تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔کیا عمران خان کورونا وائرس بحران میں غریب ممالک کے نمائیندہ لیڈر بن سکتے ہیں؟

ایک طرف وزیر اعظم عمران خان قومی لیڈر سے عالمی سطح کا رہنما بننے کی تیاری میں ہیں جس کا نقطہ آغاز ان کا تازہ ترین ویڈیو پیغام ہوسکتاہے۔ تو دوسری طرف جہانگیر ترین کے ساتھ شروع ہونے والا تنازعہ ملک کے اندر سیاسی کشمکش کے نئے پہلوؤں کو سامنے لایا ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اپنے وفادار ساتھیوں کی قربانی دے کر عمران خان قومی سطح پر احترام و اعتماد جیت سکیں اور اس ٹھوس قومی حمایت کی بنیاد پر عالمی سطح پر غریب ملکوں کی آواز بن کر ایک قد آور لیڈر کے طور پر ابھریں؟
قوم سے آج کا ویڈیو خطاب بظاہر پاکستانی عوام سے کیا گیا ہے لیکن اس کا مخاطب دنیا کے ترقی یافتہ امیر ممالک ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت دنیا کے امیر ممالک نے پاکستان جیسے قرضوں کے پھندے میں گرفتار ملکوں کو ریلیف دینے اور عالمی معاشی تحرک کے لئے ٹھوس اقدام نہ کئے تو دنیا ایک ایسی بین الاقوامی کساد بازاری کا شکار ہوگی کہ لوگ گریٹ ڈپریشن کو بھول جائیں گے۔ تقریباً نوّے سال پہلے نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں 29 اکتوبر 1929 کو حصص کی قیمتوں میں اچانک کمی سے لاکھوں سرمایہ دار اور کمپنیاں تباہ ہوگئی تھیں۔ اس دن کو معاشی تاریخ میں ’سیاہ منگل‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا دس برس تک کساد بازاری کا شکار رہی۔ دنیا کی پیداواری صلاحیت پندرہ فیصد کم ہوگئی۔ امریکہ میں بیروزگاری 23 فیصد اور دنیا کے بعض دوسرے ملکوں میں 35 فیصد تک پہنچ گئی۔ بین الملکی تجارت کا حجم پچاس فیصد کم ہوگیا۔
ابھی یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی سطح پر جو معاشی انحطاط شروع ہؤا ہے، اس کے کتنے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ مختلف ممالک کی پیداواری صلاحیت کتنی تیزی سے کورونا وائرس سے پہلے کی سطح پر واپس آسکے گی اور اس بحران سے متاثر ہونے والے ممالک میں کون سر فہرست ہوگا۔ فی الوقت اس وائرس کے علاج پر توجہ مبذول ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس ناگہانی اور عجیب صورت حال سے ہر ملک اپنے طور پر کیسے نمٹتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ ویکسین کی تیاری سے قبل اس وبا کو دنیا سے ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس دوران اس وائرس سے لاحق ہونے والے عارضوں کی کوئی تیر بہدف دوا کی دریافت ہی واحد امید سمجھی جارہی ہے تاکہ دنیا کے لوگ کام کاج پر واپس جاسکیں اور علاج دستیاب ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاسکے۔ حیرت انگیز طور پر انسانوں میں قوت مدافعت بھی اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے جب اس وائرس کوبڑے پیمانے پر پھیلنے اور لوگوں کے نظام کو اس کے خلاف لڑنے کے قابل بننے کا موقع دیاجائے گا۔ وبا کا پہلا ہلاکت خیز مرحلہ عبور کرنے کے بعد ہی نئی حکمت عملی کے بارے میں کوئی رائے سامنے آسکے گی۔
اس دوران ہر ملک کی قیادت اور عالمی ادارے یکساں طور سے پوسٹ کورونا عہد میں رونما ہونے والے معاشی اثرات سے نبرد آزما ہونے کے بارے میں غور و فکر کررہے ہیں۔ ابھی یہ طے نہیں ہے کورونا کی وجہ سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو کیسے پورا کیا جائے گا۔ غریب ممالک کی قیادت توقع کررہی ہے کہ امیر ممالک کی طرف سے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے انہیں مراعات دی جائیں گی تاکہ ان کی معیشتیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں جبکہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک صرف اسی صورت میں کوئی رعایت دینے کی پوزیشن میں ہوں گے جب خود ان کی معاشی حالت بہتر ہوگی، پیدا واری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور کورونا کے سبب بیروزگاری میں اچانک اضافہ پر قابو پایا جاسکے گا۔ یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وبا ختم ہونے کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک میں سارے تجارتی و صنعتی ادارے سابقہ گنجائش کے مطابق کام کرنے لگیں گے ۔ اس طرح موجودہ بیروزگاری عارضی ثابت ہوگی۔ اسی صورت میں یہ امید کی جاسکے گی کہ یہ ممالک غریب اور مقروض ملکوں کے لئے مراعات کے منصوبوں کا آغاز کریں۔
غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ایک امید یہ بھی ہوگی کہ ترقی یافتہ دنیا میں اجناس اور مصنوعات کی مانگ معمول پر آنے کے بعد غریب ملکوں کی مصنوعات بہتر شرائط پر خریدنے کا سلسلہ شروع ہوگا ۔ اس طرح سب مل جل کر کرہ ارض کے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ان سب امکانات کا انحصار اس بات پر ہے کہ کووڈ۔19 نامی وائرس سے پھیلنے والی وبا کو کتنی جلدی ختم کیا جاسکتا ہے اور اس سے ہونے والے انسانی و معاشی نقصان کو کیوں کر محدود کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کوئی بھی ماہر کسی ڈرامائی قیاس آرائی کا حوصلہ نہیں کرتا۔
