کالملکھاریوجاہت مسعود

ایئر مارشل اصغر خان کا بعد از مرگ اعزاز۔۔تیشہ نظر/وجاہت مسعود

آئیے کچھ دل کی باتیں کر لیں۔ پھر التفات دل دوستاں رہے، نہ رہے۔ آزادی کے بعد سات عشروں میں پاکستان کے شہریوں کی خوب منجھائی ہوئی۔ عوض طرب کے گزشتوں کا ہم نے غم کھینچا۔ جاننا چاہیے کہ شمال مغربی ہندوستان میں جدید سیاسی روایت کمزور تھی۔ جنوب اور مشرقی ہندوستان میں سیاسی اور تمدنی ارتقا ایک صدی آگے تھا۔ ٹھیک وہی ایک صدی جو جنگ پلاسی (1757) اور ہندوستان پر غیرملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کی آخری کوشش (1857) میں حائل تھی۔ نتیجہ یہ کہ ملک آزاد ہوا تو ہم ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح مئی 1947ئ میں پاکستان کے دستوری بندوبست اور سیاسی نظام کے بارے میں کیا فرما رہے تھے، ہمارے فرشتوں کو خبر نہیں تھی۔ ہم تو نعروں کی قافیہ پیمائی کر رہے تھے۔ ہمیں ایک آزاد قومی ریاست اور متنوع وفاق کے تقاضوں سے کچھ غرض نہیں تھی۔ سچ پوچھیے تو ہم نے نئی مملکت میں اپنا سفر چرب زبانی کی مشق سے شروع کیا۔
شنید ہے کہ محترم امجد سلیم علوی اپنے والد محترم مولانا غلام رسول مہر کے 1947 کے تاریخ ساز برس میں لکھے اداریوں کی تدوین کر رہے ہیں۔ یقین ہے کہ چار دہائیوں کی صحافتی اور سیاسی ریاضت کے اس نچوڑ تک رسائی سے ہمارے اساسی ارتقا کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ شاید مولانا مہر کی درد مند تحریروں سے ہم یہ بھی جان سکیں کہ ان دنوں ہمارے ان اہل دانش کی صفوں میں یکایک ملال، خود الزامی اور مذمت کا موسم کیوں اتر آیا ہے جو صرف ایک برس قبل ہمیں رحمت خداوندی کے پھول برسنے کی خوش خبری سنا رہے تھے۔ جدید انسانی معاشرہ پیچیدہ مظہر ہے۔ اس کی تفصیل پر توجہ دیے بغیر سادہ نتائج نکالنے کی ہر کوشش ماتم یک شہر آرزو پر ختم ہوتی ہے۔
اجازت دیجئے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی اس تقریر کے ابتدائی کلمات دہرا لوں جو انہوں نے 24 اکتوبر 1947 کو جامع مسجد دہلی کے منبر سے سراسیمہ مسلمانوں کے سامنے کی تھی۔ درویش بے نشاں جب بھی اس تقریر کا متن پڑھتا ہے، اس کی متزلزل انسانیت کو قرار سا آ جاتا ہے۔ احساس ہوتا ہے کہ سیاسی موقف کی اصابت آشکار ہونے پر بھی رائے کا توازن اور لہجے کا اعتدال قائم رہے، اسی سے تدبر، ظرف اور بلند نگاہی کا نشان ملتا ہے۔
مولانا محترم نے فرمایا…. ’عزیزانِ گرامی۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ کون سی زنجیر ہے جو مجھے یہاں لے آئی ہے…. میں نے اِس زمانہ میں بھی، کہ اِس پر لیل و نہار کی بہت سی گردِشیں بیت چکی ہیں، تمہیں خطاب کیا تھا۔ جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائے اطمینان تھا اور تمہارے دِلوں میں شک کی بجائے اعتماد۔ آج تمہارے چہروں کا اضطراب اور دِلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے بے اختیار پچھلے چند سالوں کی بھولی بسری کہانیاں یاد آ جاتی ہیں۔ تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری زبان کاٹ لی۔ میں نے قلم اٹھایا اور تم نے میرے ہاتھ قلم کر دئیے….‘ اور پھر آب زر سے لکھے جانے کے قابل دو جملے…. ’جس طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے تمہارا جوش و خروش بے جا تھا۔ اسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بے جا ہے…. یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اِسی کے لئے ہیں اور اِس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔‘
حضرت مولانا نے یہ جملے ہندوستان کے تناظر میں ادا کئے تھے۔ کیا ہرج ہے اگر ہم بھی یہ سبق سیکھ لیں کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اِس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔ بدترین حالات میں بھی آگے بڑھنے کا راستہ مسدود نہیں ہوتا۔ شرط یہ ہے کہ ہم حال کی متعین تفصیل کو تاریخی شعور کا تناظر دے سکیں۔
آج کے عریضے کی ابتدا میں اس منجھائی کا ذکر آیا جو ہمیں اس لئے بھگتنا پڑی کہ اختر حسین جعفری کے لفظوں میں ’ابھی درس مکتب لحن ہجر تھے کم مرے‘۔ جدید پنجابی شعر کے امام نجم حسین سید نے اسی مضمون کو کس سہولت سے باندھا…. جیہڑے اسی بوہڑ نہ پائے، ساڈی حاضری کھپے نیں۔ (جہاں ہم نے آبلہ پائی میں غفلت کی، وہیں ہماری حضوری میں رخنہ در آیا) سیاسی قیادت کی قدر پیمائی کے آداب سیکھنا بھی اس آزمائش کا ایک حصہ تھا۔ ہم نے اختلاف رائے کو غداری کے الزام سے مملو کر کے ایک غلط روایت قائم کی۔
درویش نے ستر کی دہائی میں وطن عزیز کی سیاست کا مطالعہ شروع کیا تو آج ہی کی طرح قطبیت کا چلن تھا۔ ہم (پنجاب کے غریب قصباتی عوام) بھٹو صاحب سے امیدیں باندھے بیٹھے تھے اور ان کے ہر مخالف کو بدنیت، سازشی اور غدار سمجھتے تھے۔ اس مجادلے میں ایک مرحلہ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کا عسکری قیادت کے نام کھلا خط تھا۔ ہم بزعم خود جمہوریت پسند اس مکتوب کو اصغر خان کی مخالفت میں برہان قاطع کا درجہ دیتے تھے۔ فروری 1981 میں خبر ملی کہ بیگم نصرت بھٹو نے ایم آر ڈی کی تشکیل میں ایئر مارشل اصغر خان کو بھی شامل کیا ہے تو ہمارے دل بیٹھ گئے۔ سرخ و سفید رنگت اور ترشے ہوئے خدوخال والے راو¿ عبدالرشید ہمیں سمجھاتے رہے ’بیٹا، وہ بھی سیاست تھی۔ یہ اس سے بھی بڑی سیاست ہے۔‘
دو دہائیاں گزر گئیں۔ جون 2002 کا آخری ہفتہ تھا۔ سوگوار ایبٹ آباد کی اداس دوپہر میں عمر اصغر خان کو سپرد خاک کرنے جمع ہوئے تھے۔ اس ہجوم میں 81 سالہ محزوں باپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا کہ عمر اصغر پر کیا بیتی۔ اور وہ شخص استقامت کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ ایک غیر ضروری لفظ نہیں کہا۔ تب ہم نے جانا کہ لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کی شہادت راز بن کر کیوں رہ جاتی ہے۔ اسد مینگل اور عمر اصغر کی حکایت کیوں بیان نہیں کی جاتی؟
تعصب کی چادر ہٹی تو ماضی کی ایک ایک تصویر واضح ہوتی چلی گئی۔ ہر جھلک میں اصغر خان کی قامت بلند ہوتی چلی گئی۔ اکتوبر 2012 میں ان کی اس آئینی عرضداشت پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آیا جس میں مرحوم رہنما نے پاکستان کے لوگوں کے حق رائے دہی پر ریاستی ڈاکے کے خلاف داد رسی چاہی تھی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد ہنوز معرض تعطل میں تھا کہ گزشتہ برس 5 جنوری کو ایئر مارشل اصغر خان رحلت فرما گئے۔ اسی برس دسمبر میں ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی کہ اکتوبر 2012 کے فیصلے پر عمل درآمد ممکن نہیں رہا۔ عدالت نے اصغر خان کے پس ماندگان سے استصواب چاہا۔ 10 جنوری 2019 کو خان صاحب کی اہلیہ اور صاحبزادے سمیت جملہ اہل خانہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس معاملے کا منطقی انجام چاہتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اصغر خان کی پہلی برسی کے موقع پر یہ اعلیٰ ترین اعزاز تھا جو پاکستان فضائیہ کے پہلے سپوت ارضی قائد کے حصے میں آیا۔ اصغر خان ہم میں نہیں رہے، لیکن ہمارے حق حکمرانی کے لئے ان کی جدوجہد بدستور ہماری رہنما ہے۔
آج کل خط تنصیف کے پرلی طرف اعترافات کا موسم ہے۔ اس طرف سے بھی ایک انحراف کا اعلان واجب ہے۔ سیاق سباق سے قطع نظر، محترم عمران خان کی حکومت آئینی طور پر قائم ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے ہم وطن پاکستان کے قابل احترام شہری ہیں۔ ان کے مینڈیٹ کے خلاف کسی ریشہ دوانی کی مزاحمت کرنا ہر جمہوریت پسند کا فرض ہے۔ فضائے سیاست پر بدشگونی کے ابتدائی آثار نمودار ہو رہے ہیں۔ دسمبر 2011 میں میمو گیٹ کے کیف و کم سے ماہر قانون اکرم شیخ نے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اس قضیے میں شامل ہونا مسلم لیگ (نواز) کی غلطی تھی۔ مارچ 2018 میں بلوچستان حکومت میں اٹھاپٹخ کا حصہ بن کر پیپلز پارٹی نے اپنے حصے کی غلطی کا ارتکاب کر لیا۔ 2019 کے برس میں جمہوری قوتیں (without prejudice to the shenanigans of the ruling party) اگر آئینی بالادستی اور جمہوری تسلسل کے لئے کمر بستہ ہوتی ہیں تو یہ ہمارے جمہوری ارتقا میں ایک بڑا قدم ہو گا۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker