مظفر آباد : پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جن میں ایک سب انسپکٹر رینک کا افسر بھی شامل ہے۔
راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ پولیس کی طرف سے جو رپورٹ دی گئی ہے اس کے مطابق مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مظاہرین ہسپتال کے باہر شاہ زیب کی لاش کو رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک وہ لاش کو نہیں دفنائیں گے۔‘
کمشنر راولاکوٹ کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں 13 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں گولیاں لگی ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک اور زخمی پولیس اہلکاروں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس سے ہے۔
یاد رہے کہ کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کو احتجاج کی کال کے پیشِ نظر مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
مظفر آباد اور دیگر شہروں میں پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
سنیچر کو کریک ڈاؤن کے دوران راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔
کمشنر راولاکوٹ نے تصدیق کی کہ ’ان جھڑپوں کے دوران جو سویلین زخمی ہوئے ہیں وہ شیلنگ کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اس وقت وہاں پر حالات نارمل ہیں اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں رکی ہوئی ہیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

