نالینی سر ہرن ہندوستان میں رہتی ہیں اور اُن کے پاس ایک عجیب و غریب ’اعزاز‘ ہے۔وہ جیل میں سب سے طویل قید کاٹنے والی بھارتی خاتون ہیں، انہیں راجیو گاندھی قتل کیس میں سزائے موت سزا سنائی گئی تھی جسے بعد میں سونیا گاندھی کی درخواست پر عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ نالینی کو اکتیس برس جیل میں گزارنے کے بعد اِس ماہ بھارتی عدالت عظمیٰ کے حکم کے نتیجے میں رہائی نصیب ہوئی ۔ 1991 میں جب انہیں گرفتار کیا گیا تھا تب وہ دو ماہ کی حاملہ تھیں، انہوں نے جیل میں اپنی بچی کو جنم دیا تھا، وہ بچی آج برطانوی شہری ہے اور ڈاکٹر بن چکی ہے۔راجیو گاندھی کو 1991 میں تامل ناڈو میں اُس وقت ایک خود کُش بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے۔موت کے وقت اُن کی عمر چھیالیس برس تھی۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے نالینی کی زندگی کی کہانی شائع کی ہے جس میں بتایا ہے کہ نالینی انگریزی زبان و ادب کی گریجوایٹ تھی اور ایک چنائی میں ایک فرم میں کام کرتی تھی، اُس کا کسی قسم کی سیاسی جماعت یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا، اُس کی زندگی میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب اُس کی ملاقات اپنے بھائی کے دوست سری ہرن سے ہوئی جو سری لنکا کی علیحدگی پسند تحریک تامل ٹائیگرز کا رکن تھا۔اِن دونوں میں محبت ہوگئی اور بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔راجیو گاندھی کو خود کُش دھماکے میں مارنے والی عورت کو بعد میں دھانو کے نام سے شناخت کیا گیا، نالینی نے اِس عورت کو کپڑے خرید کر دیے اور اسے کچھ ساتھیوں سمیت دھماکے سے پہلے راجیو گاندھی کے جلسے تک پہنچایا۔دھماکے کے وقت لی گئی تصاویر میں نالینی کو بھی دیکھا گیا ، اسی شبے میں نالینی کو اُس کے شوہر سری ہرن کے ساتھ چنائی کے ایک بس اڈے سے گرفتار کیاگیا۔نالینی کا راجیو گاندھی کے قتل میں براہ راست ملوث ہونا سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان بھی بحث کا موضوع بنا رہا ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اُس کا راجیو گاندھی کے قتل سے سوائے اِس کے اور کوئی تعلق نہیں تھا کہ وہ غلط لوگوں کے ساتھ غلط وقت اور غلط جگہ پر تھی۔نالینی کی خود نوشت ایک صحافی کی وساطت سے شائع ہوچکی ہے جس میں وہ لکھتی ہے کہ دھماکے کے وقت وہ اُس جگہ سے تقریباً دو سو فٹ دور تھی ، ہر طرف آگ اور دھواں نظر آرہا تھا، لوگ دیوانہ وار بھاگ رہے تھے، میں بھی بہت خوفزدہ تھی اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے ۔جب نالینی پر مقدمہ چلا تو اسے اپنے شوہر سمیت موت کی سزا سنائی گئی جبکہ اُس کی ماں اور بھائی کو بھی ٹرائل کورٹ نے سزائے موت دی جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے ختم کردیا۔نالینی اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ وہ راجیو گاندھی کے قتل کے بارے میں بالکل لا علم تھی، ہم تو اپنے آنے والے بچے کے بارے میں سوچ رہے تھے، اُس کے نام اور مستقبل کے بارے میں باتیں کر رہے تھے، میرا شوہر تو اِس خوشی میں ناچتا گاتا پھر رہا تھا ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم نے اِس حالت میں قتل کی منصوبہ بندی کی ہو، کیاکوئی حاملہ عورت جانتے بوجھتے ہوئے دھماکے کی جگہ پرجائے گی!نالینی لکھتی ہے کہ جیل میں اُس نے بد ترین تشدد بھی سہا، جب اُس کی بچی پیدا ہونے والی تھی تو ایک افسر نے کہا کہ وہ اِس بچی کو دھندے پر لگائے گی، بھلا ایک بچی کا کیا قصور جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی! یہ سوچ کر نالینی نے دو سال بعد اپنی بچی کو جیل سے باہر بھیج دیا۔آج نالینی کی کوشش ہے کہ اُس کا شوہر بھی جلد از جلد جیل سے باہر آجائے تاکہ وہ دونوں اپنی بیٹی کو ملنے برطانیہ جا سکیں۔
جب میں نے یہ کہانی پڑھی تو خود سے سوال کیا کہ نالینی سری ہرن اور راجیو گاندھی میں سے زیادہ بد قسمت کون ہے؟وہ جو بھارت کا پردھان منتری بنا مگر بم دھماکے میں مارا گیا یا وہ عورت جو اُس کے قتل میں دھر لی گئی اور جسے اکتیس سال جیل میں گزارنے پڑے ؟ اِس کہانی میں ایک کردار نالینی کی بیٹی کا بھی ہے ، کسی نے اسے پالا پوسا ، پڑھایا لکھایا اور برطانیہ بھجوادیا۔ ایک ایسی عورت کی بیٹی ،جس کےسارے خاندان کو ہندوستانی وزیر اعظم کے قتل کی سازش میں سزائے موت سنا دی گئی ہو،برطانیہ میں ڈاکٹر بن گئی ۔ اگر ہمیں کسی فلم میں یہ سب کچھ دکھایا جاتا تو ہم کہتےکہ حقیقی زندگی میں یہ نا ممکن ہے کیونکہ حقیقی زندگی میں تو جیل سے باہر آزاد گھومنے والے لوگوں کے بچےاتنے کامیاب نہیں ہوپاتے جتنی نالینی کی بیٹی ہوگئی ۔اِن تمام واقعات کا جواب صرف ایک لفظ سے دیا جا سکتا ہے اور وہ ہے ’قسمت۔‘ چند دن پہلے مجھ سے اسی قسمت کے بارے میں ایک شخص نے سوال کیا تھا جس پر مجھے یہ کہانی یاد آگئی ۔ اِس شخص کومیں جانتا ہوں،اُس نے اپنی زندگی میں وہ تمام کام کیے جو موٹیویشنل سپیکر بتاتے ہیں۔ وہ شخص محنتی ہے ،منکسر المزاج ہے ، اپنے کام کا ماہر اور ہنر مند ہے ،مگر اِن تمام خصوصیات کے باوجود اُس کی زندگی بہت کٹھن ہے ۔جب بھی اسے اپنی محنت کا پھل ملنے لگتے ہے توکوئی نہ کوئی ایسی بات یا واقعہ ہوجاتا ہے کہ اُس کی تمام محنت اکارت ہوجاتی ہے، یوں سمجھیں کہ وہ شخص ایک قدم آگے چلتا ہے تو کوئی طاقت اسے دو قدم پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔سچ پوچھیں تو میرے پاس اسے کہنے کے لیےسوائےاِس کے کچھ نہیں کہ اُس کی قسمت اسے پیچھے دھکیلتی ہے۔
عملیت پسند عموماً بدقسمتی کےنظریات پر یقین نہیں رکھتے ، وہ کہتے ہیں کہ جسے ہم بد قسمتی سمجھتے ہیں اُس کے پیچھے ہماری ناقص منصوبہ بندی ، ایکشن کی کمی ،فیصلہ سازی کا فقدان یا ایسے دوسرے عوامل ہوتے ہیں جنہیں ہم قسمت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔زندگی کی یہ سفاکانہ تشریح ہے آسودہ حال لوگوں کی بنائی ہوئی ہے ،ٹھیک ہے کہ اکثر لوگ آپ کو اپنی زندگی کی پوری کہانی نہیں بتاتے ، وہ صرف اتنا حصہ سناتے ہیں جس میں اُن کی طرف سے کوئی کمی یا کوتاہی نہیں ہوتی اور اُس ادھورے ٹکڑے کی بنیاد پر ہم اور آپ اسے بدقسمت یا خوش قسمت مان لیتے ہیں مگر اِس کے باوجود دنیا ایسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے جو اُن تمام ٹیکسٹ بک طریقوں پر عمل کرنے کے باوجود ناکام ہی رہتے ہیں ۔ اِس کا جواب صرف یہی دیا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگ استثنیٰ ہوتے ہیں۔ نالینی ایک لوئر مڈل کلاس طبقے کی عام سی عورت تھی، بی اے کرنے کے بعد اُس نے ایک دفتر میں ملازمت کرلی، بھائی کا دوست مل گیا تو اُس سے محبت ہوگئی۔ یہ عام لوگوں کی کہانی ہے ، عام لوگ اپنی زندگیاں ایسے ہی سیدھے سادے طریقے سے گزارتے ہیں۔ نالینی اگر کسی کو ساتھ لے کر بازار گئی تھی کہ اسے خریداری میں مدد کرتی تویہ بھی عام بات تھی، اسے کیا علم تھا کہ وہ خود کُش بمبار کو کپڑے خرید کر دے رہی ہے۔اسی کو بد قسمتی کہتے ہیں اور اِس کا کوئی علاج نہیں۔لیکن یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، نالینی ہو یا وہ شخص جس کا زندگی میں کوئی کام سیدھا نہیں ہو پارہا، وہ قسمت کے لکھے کو قبول کرکے ہی آگے بڑھ سکتےہیں۔ نالینی کی قسمت نے اسے جیل بھجوا دیا مگر جیل میں اُس نے کئی ڈگریاں حاصل کیں، یوگا کی ماہر بنی اور لوگوں کو یوگا سکھانا شروع کردیا۔اسی طرح جو لوگ خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں اُن کے پاس یہ آپشن بہرحال موجود ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں اور اِس بات کی پروا نہ کریں کہ قسمت ساتھ دے گی یا نہیں۔ زندگی ہر موڑ پر آپ کو حیران کرتی ہے ، نہ جانے کب کیاہوجائے کوئی نہیں جانتا!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیاکالم)
فیس بک کمینٹ

