ صرف اسلام آباد میں اس ہڑتال میں شامل نہ ہونے پر کئی درجن وکیلوں کے لائسنس معطل کردیے گئے۔ یعنی ایک جمہوری باڈی کو جبر مسلط کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ دیکھا جائے تو ہسپتال پر حملہ کرنے والے وکیلوں سے زیادہ ان کے ان نمائیندوں نے اس معزز پیشہ کو نقصان پہنچایا ہے جنہوں نے اپنے مفادات کے لئے ٹیلی ویژن اسکرینوں، انٹرویوز، پریس کانفرنسوں یا بیانات میں حملہ آور وکیلوں کی غیرمشروط حمایت کی اور اس واقعہ کی مذمت کرنے سے انکار کردیا۔
تاہم یہ صورت حال کا ایک پہلو ہے۔ اس تصویر کا دوسرا پہلو متعدد وکیل رہنما یہ کہتے ہوئے بیان کرچکے ہیں کہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ اور آپریشن تھیٹر پر حملہ کرنے والے وکیل نہیں تھے بلکہ کچھ دوسرے عناصر تھے۔ ایک مؤقف یہ ہے کہ حکومت متعدد سیاسی وجوہ کی بنا پر وکیلوں کے اتحاد کو توڑنا چاہتی تھی اور اس موقع کو اسی مقصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ اسی لئے وکیلوں کے ممتاز رہنماؤں نے انتظامی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہسپتال کے اندر توڑ پھوڑ کرنے یا مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے احتجاجی وکیل نہیں تھے تو وہ کون سے عناصر تھے جو اس موقع پر موجود بھی تھے اور جوں ہی حالات ہنگامہ خیز ہوئے، انہوں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی صورت پیدا کی جس کی وجہ سے مسلسل پانچ روز سے ملک بھر کامیڈیا، سیاسی و سماجی لیڈر اور دانشور، وکیلوں کو لاقانونیت کا طعنہ دے رہے ہیں؟ کیا یہی اس سارے ہنگامے کا مقصد بھی تھا؟
وکیلوں کا ایک گروہ غصے اور ہیجان کی کیفیت میں ضرور احتجاج کرنے پر آمادہ ہؤا اور اس ہنگامہ آرائی کا سبب بنا ۔ ہسپتال پر جان بوجھ کر یا نادانستگی میں حملہ بھی کیا گیا۔ لیکن کیا ساری توڑ پھوڑ، ایمرجنسی وارڈ میں ہونے والا حملہ اور مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں صرف وکیل ہی ملوث تھے یا کچھ نامعلوم عناصر بھی اس شرمناک وقوعہ میں کردار ادا کررہے تھے؟ وکیلوں کا یہ قصور معاف نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہسپتال پر حملہ کی نیت سے روانہ ہوئے اور احتجاج کو ہسپتال کے باہر مظاہرہ تک محدود نہیں رکھا لیکن اس الزام کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وکیلوں کے حملہ کے دوران کچھ دوسرے عناصر نے اسے سنگین بنایا اور اصل نقصان کا سبب بنے تھے۔
وکیل رہنما تسلسل سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وکیلوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا جواب بہرصورت حکومت کو ہی دینا ہے کہ کون سی قوت وکیلوں کی ایک غلطی کی آڑ میں کوئی گھناؤنا اور بڑا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
پنجاب کے وزیر قانون راجہ محمد بشارت تسلیم کرچکے ہیں کہ اس معاملہ میں حکومت اور انتظامیہ سے کوتاہی ہوئی تھی۔ تو کیا وہی انتظامیہ تحقیقات میں خود اپنی ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کو سامنے لانے کا حوصلہ کرسکے گی۔ وکیل رہنماؤں کا یہ مطالبہ درست اور جائز ہے کہ اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ اس کے ساتھ ہی وکیل قائدین کو اس مظاہرے کے عذر تلاش کرنے اور وکیلوں کے رویہ کو ینگ ڈاکٹرز کی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کی کوشش قرار دینے کی بجائے ، چیف جسٹس کی طرح دو ٹوک الفاظ میں اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ تب ہی ان کے اس مؤقف کی شنوائی ہوگی کہ ا س معاملہ میں درپردہ عناصر ملوث تھے جنہوں نے اسے زیادہ سنگین اور دہشت ناک بنانے میں کردار ادا کیا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker