Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, مئی 9, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • 9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی
  • باسٹھ برس کی معذرت  : مبارک باد تو بنتی ہے : رضی الدین رضی کی جیون کہانی 
  • مارچ کے بعد پیٹرول پانچویں بار مہنگا : قیمت میں 15 روپے کا اضافہ، نئے نرخ 414.78 فی لیٹر
  • معرکہ حق کی برسی اور پاکستانی قوم کی نفسیات : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم
  • معرکہِ حق اور میزائل چوک : وسعت اللہ خان کا کالم
  • کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی گرفتار : 5 پولیس افسران کے خلاف ایکشن
  • ابلیسی طاقتوں کی دھمکیوں کا جواب : صدائے ابابیل / سیدہ معصومہ شیرازی
  • ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا
  • مغربی بنگال ہندو انتہاپسندوں کے نرغے میں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»یاسر پیرزادہ کا کالم:جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے
کالم

یاسر پیرزادہ کا کالم:جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے

ایڈیٹرجنوری 7, 20245 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے۔۔۔اللہ اللہ وہ بھی کیا زمانہ تھا،اب یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں وقت کیسے گزر گیا،اب تو نہ وہ اسکول رہے اور نہ وہ وقت ۔آپ اسے ناسٹلجیا کہہ سکتے ہیں، ہم سے پچھلی نسل کے لوگ بھی اپنے وقت کے بارے میں یہی سوچتے ہوں گے کہ اُن کا دورزیادہ خوبصورت تھا ،شایدہر نسل کو ایسا ہی لگتا ہے۔ہمارے دور میں اسکولوں کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا کہ کس اسکول کا طالب علم ’بورڈ ‘ میں پوزیشن حاصل کرے گا۔ میں کریسنٹ ماڈل اسکول میں پڑھتا تھا، ہمارا اسکول بھی اِس دوڑ میں شامل تھا، اکثر پوزیشنز کریسنٹ ماڈل، ڈی پی ایس اور سنٹرل ماڈل اسکول کے درمیان ہی تقسیم ہوتی تھیں۔اِن تینوں اسکولوں کی فیس نہایت کم تھی،اُس زمانے میں ویسے بھی مہنگے انگریزی گرامر اسکولوں کا رواج شروع نہیں ہوا تھا،چھوٹے شہروں کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچے بھی اپنی قابلیت کے بنیاد پر اعلیٰ عہدوں تک پہنچ جاتے تھے،بلکہ دور دراز کے دیہات میں قائم اسکولوں سے بھی بچے پڑھ لکھ کر اعلیٰ فوجی اور سول افسر بنتے تھے ۔اب یہ استحقاق صرف مہنگے پرائیویٹ اسکولوں کا ہے کیونکہ سرکاری اسکول میں پڑھنے والا غریب بچہ اب اِن اعلیٰ عہدوں تک نہیں پہنچ سکتا۔اِس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک تو سرکاری اسکولوں کا زوال ہےاور دوسرایہ کہ ہم نے اِن اسکولوں کا میعار بہتر بنانے کے لیے ظاہری لیپا پوتی تو کی ہے مگر استاد شاگرد کا رشتہ نہیں جوڑ پائے۔جو اسکول درخت کی چھاؤں میں ہوتا تھا یا جہاں بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے وہاں کااستاد اگر بچے کو مکمل توجہ کے ساتھ پڑھاتا تھا تو پھر اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھاکہ اسکول کی چار دیواری ہے یا نہیں ۔آج کل کے جدید انگریزی اسکولوں کے استاد سقراط یا افلاطون نہیں ،مگر تمام قابل بچے ،جو مہنگی تعلیم کے متحمل ہوسکتے ہیں، اِن اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں ، اِس لیے اِن گرامر اسکولوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے جس میں اِن کاکوئی کمال نہیں ۔ہمارے ہاں زیادہ تر ٹیلنٹ اسی وجہ ضائع ہوجاتا ہے کہ غریبوں کے جو بچے اہل اور ذہین ہوتے ہیں ،وہ وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے پڑھ ہی نہیں پاتے اور معاشرے کا اثاثہ بننے کی بجائے بوجھ بن جاتے ہیں۔البتہ اِن میں سے جو زیادہ کائیاں ہوتے ہیں ،وہ ہار نہیں مانتے اور اِس فرسودہ نظام کی کمزوریوں کافائدہ اٹھا کر اپنی راہ بنا لیتے ہیں ،ایسا مگر روز روز نہیں ہوتا، اکا دکا لوگ ہی یہ کام کرپاتے ہیں۔
ٹیلنٹ ضائع ہونےکی ایک اور مثال کرکٹ سے بھی دی جا سکتی ہے۔عامر جمال نامی ایک کھلاڑی نے حالیہ پاکستان آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز میں سب کو حیران کردیا،سڈنی ٹیسٹ میں جمال نے پہلی باری میں بیاسی دوڑیں بنائیں اور چھ وکٹیں بھی لیں۔اِس سطح کا آل راؤنڈر پاکستانی ٹیم میں طویل عرصے بعد آیا ہے مگر افسوس کہ اِس کی کرکٹ کی آدھی عمر گزر چکی ہے، یہی کھلاڑی اگر آسٹریلیا میں پیدا ہوتا تو بیس سال کی عمر میں اسے ٹیسٹ کیپ مل چکی ہوتی اور ستائیس برس کی عمر میں یہ پچاس ٹیسٹ کھیل چکا ہوتا جبکہ حقیقت میں عامر جمال نے صرف تین ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور کاغذوں میں اُس کی عمر اٹھائیس سال کے قریب ہے۔یہ نوجوان بھی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا،اِس نے گزر اوقات کے لیے اوبر چلائی ، اپنے زور بازو پر پریکٹس کی، مقامی کرکٹ کی سیاست نے اِس نوجوان کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی ، اِس پر پابندیاں لگائیں مگر اِس نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر پہلے انڈر 19 اور بعد ازاں قومی سطح پر پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔جمال کا ٹیلنٹ چونکہ غیر معمولی تھا اِس لیے دریا کی طرح بہتا چلا گیامگر اِس کے باوجود جمال کے قیمتی سال ضائع ہوگئے ۔پاکستان میں چونکہ کرکٹ پر بے حد توجہ دی جاتی ہے ، اِس کھیل میں پیسہ بھی ہے، کرکٹ بورڈ کے پاس فنڈز بھی ہیں ، اِس لیےیہاں ٹیلنٹڈ نوجوانوں کے اوپر آنے کے امکانات قدرے بہتر ہیں مگر یہ امکانات دیگر ممالک ، جیسے کہ بھارت،برطانیہ ، آسٹریلیا،کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہیں اور اِس کی متعدد وجوہات ہیں جو فی الحال ہمارا موضوع نہیں ۔
ہمارا موضوع یہ ہے کہ پاکستان میں نہ ٹیلنٹ کی زیادتی ہے اور نہ کمی ، ہم بہت زیادہ ذہین فطین قوم ہیں اور نہ بہت کند ذہن ، ہماری قابلیت کا معیار بھی اوسط درجے کا ہے ۔مگر یہ تمام باتیں غیر معمولی نہیں ،ہر قوم ہی ایسی ہوتی ہے ،جو ممالک ہمیں ترقی یافتہ نظر آتے ہیں وہاں بھی ہر نوجوان ہائزن برگ یا نیل بوہر نہیں ہوتا، زیادہ تر لوگ اوسط دماغ کے ہوتے ہیں جو اوسط زندگی گزار کر مطمئن رہتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ وہاں کوئی بچہ محض وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہیں رہ جاتا،یہ ممکن نہیں کہ کسی بچے میں قابلیت ہو، وہ ذہین ہومگراِس کے باوجود غربت کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر پائے۔