عالمی بنک نے جنوبی ایشیائی ملکوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پونے دو ارب آبادی کے حامل جنوبی ایشیائی ممالک میں گزشتہ 40 برس کے دوران ہونے والی ترقی و معاشی استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان پر مشتمل اس خطے کی کثیر آبادی ہے۔ ان ممالک میں پہلے ہی غربت کی سطح سے کم پر گزر بسر کرنے والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہے۔ کورونا وائرس کے معاشی اثرات کی وجہ سے جب ان ممالک کی پیداواری صلاحیتیں کم ہوں گی تو غربت اور بیروزگاری بڑھے گی، غریب کے غریب تر ہونے اور معاشی حالات ابتر ہونے کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔
عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اسی ممکنہ صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ترقی یافتہ امیر ممالک نے غریب ملکوں کو دیے گئے قرضوں میں سہولت فراہم نہ کی اور ان کی شرائط نرم نہ کی گئیں تو اس سے پیدا ہونے والا بحران پوری دنیا میں کساد بازاری کا سبب بن جائے گا۔ اس دعویٰ کو اصول معیشت کی بنیاد پر ثابت کرنے کا کوئی ٹھوس جائزہ ابھی تک موجود نہیں ہے لیکن یہ امکان ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے جائزوں اور مشوروں کی روشنی میں جلد ہی امیر اور غریب ممالک کے لیڈروں میں اس سوال پر بات چیت ہو اور کمزور معیشتوں کے لئے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ عمران خان کی تقریر سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس مرحلے پر غریب دنیا کے پرجوش لیڈر اور طاقت ورآواز بن کر سامنے آنا چاہتے ہیں۔
یہ ایک جائز اور قابل فہم خواہش ہے کیوں کہ پاکستانی معیشت مزید قرضوں کی محتاج ہے۔ پاکستان ادائیگی و سود میں رعایت کے بغیر موجودہ معاشی دباؤ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ لیکن کیا ایک ایسا لیڈر جو قومی سطح پر تنازعات اور سیاسی اختلافات کا شکار ہو، اور عالمی سفارت کاری میں اس کا تجربہ محدود ہو اور معاشی معاملات میں اس کی استعداد نہ ہونے کے برابر ہو، علاقائی یا عالمی سطح پر قیادت کا مضبوط امید وار ہوسکتا ہے۔ بھارت عمران خان یا کسی بھی پاکستانی لیڈر کے ایسے کسی خواب کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنے گا۔ عمران خان ریجن یا ممالک کے کسی گروہ کی قیادت کے لئے دو بنیادی تقاضے پورا نہیں کرتے۔
اوّل تو انہیں قومی سطح پر متفقہ لیڈر کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ سیاسی اپوزیشن کے علاوہ اب ان کی پارٹی میں ان کے اپنے ہی ساتھی ان کے خلاف محاذ آرائی پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان نے اس تصادم کو کم کرنے، اس کے نقصان کو سمجھنے یا اس سے نجات کا کوئی متوازن راستہ تلاش کرنے کی بجائے یہ نوٹس دیا ہے کہ 25 اپریل کو فورنزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد وہ ان تمام عناصر کے خلاف کارروائی کریں گے جو نام نہاد شوگر یا بلیک مارکیٹنگ مافیا کا حصہ ہیں۔ یہ اعلان مقبول تو ہوسکتا ہے لیکن سیاسی استحکام کا راستہ نہیں ہے۔
دوئم بھارت کے ساتھ براہ راست تنازعہ کا شکار ہونے کی وجہ سے کسی پاکستانی لیڈر کو متفقہ حیثیت حاصل نہیں ہوسکتی۔ ممالک کا کوئی بھی گروہ پاکستان اور بھارت کے تنازعہ میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت پر تیار نہیں ہوگا۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں تعاون کی تنظیم سارک ، ان دونوں ممالک کے تنازعہ ہی کی وجہ سے غیر فعال اور غیر مؤثر ہے۔ کورونا وائرس پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ سارک ممالک کے سربراہان کی ایک ویڈیو کانفرنس بلوائی تھی۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اس میں شرکت سے گریز کرکے باقی لیڈروں کے ساتھ مواصلت کرنے اور انہیں اپنے مؤقف کا حامی بنانے کا سنہری موقع خود ہی ضائع کردیا۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے بلائی گئی اس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھا کر پاکستان کی پوزیشن کو کمزور کیا۔ سارک ابھی تک پاک بھارت تنازعہ کے سبب کورونا کے معاملہ پر بھی تعاون کے کسی منصوبہ پر متفق نہیں ہوسکی۔
عمران خان کو اقتدار سنبھالے ابھی انیس بیس ماہ ہوئے ہیں۔ عالمی سیاست اور سفارت کاری میں ان کا تجربہ محدود ہے۔ اس پر بھارت جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے عمران خان کو جوشیلے اور جذباتی لیڈر کی شہرت تو حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں معاملہ فہم اور مصالحت کا راستہ تلاش کرنے کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ وہ اختلافات کے باوجود مشترکہ مقاصد کے لئے کوئی پلیٹ فارم استوار کرنے کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور نہیں ہیں۔ کسی بھی عالمی کردار کے لئے پہلے انہیں قومی سطح پر اور پھر جنوبی ایشیا میں اپنا لوہا منوانا پڑے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker