لاہور: معروف اداکار ، کمپئیر ، ادیب اور شاعر طارق عزیز حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔ طارق عزیز نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور 1975 میں شروع ہونے والے پروگرام ‘نیلام گھر’ نے طارق عزیز کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔معروف ادیب و سیاست دان طارق عزیز کو حکومت پاکستان نے 1992ء میں حسنِ کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا۔طارق عزیز نے کئی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ہیں جب کہ یہ 1997 سے 1999 تک سابق رکن قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہی۔
طارق عزیز کی عمر 84 برس تھی۔جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز نے اپنے کریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا تھا اور 1964 میں جب پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو وہ وہاں کام کرنے والی اولین شخصیات میں سے ایک تھے۔
طارق عزیز نے پاکستان ٹیلیویژن کی پہلی نشریات کی میزبانی بھی کی تھی۔انھیں اصل شہرت پاکستان ٹیلیویژن پر 1975 میں شروع ہونے والے پروگرام ’نیلام گھر‘ سے ملی۔40 برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے اس پروگرام کو بعدازاں ’بزم طارق عزیز‘ کا ہی نام دے دیا گیا تھا۔
طارق عزیز نے ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ فلموں میں بھی کام کیا تھا۔ ان کی مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی اور ہار گیا انسان شامل ہیں۔پاکستان کی حکومت نے طارق عزیز کی خدمات کے صلے میں انھیں 1992 میں صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔طارق عزیز کے کالموں کا مجموعہ ’داستان‘ کے نام سے جبکہ پنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’ہمزاد دا دکھ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔
طارق عزیز نے سیاست کے میدان میں بھی زورآمائی کی تھی اور جہاں زمانۂ طالبعلمی میں وہ پاکستانی پیپلز پارٹی کے حامی تھے وہیں 1997 میں وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
طارق عزیز کی وفات کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ طارق عزیز ٹرینڈ کرنے لگا اور صارفین نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتی ہوئے نیلام گھر شو سے وابستہ اپنی یادوں کا تذکرہ بھی کیا۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے طارق عزیز کی وفات پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنے وقت کے آئیکون اور ٹی وی گیم شوز کی بنیاد رکھنے والے تھے۔
ٹی وی میزبان اور اداکار واسع چوہدری نے طارق عزیز کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اپنے پروگرام میں اگر کبھی کسی مہمان سے پروگرام کا آغاز کرنے کی درخواست کی تو وہ صرف طارق عزیز سے ہی کی تھی۔ان کے مطابق اگرچہ ضعیف العمری کی وجہ سے مائیک تھامتے ہوئے طارق عزیز کے ہاتھ کپکپا رہے تھے لیکن جیسے ہی کیمرہ آن ہوا ان کی وہی آواز بلند ہوئی جو ان کا ٹریڈ مارک بن چکی تھی۔اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان صنم بلوچ نے لکھا: ‘ایک اور لیجنڈ آج ہمیں چھوڑ گیا۔ ہم سب ان کا شو دیکھتے بڑے ہوئے۔’گلوکار علی ظفر نے لکھا:’ہم اپنے ہیروز کو بہت جلد بھول جاتے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔’صارف فرخ شہزاد نے لکھا کہ ’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آج ہم سب نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کھو دیا۔سلمان صوفی فاؤنڈیشن کے بانی سلمان صوفی نے لکھا: ‘طارق عزیز جدید دور کے کوئز شوز کے بانی تھے۔ انھوں نے بہت سے لوگوں کو خوش کیا اور صرف یہی چیز اہمیت رکھتی ہے۔‘موسیٰ چیمہ نے لکھا کہ ’ایک ایسا لیجنڈ دنیا سے چلا گیا جو اپنی ذات میں خود ایک دنیا تھا۔’
فیس بک کمینٹ

