یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔
پیر, جون 8, 2026
تازہ خبریں:
- آزاد کشمیر : عوام اور پولیس میں جھڑپیں، تین پولیس اہلکار ہلاک، 50 افراد زخمی: کمشنر راولاکوٹ
- آزاد کشمیر میں تصادم سے گریز کی ضرورت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات
- گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم
- مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے
- خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم
- عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت
- پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
- پاکستان کے ساتھ نرمی ؟ برملا/نصرت جاوید کا کالم
- معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
