اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے میں اِس بات پر غور کر رہا ہوں کہ اگر حماس نے یہ حملہ نہ کیا ہوتا تو کیا فلسطینی آج بھی ویسے ہی مر رہے ہوتے ؟ کیا انہیں امن کی مہلت خرید کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام نہیں کرنا چاہیے تھا؟کیا اپنے بچوں کو تعلیم دلوا کر اِس قابل نہیں بنانا چاہیے تھا کہ جس سے اُن کا مستقبل محفوظ ہوجاتا؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلسطینی چاہے جتنے بھی مظلوم ہوں انہیں اسرائیل جیسی خوفنا ک اور طاقتور فوج کے خلاف مزاحمت نہیں کرنی چاہیے، اِس میں سراسر اُن کا نقصان ہے، انہوں نے مسلح جدو جہد کرکے دیکھ لیا، نتیجے میں ہزاروں ہلاکتیں اُن کے حصے میں آئیں،لہذا اِس صورتحال میں انہیں صبر سے کام لینا چاہیے،وگرنہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی طاقتور اور منظم فوج کے سامنے کوئی بغاوت ٹھہر سکی ہو، ٹیپو سلطان سے لے کر سید احمد شہید تک، یہی داستان ہے جو ہر طرف پھیلی ہے۔سو،ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے ،اگر سبق نہیں سیکھیں گے تو یونہی مرتے رہیں گے جیسے فلسطینی مر رہے ہیں۔اِس نقطہ نظر کے مطابق مظلوم کو ظالم سے براہ راست ٹکر لینے کی بجائے امن کے لیے وقت حاصل کرنا چاہیےاور خواہ مخواہ اپنے کسی اقدام سے دشمن کو اشتعال میں آنے کا موقع نہیں دینا چاہیے ،یہی واحد طریقہ ہے جس سے مظلوم کے حق میں فضا ہموار ہوگی اور بالآخر اسے ظلم سے نجات ملے گی۔
یہ باتیں بے حد مسحور کُن ہیں، کوئی بھی شخص جسے تقریر اور گفتگو کا فن آتا ہو وہ اِن دلائل کی بنیاد پرکسی کو بھی اِس بات پر قائل کر سکتا ہے کہ چونکہ عالمی سیاست میں انصاف کا حصول ایک بے حد مشکل کام ہے لہذا مظلوم کو چاہیے کہ وہ اپنے صبر کی طاقت سے ظالم کو رام کرے اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔میں نے پورے خلوص کے ساتھ کوشش کی کہ اِس نظریے کا حامی بن جاؤں مگرنہ بن سکا۔ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو ہی لے لیں، اگر اسرائیلی حکومت عرب دنیا میں کسی کو اپنا وکیل مقرر کرے جس کا کام غیر محسوس طریقے سے اسرائیل کے حق میں بیانیہ بنانا ہو تو وہ یہی صبر کا بیانیہ ہوگا کیونکہ اسرائیل کو اِس سے زیادہ کوئی بات ’سُوٹ‘ ہی نہیں کرتی کہ فلسطینی صبر کرلیں تاکہ اسرائیل انہیں جب چاہے ،جہاں سے چاہے، بے دخل کردے، اُن کے علاقوں پر قبضہ بڑھاتا چلا جائے اور جب کوئی فلسطینی اِن مظالم کے خلاف پُر امن طریقے سے احتجاج کرےتو اسے ‘حق دفاع ‘ کی آڑ میں خاموشی سے وہیں گولیوں سے بھُون دے۔آپ میں سے جو یہ سمجھتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، اسے چاہیے کہ گزشتہ پچھہتر برس کے اعداد وشمار نکال کر دیکھ لے کہ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں کِس موقع پر کتنے پُرامن فلسطینی بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کیا جنہوں نے اسرائیل کو کسی قسم کا اشتعال بھی نہیں دلایا تھا۔ پچھہتر برس سے صبر کی طاقت آزما کر دیکھ لی ، اب کیا کریں؟
یہ بات بھی خاصی پُر اثر ہے کہ مظلوم اپنے لیے امن کی مہلت حاصل کرکے تعمیر کا کام کرے یعنی اپنے بچوں کی پڑھائی لکھائی پر توجہ دے ، انہیں بی اے، ایم کروائے تاکہ انہیں اچھی نوکری مل سکے ، وہ خوشحال ہو سکیں اور یوں اُن کی زندگی میں گولہ بارود کی جگہ ہی نہ رہے۔اگر یہ منطق درست مان لی جائے تو پھر آج امریکہ سے لے کر آسٹریلیا تک مقامی لوگوں کو اپنی زمین پر حکمران ہونا چاہیے تھاکیونکہ اِن مقامی لوگوں نے تو تعلیم حاصل کی تھی ، اسکولوں کالجوں میں پڑھے تھے، ڈگریاں لی تھیں، مگر اُن کے ساتھ کیا ہوا، اپنے ہی وطن میں اُن پر زمین تنگ کر دی گئی ،کسی قابض طاقت کو اُن پر رحم نہیں آیا۔کیا تاریخ میں کبھی یہ ہوا ہے کہ محض بی اے ،ایم اے کرنے سے کسی قوم کو آزادی مل گئی ہو؟رہی یہ بات کہ گزشتہ دو سو سال میں ہر اُس شخص کو شکست سے دوچار ہونا پڑا جس نے اپنے سے زیادہ طاقتور فوج کے ساتھ ٹکر لی تو گزارش ہے کہ جن لوگوں نے طاقتور فوج سے ٹکر نہیں لی کیا اُن کا انجام مختلف ہوا؟ ٹیپو سلطان کو انگریزوں نے شکست دے کر شہید کر دیاتو کیا یہ سمجھا جائے کہ ٹیپو سلطان نے حماقت کی؟ کیا سلطان کو بھی نواب واجد علی شاہ کی طرح لڑائی کرنے کی بجائے شعر و شاعری اور رقص و سرود کی محفلیں سجا کر انگریزوں کو رام کرنا چاہیے تھا؟ واجد علی شاہ نےتو یہ بھی کرکے دیکھ لیا، کیا لارڈ ڈلہوزی نے اُس کی ریاست بخش دی؟ایک طرف تو ہم مغل نوابوں اور مہاراجوں کو اُن کے عیاش طرز زندگی پر مطعون کرتے ہیں اور دوسری طرف اگر کوئی قابض فوج کے خلاف تلوار اٹھا لے تو کہتے ہیں کہ اسے صبر سے کام لینا چاہیے تھا ، میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کیسی دلیل ہے!اگر ناجائز حکمرانوں اورقابض افواج کے خلاف جدو جہد حماقت ہے تو پھرآئیےاُس دن کا انتظار کرتے ہیں جس دن یزیدکا دل پسیج جائے گا اور وہ شمر کو کہے گا کہ کاش تم امام حسینؓ کا سر کاٹ کر نہ لاتے۔ جو لوگ ’صبر سے کام لو‘ کا درس دے رہے ہیں اُن کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر اُن کی حکمت عملی کا خلاصہ یہ ہے کہ ’میں خلوص نیت سے آپ کی آزادی کا حامی ہوں مگر جو طریقہ کار آپ نے اپنایا ہے اُس سے اتفاق نہیں کرتا۔‘ گویا کسی مظلوم کی آزادی کے وقت کا تعین کوئی اور کرے گا، مظلوم کو یہ حق حاصل نہیں ، مظلوم بس صبر کرے اور اُس وقت تک کرتا رہے جب تک حالات موافق نہ ہو جائیں۔کم از کم فلسطین کے معاملے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حالات کبھی اتنے موافق نہیں ہوں گے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے پُر امن احتجاج کرنے پر گولیاں نہیں چلائے گی۔
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر پوری مغربی دنیا اسرائیل کی بربریت پر خاموش کیوں ہے ؟ اِس سوال کا جواب حماس کے حملے میں پوشیدہ ہے ، حماس نے نہ صرف عام شہریوں کے گھروں میں گھُس کر انہیں ہلاک کیا بلکہ اُن کی ویڈیوز بھی جاری کیں ،گویا اپنے اقدام کی تشہیر کی۔حماس اگر اسرائیل کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا یا اسرائیلی فوج پر حملے کرتا اور جواب میں اسرائیلی فوج غزہ کے شہریوں کو نشانہ بناتی تو اُس صورت میں بھی امریکہ اور مغرب نے ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل کی حمایت ہی کرنی تھی مگر میرا حسن ظن یہ ہے کہ پھر یہ حمایت یوں برہنہ اور غیر مشروط نہ ہوتی ۔ دوسری طرف اسرائیل ہسپتالوں اور اسکولوں پر بم تو برسا رہا ہے مگر صاف مکر بھی رہا ہے جس کی وجہ سے مغربی طاقتوں کو اسرائیل کی حمایت کا،منافقانہ ہی سہی،مگر جوازتو مل رہا ہے ۔لیکن اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اگر حماس ایسا نہ کرتا تو اسرائیل فلسطینیوں کو اُن کے صبر کے پھل کے طور پر ایک آزاد ریاست تحفے میں دے دیتا، ایسا نہ کبھی تاریخ میں ہوا اور نہ ہوگا!
دنیا کا ہر مسئلہ ایسا نہیں جس کا پائیدار اور پُر امن حل بھی نکل سکے، اسرائیل فلسطین کا مسئلہ بھی انہی مسئلوں میں سے ایک ہے ،یہ مسئلہ اسی صورت میں حل ہوسکتا ہے اگر فلسطینیوں کو اُن کے بچے کھچے علاقوں سے بھی نکال باہر کیا جائے یا انہیں صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے ۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہو،لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہودیوں کے بعد یہ فلسطینیوں کا ہولوکاسٹ ہوگا۔ لیکن کیا ہولو کاسٹ سے بھی مسئلہ حل ہوجائے گا؟مغربی دنیا کو اِس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

