یہ 1980 کی دہائی کا ذکر ہے۔ ہم ان دنوں ڈیرہ غازی خان میں تھے جب میں نے اپنے والد کی زبان سے محسن نقوی کا ذکر سنا۔ وہ میونسپل کمیٹی کی لائبریری میں بہت سا وقت گزارتے تھے۔ لائبریری میں موجود اپنی پسندیدہ کتابوں کے اہم نکات کو انڈر لائن کیا کرتے اور ان کتابوں کے صفحات پر اپنے دستخط بھی ثبت کر دیتے۔ چونکہ وہ محسن نقوی تھے، اس لیے شاید لائبریرین کو ان کے اس عمل پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہوگا۔
وہ بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرتے تھے۔ ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ جو بھی ان سے ملتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا اور ان کی دوستی پر ناز کیا کرتا۔ یوں تو ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی، لیکن وہ دو حوالوں سے خاص طور پر مشہور تھے۔۔ ایک اپنی شاعری کی وجہ سے اور دوسرے اپنی ذاکری کے سبب۔
وہ کسی حد تک سیاسی طور پر بھی متحرک رہے اور مرتے دم تک ایک ہی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی، سے وابستہ رہے۔ شاید انہوں نے ایک آدھ انتخاب بھی لڑا، جو وہ ہار گئے۔ وہ بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ بے نظیر بھٹو انہیں اپنا بھائی کہتی ہیں۔
بحیثیتِ ذاکر ان کی جوڑی ایک اور معروف شیعہ ذاکر، علامہ عرفان حیدر عابدی، کے ساتھ بنی۔ یہ دونوں یک جان دو قالب تھے اور اکثر مجالس پڑھنے ایک ساتھ جایا کرتے۔ محسن نقوی کی مادری زبان اگرچہ سرائیکی تھی، لیکن وہ شاعری اور ذاکری دونوں اردو زبان میں کرتے تھے۔ وہ سرائیکی لہجے میں نہایت دلکش اردو بولتے تھے۔ انہوں نے اردو ذاکری کو ایک نیا انداز دیا، جس کی ان کے بعد آنے والے بہت سے ذاکروں نے پیروی کی۔
وہ بلا کے خطیب تھے۔ ان کی تقاریر اہلِ بیت کی محبت میں کہے گئے اشعار سے لبریز ہوتیں۔ وہ مجمع کو مسلسل متوجہ رکھتے اور سامعین کو اپنے ساتھ لے کر چلتے۔ وہ درویش صفت انسان تھے اور سردی گرمی کی پروا کیے بغیر ذکرِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کرتے رہے۔ ان کی آڈیو اور ویڈیو کیسیٹس خوب فروخت ہوتیں۔ ہم بھی اکثر گھر میں ان کی تقاریر کی ویڈیوز دیکھا کرتے تھے۔
وہ اپنی تقاریر میں اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کو بھی للکارتے تھے، جس کے باعث وہ زیرِ عتاب بھی رہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں پنپنے والی اس مذہبی انتہاپسند جماعت کو ہمیشہ بھرپور اور مدلل جواب دیا جو سرِعام تکفیریت کے نعرے لگاتی تھی۔
ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو، یعنی ان کی شاعری، بالکل مختلف تھا۔ وہ ایک رومانوی شاعر تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں محبوب، ہجر و وصال، انتظار، رتجگے، بے چینی اور بے قراری نمایاں موضوعات تھے۔ یہی وجہ تھی کہ نوجوان طلبہ و طالبات شوق سے ان کی کتابیں خرید کر پڑھتے تھے۔ ان کی کتابیں اس دور کے معروف شعرا احمد فراز اور پروین شاکر سے بھی زیادہ تعداد میں فروخت ہوتیں۔
وہ اپنی کتابوں کو اپنی اولاد کہا کرتے تھے۔ باباجی بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی تمام کتابوں کے نام اشاعت سے بہت پہلے ہی سوچ رکھے تھے۔ طلوعِ اشک اور عذابِ دید جیسے خوبصورت نام دے کر انہوں نے شعری مجموعوں کے نام رکھنے میں بھی ایک نیا رجحان قائم کیا۔
اگرچہ وہ ایک بے حد مقبول شاعر تھے، لیکن اپنی مذہبی مصروفیات کے باعث کم ہی مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ نوّے کی دہائی میں ایک بار وہ رات گئے ہمارے گھر آئے اور کافی دیر تک گھنٹی بجاتے رہے، لیکن کسی نے دروازہ نہ کھولا اور وہ ہم سے ملے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ اس واقعے کا مجھے آج تک افسوس ہے۔ اگرچہ میں نے انہیں مجالس میں دیکھا تھا، لیکن ان سے بالمشافہ ملاقات میری حسرت ہی رہی۔
یہ خوبصورت انسان 15 جنوری 1996 کو مون مارکیٹ ، لاہور میں ایک مذہبی انتہاپسند جماعت کے دہشت گردوں کے ہاتھوں صرف انچاس برس کی عمر میں قتل کر دیا گیا۔ محسن نقوی اگرچہ ایک زود گو شاعر تھے اور بہت کچھ لکھ کر گئے، لیکن اگر وہ مزید زندہ رہتے تو میدانِ ادب کو اور بھی بہت کچھ دے سکتے تھے۔
آج بھی بہت سے شاعر اور ذاکر ان کے انداز کی پیروی کرتے ہیں، لیکن ان کا خلا شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔
فیس بک کمینٹ

