آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں حالات تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کا مظاہرہ گزشتہ روز ایکشن کمیٹی کے ایک کارکن کی ہلاکت کی صورت میں بھی ہؤا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی راولا کوٹ میں ایک کارکن کی ہلاکت کا الزام پولیس پر عائد کرتی ہے جبکہ پولیس اسے باہمی تنازعے کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ تاہم سیاسی لیڈروں نے مسائل کو سلجھانے کی بجائے الجھانے کی جو کوشش کی ہے، اس کی وجہ سےایسے سانحات بداعتمادی اور ناراضی کی فضا پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایکشن کمیٹی گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے معاہدے کے مطابق مہاجر کشمیریوں کے لیے مختص کی گئی ریاستی اسمبلی کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے بصورت دیگر 9 جون سے غیر معینہ مدت تک کے لیے مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھروں میں خوراک و پانی کا ذخیرہ کرلیں۔ اس اعلان کا مقصد یہی ہے کہ ایکشن کمیٹی نے بات چیت یا کسی مفاہمت کے امکانات ختم کرکے یک طرفہ طور سے حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ پہیہ جام ہڑتال کے ذریعے ریاست میں معمولات زندگی معطل کردیں گے۔
اسی دھمکی سے گھبرا کر آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی اور اس کے لیڈروں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ کچھ عرصہ قبل منظم ہونے والی ایک عوامی تحریک ہے جس نے گزشتہ سال مؤثر ہڑتال کے ذریعے بجلی اور گندم کی رعائیتی قیمتیں حاصل کرنے کے مطالبے پورے کرائے تھے۔ اسی موقع پر حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں ایک ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق ہؤا تھا جو باقی ماندہ مطالبات پورے کرانے میں کام کرنے کا پابند تھا۔ تاہم فریقین میں ان کشمیری مہاجرین کی نمائیندگی کے سوال پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا جو درحقیقت پاکستان میں رہتے ہیں لیکن انہیں آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں نہ صرف ووٹ کا حق حاصل ہے بلکہ وہ خود رکن منتخب ہوکر ریاست کی سیاست پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس طریقہ کو کشمیری عوام کے حق کے خلاف سمجھتی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ اس آئینی شق کو ختم کیا جائے اور آزاد کشمیرمیں رہنے والے لوگوں ہی کو اپنے معاملات پر رائے دینے کا حق حاصل ہو۔ اس تنازعہ کی حقیقی بنیاد دو نکات پر استوار ہے۔ ایک یہ کہ پاکستان کے کشمیر مہاجروں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو دیگر ارکان کی طرح مالی وسائل بھی ملتے ہیں جو پاکستان میں ہی صرف کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کا خصوصی کوٹہ بھی حاصل ہے۔ معترضین کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ لوگ سہولتیں تو پاکستان میں حاصل کرتے ہیں لیکن اپنی سیاسی پوزیشن کی وجہ سے ریاست میں آباد عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس تنازعہ کی دوسری اہم وجہ ان 12 نشستوں کی سیاسی اہمیت ہے۔ ایکشن کمیٹی اور ان کے ہمنوا لوگوں کا خیال ہے کہ ان سیٹوں کو آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مقصد کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ ان دلائل کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ مطالبہ ماننے سے کشمیریوں کا اتحاد متاثر ہوگا جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے آزاد کشمیر میں حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق ایک ایسے گروہ کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قوانین کا استعمال، جو سیاسی اور سماجی و معاشی مطالبات کے لیے متحرک رہا ہے، سنگین سوالات جنم دیتا ہے۔کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں پُرامن اجتماع اور اختلافِ رائے کے لیے گنجائش میں کمی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات شہری آزادیوں پر ممکنہ قدغن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب جولائی میں کشمیر میں انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ انتہائی ضروری ہے کہ بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ان حقوق میں اظہارِ رائے کی آزادی، تنظیم سازی کا حق اور پُرامن اجتماع کا حق شامل ہیں۔کمیشن کے مطابق جمہوری عمل کی ساکھ کے لیے یہ لازم ہے کہ شہریوں کو کسی خوف کے بغیر اپنے خیالات کے اظہار اور پُرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔
تاہم آزاد کشمیر حکومت کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی احتجاج کے نام پر شہری زندگی معطل کرنے اور عوام کو مشکلات میں دھکیل کر درحقیقت انتہاپسندانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مہاجر کشمیریوں کے لیے مخصوص نشستوں میں کمی کی پیش کش کی تھی لیکن ماضی میں عوامی طاقت کا بھرپور اور کامیاب مظاہرہ کرنے کے زعم میں ایکشن کمیٹی نے اس سوال پر کوئی لچک نہیں دکھائی اور 9 جون سے پہیہ جام ہڑتال کی ضد پر قائم ہے۔ اس دوران آزاد کشمیر کے صدر نے سپریم کورٹ سے ایک ریفرنس میں اس معاملہ پر آئینی رائے طلب کی تھی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے یہ رائے آنے تک احتجاج ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اب صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کہا ہےکہ ان 12 نشستوں کے خاتمے یا اس ضمن میں کوئی اور اقدام کرنے کے لیے آئین کے سیکشن 33 میں ترمیم ناگزیر ہے۔ عدالت کے خیال میں اس ترمیم کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی منتخب قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں جولائی کے دوران انتخابات منعقد ہوں گے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی اختلافات انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔اپنی رائے میں عدالت نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ منتخب ایوان میں ہونا چاہیے اور کسی فرد کا اپنے حق کے لیے احتجاج دوسروں کے حقوق سلب کرنے کا باعث نہیں بننا چاہیے۔آئین میں تبدیلی کا راستہ ووٹ اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والا منتخب ایوان ہے۔سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے آئینی ترامیم نہیں کی جا سکتیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ احتجاج ایک جمہوری حق ہےتاہم اس حق کے استعمال کے لیے سڑکوں کی بندش، جس سے عام شہری کی زندگی متاثر ہو یا ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو، اس کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ آئین۔
یوں اگرچہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کے پرامن حل کا حق تسلیم کرلیا ہے لیکن اسے آئیندہ منتخب اسمبلی تک مؤخر کرنے کی رائے بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی احتجاج کا حق تسلیم کرنے کے باوجود موجودہ احتجاجی طریقے کو یہ کہتے ہوئے مسترد بھی کیا ہے کہ آئینی فیصلے سڑکوں پر نہیں ہوسکتے۔ البتہجوائنٹ ایکشن کمیٹی ابھی تک اس اصول پر متفق دکھائی نہیں دیتی ۔ وہ بضد ہے کہ یا تو اس کی بات مانی جائے یا وہ پیر سے احتجاج کا سلسلہ شروع کرے گی۔ اس ہڑتال کے دوران ممکنہ تصادم سے نمٹنے کے لیے آزاد کشمیر میں رینجرز تعینات کیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت سے اضافی پولیس فورس بھی طلب کی گئی ہے۔ تاہم آزاد کشمیر میں مہاجر کشمیریوں کے حق نمائیندگی کے اصول پر افہام و تفہیم کی بجائے تصادم کا راستہ افسوسناک اور تکلیف کاسبب ہوگا۔
آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے ایکشن کمیٹی پر پابندی اور اسے دہشت گرد گروہ قرار دینے کی کوشش ایک ناجائز ہتھکنڈا ہے لیکن دوسری طرف ایکشن کمیٹی کو بھی اپنی عوامی قوت کو کسی آئینی معاملہ کے حل پر صرف کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی عوامی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی ۔ اسے سیاسی سوالات میں الجھا کر اس کی حقیقی ضرورت سے گریز کیا جارہا ہے۔ کشمیری عوام کی اکثریت کو پاکستان میں رہنے والے کشمیری مہاجرین کی نشستوں اور اس پر ہونے والے مباحث سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یوں بھی اس سوال کا حل سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے نکالنا چاہئے۔ اگر ایکشن کمیٹی سیاسی کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو بہتر ہوتا کہ وہ پہلے سیاسی جماعت کے طور پر انتخابات میں شریک ہوتی۔ دوسری طرف یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

