تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : بھارتی مسلمانوں کی کسمپرسی اور عمران خان کا مہنگائی شو

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتہاپسند ریاستی حکومتیں مسلمانوں کا احتجاج دبانے کے لئے ان کے گھروں کو مسمار کرنے کی منظم پالیسی پر عمل کررہی ہیں لیکن کوئی عدالت اس غیر آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے خلاف ریلیف دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے سازش، کرپشن اور نیوٹرل کے ہتھکنڈے آزمانے کے بعد مہنگائی کو سیاسی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اتوار کی رات کو حکومت کے اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا جائے۔
ان دو ملکوں میں ہونے والے ان دو اقدامات کا بظاہر ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن یہ دونوں واقعات برصغیر کے ان دو ہمسایہ ملکوں میں منفی سیاسی رویوں کی ایک روشن مثال ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت اور بھارتی جنتا پارٹی منظم منصوبہ بندی کے ذریعے ملکی اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کی آزادی اور بنیادی حقوق سلب کرنے کا اقدام کررہی ہے لیکن اسے عالمی سطح پر کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی مباحثہ میں رسول پاک ﷺ کے بارے میں گستاخانہ گفتگو کی ۔ یہ خبر عرب ممالک تک پہنچی تو متعدد مسلمان ممالک نے اس پر احتجاج کیا اور بھارت سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خلیجی ممالک سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم بھی شروع کی گئی۔ عرب مسلمان ممالک کا یہ احتجاج ایک دو روز خبروں میں رہا۔ حکومت نے نوپور شرما اور ایک دوسرے لیڈر کی پارٹی رکنیت معطل کرکے اس معاملہ سے اپنی بریت کا اعلان کردیا۔ مزید اطمینان دلانے کے لئے نوپور شرما کے خلاف مقدمہ قائم کرکے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا گیا۔ اس کے بعد نہ عرب ممالک کے احتجاج کی کوئی خبر ملی اور نہ ہی بھارت کو پیش آنے والی کسی سفارتی یا معاشی پریشانی کی کوئی خبر سامنے آئی۔ حتی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس اہم وقوعہ پر کوئی بیان دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔
عرب ممالک نے بھی شاید اسی میں بہتری سمجھی کہ وہ بھی دنیا کی واحد ’سپر پاور‘ امریکہ کی طرح احتجاج پر بھارتی رد عمل کو خاطر خواہ سمجھ کر اس معاملہ کو فراموش کردیں۔ کیوں کہ ان ممالک کے بھارت کے ساتھ جڑے مفادات شاید ان مفادات سے کہیں زیادہ گہرے اور ضروری ہیں جو عرب ممالک کو بھارتی صنعتی و زرعی مصنوعات کی برآمد کے علاوہ وہاں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی باشندوں کے روز گار اور زرمبادلہ کی فراہمی کی صورت میں نئی دہلی کی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہذا اس معاملہ پر کچھ احتجاج اور کچھ سفارتی کوششوں سے ’اتفاق رائے ‘ پیدا کرلیا گیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ضرور شدید احتجاج بھی کیا، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کرکے بھارت کو جوابدہ بنانے کی کوشش بھی کی۔ لیکن ان دونوں ملکوں کے ایک دوسرے کے خلاف احتجاج اور مذمت کے بارے میں پوری دنیا وہی رویہ اختیار کرتی ہے جو محلے کے بڑے بوڑھے گلی میں لڑنے والے دو بچوں کی لڑائی کے دوران اپناتے ہیں۔ دنیا کا خیال ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح یہ دونوں ممالک باہمی تعلقات کے حوالے سے اس قدر بچگانہ اور غیرسفارتی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ انہیں ان کے حال پر ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ خاص طور سے بھارتی حکومت کی زیادتیوں کے خلاف پاکستان کا احتجاج صدا بہ صحرا ثابت ہوتا ہے۔
البتہ بھارت کے مسلمانوں میں توہین مذہب کے واقعات اور رسول پاکﷺ کے بارے میں حکمران جماعت کے گستاخانہ تبصروں کے سبب شدید بے چینی اور پریشانی پائی جاتی ہے۔ وہ بی جے پی کی متعصبانہ ہندو انتہاپسندانہ پالیسیوں کی بھاری قیمت بھی ادا کررہے ہیں۔ ان میں تازہ ترین اضافہ احتجاج کرنے والے لوگوں کے گھرمسمار کرنے کی کارروائیوں کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔ نوپور شرما کے شرمناک اور دل آزاری پر مبنی بیان کے بعد گزشتہ دنوں مسلمانوں نے متعدد شہروں میں شدید احتجاج کیا ۔ اس کا جواب دینے کے لئے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور آسام میں درجنوں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کردیا گیا ہے۔ تمام قانون دان اس حکومتی اقدام کو غیر آئینی اور شہری آزادیوں پر حملہ قرار دے رہے ہیں لیکن کسی عدالت نے ابھی تک ایسے کسی عمل کے خلاف کوئی درخواست سماعت کے لئے منظور نہیں کی۔
ایک مسلمان مبصر عاصم علی نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ’ گھر مسمار کرنے کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔ گھر گرانے کا عمل خاص طور پر سفاکانہ ہے کیونکہ گھر سلامتی کی علامت ہوتے ہیں۔ ایک گھر بنانے میں پوری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس اقدام سے ریاست ملک کی پوری مسلم سول سوسائٹی کو پیغام دے رہی ہے کہ آپ اپنے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے دباؤ ڈالنا بند کریں ورنہ آپ کے گھر اور کاروبار بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کر کے ریاست انہیں بتا رہی ہے کہ وہ تمیز میں رہیں یا انہیں سزا دینے کے لیے غیر آئینی طریقے آسانی سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ آئین یا عدلیہ انہیں نہیں بچائیں گے‘۔