عامر جمال جیسا کرکٹر اگر اِن ممالک میں پیدا ہوتا تو اسے غم ِ روزگار سے نجات دلاکر اُس کی توجہ صرف کرکٹ پر مرکوز کی جاتی ، اُس صورت میں نہ صرف اُس کا ٹیلنٹ مزید نکھر آتا بلکہ اُس کے قیمتی سال بھی ضائع نہ ہوتے۔لہذا جو لوگ پاکستانی قوم کو نالائقی کی بنیاد پر طعنے دیتےہیں وہ دراصل اپنے گوشہ عافیت میں بیٹھ کر یہ لعن طعن کرتے ہیں، انہیں اندازہ ہی نہیں ہوپاتاکہ وہ کس طرح پاکستانی قوم کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ ہم بہت عظیم قوم ہیں، ہم بالکل ویسے ہی ہیں جیسے دنیا کی دیگر اقوام ہیں۔ہاں، ہماری work ethics ٹھیک نہیں ،اور ہم میں اوربھی بہت سی خرابیاں ہیں ، مگر یہ خرابیاں کسی اور وجہ سے ہیں،ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنےبچوں کی قابلیت، لیاقت ، ہنر مندی اور ذہانت کو ضائع ہونے سے کیسے بچائیں؟
اِس مسئلے کاایک حل یہ ہے کہ مخیر اور درد مند لوگ ایسے ادارے بنائیں جہاں اِس طرح کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کامکمل انتظام کیاجائے جو مہنگی اسکول افورڈ نہیں کر سکتے، یہ کام ملک میں ہوتو رہا ہے مگر اِس کا زیادہ فوکس اِس بات پر ہے کہ غریب گھرانوں کے بچوں کو عمومی تعلیم فراہم کر دی جائے ، یعنی یہ کسی ایسے ٹیلنٹ ہنٹ کا نظام نہیں ہے جس کے ذریعے غریب گھرانوں کے ذہین بچے زندگی میں ترقی کرکے اعلیٰ مقام حاصل کر سکیں۔حکومتی سطح پر یہ کام کیا جا سکتا ہے مگر اِس کے لیے ضروری ہے کہ پانچویں تک تعلیم صرف کاغذوں میں مفت نہ ہو بلکہ ہر بچہ اسکول جائے اور پھر وہاں سے پانچ فیصد بچوں کو چھانٹی کرکے ایچی سن کالج یا کراچی گرامر جیسے اسکولوں میں داخل کردیا جائے جس کا خرچ سرکار برداشت کرے۔دانش اسکولوں کا یہی ماڈل تھا۔بے شک یہ کوئی آسان کام نہیں لیکن اگر کوئی ایک کام ایسا ہے جو حکومت کولازماً کرنا چاہیے تو وہ یہی کام ہے، باقی معاملات از خود درست ہوجائیں گے۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleلیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر توہین عدالت کیس، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے الزامات مسترد کردیے
Next Article سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید نے استعفیٰ دیدیا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی

مئی 9, 2026

باسٹھ برس کی معذرت  : مبارک باد تو بنتی ہے : رضی الدین رضی کی جیون کہانی 

مئی 9, 2026

مارچ کے بعد پیٹرول پانچویں بار مہنگا : قیمت میں 15 روپے کا اضافہ، نئے نرخ 414.78 فی لیٹر

مئی 9, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • 9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی مئی 9, 2026
  • باسٹھ برس کی معذرت  : مبارک باد تو بنتی ہے : رضی الدین رضی کی جیون کہانی  مئی 9, 2026
  • مارچ کے بعد پیٹرول پانچویں بار مہنگا : قیمت میں 15 روپے کا اضافہ، نئے نرخ 414.78 فی لیٹر مئی 9, 2026
  • معرکہ حق کی برسی اور پاکستانی قوم کی نفسیات : سید مجاہد علی کا تجزیہ مئی 8, 2026
  • آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم مئی 7, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.