اس کا ثبوت احمد آباد ہائی کورٹ نے فراہم بھی کیا ہے۔ اتر پردیش کے شہری جاوید محمد کی رہائش گاہ کو مسمار کرنے کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو مختلف نوعیت کے اعتراضات لگا کر واپس کردیا گیاہے۔ اتر پردیش حکومت نے جاوید محمد کو نو پور شرما کیس میں احتجاج منظم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس دوران ان کا گھر بلڈوزر چلا کر مسمار کردیا گیا۔ میڈیا پر اس ظلم کو براہ راست براڈ کاسٹ بھی کیا گیا اور اس کی بازگشت متعدد عالمی دارالحکومتوں میں بھی سنائی دی۔ سول رائیٹس تنظیمیں چلاتی رہیں کہ کسی کا گھر گرانا صریحاً ظلم اور ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ متعدد سیاسی رہنماؤں اور وکلا نے ان اقدامات پر تنقید کی لیکن اس احتجاج کا کوئی معنی خیز نتیجہ نہیں نکلا۔ مختلف عدالتوں میں دائر کی گئی متعدد درخواستیں تاحال سماعت کے لئے منظور نہیں ہوئیں۔ اس دوران اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے وزرائے اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور شیو راج سنگھ چوہان خود کو باالتریب بلڈوزر بابا اور بلڈوزر ماما کہلوا کر ہندو انتہا پسندوں اور اپنے حامیوں سے داد سمیٹ رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان وزارت عظمی کے دوران دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق کے کسٹوڈین بنے ہوئے تھے۔ وہ اپنی حکومت کی معاشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کبھی مغرب میں اسلاموفوبیا کے خلاف نعرہ بلند کرتے اور کبھی بھارت میں ہونے والے مظالم پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے۔ ان کے دور حکومت میں بھارت نے عیارانہ طریقہ سے متنازعہ مقبوضہ کشمیر کو ’قانونی ‘ طور سے بھارتی وفاق کے زیر انتظام اکائیوں میں تبدیل کردیا۔ مودی حکومت کے اس فیصلہ سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچا۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام درحقیقت اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کے خلاف تھا جن کی بنیاد پر پاکستان کشمیریوں کی خود مختاری اور ان کی رائے کا احترام کرنے کا مقدمہ عالمی فورمز پر پیش کرتا ہے۔ عمران خان کی وزارت عظمی میں مودی حکومت کے کشمیر کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اس اہم اور دو رس اقدام پر احتجاج کرنے اور تواتر سے بیان جاری کرنے کا اہتمام تو کیا گیا لیکن کسی عالمی فورم پر اس غیر قانونی اقدام کے بارے میں کوئی اصولی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ البتہ عمران خان نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک یا اس کے خلاف احتجاج و رد عمل کے تناظر میں کوئی سرگرمی دکھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کیوں کہ انہیں ابھی دنیا کے سامنے ہی نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سامنے اپنا یہ مقدمہ ثابت کرنا ہے کہ ’ان کی حکومت گرانے کی سازش واشنگٹن میں تیار ہوئی تھی اور ڈالروں سے بھرے ہوئے بیگ بانٹ کر مفاد پرست اور بدعنوان سیاست دانوں کو خرید ا گیا تھا تاکہ ان کے خلاف عدم اعتماد لانے پر تیار کیا گیا تھا‘۔
بھاری خسارے کا بجٹ سامنے آنے اور آئی ایم ایف سے مالی تعاون کے لئے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس پر سبسڈی ختم کرنے کے اقدامات کو بھی عمران خان دو ماہ پہلے اقتدار سنبھالنے والی حکومت کی بدعنوانی اور امریکی حکومت کی سازش ہی سمجھتے ہیں تاکہ پاکستانی عوام کو مالی مشکلات میں گھیر کر ان کی آزادی سلب کرلی جائے۔ اسی لئے کبھی وہ ’حقیقی آزادی‘ کے لئے لانگ مارچ کرتے ہیں اور کبھی مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یہ کہہ کر موجودہ حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں کہ یہ لوگ مہنگائی کا راگ الاپتے تھے لیکن اصل مہنگائی کے ذمہ دار یہی ’چور اچکے‘ ہیں۔ قوم بس عمران خان کی قیادت میں اکٹھی ہوکر حکومت کا تختہ الٹ دیں۔
پوچھا جائے کہ وہ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا درد تھا ، وہ کیا ہؤا ؟ بے چارہ عمران خان کیا کرے۔ اپنے لوگوں کو مہنگائی کے خلاف اکسائے یا ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کے گھر مسمارہونے کا مرثیہ پڑھے۔ ان کے مسئلے حل کرنے کے لئے وزارت خارجہ کے ترجمان اور دہائیوں پرانے گھڑے گھڑائے بیانات جو موجود ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی سیاست کا یہی ایک نکتہ مشترکہ ہے۔ دونوں جگہ سیاست دان عوام کا استحصال کرنے، انہیں بے وقوف بنانے اور نعرے بازی سے امیدوں کے دیے روشن کرنے کے سوا کوئی کام کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ پاکستان اور بھارت میں البتہ یہ فرق ہے کہ ہمسایہ ملک کی معیشت ٹھوس بنیادوں پر استوار ہے اور دنیا اس کے ساتھ تعاون پر آمادہ و تیار ہے۔ پاکستان قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی مزید قرضے حاصل کرنے اور اپنے عوام کو مہنگائی ، احتیاج اور افلاس کی گہری کھائی میں دھکیلنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ سیاست دانوں کا تماشہ البتہ جاری ہے۔ اس کا ایک نیا شو عمران خان کی اپیل پر 19 جون کو پیش کیا جائے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker