اختصارئےلکھارییوسف عابد

بے صبری قوم اور لنگر انداز حکمران ۔۔ یوسف عابد

عزت مآب وزیر اعظم صاحب آپ نے بجا طورپر فرمایا کہ اس قوم میں صبر نہیں ہے اور آپ یہ بیان دینے میں حق بجانب ہیں کہ آپ ایک غریب قوم پر لنگر انداز ہوئے ہیں اور سائیکل سے شر وع ہونے والا آپ کا سفر اب ہیلی کاپٹر تک جا پہنچا ہے ۔ اس سے پہلے بھی آپ کی ذ اتی مصروفیات کے لئے دوستوں کے ذ اتی جہاز اور دیگر ” وسائل“ آپ کے لئے ہمہ وقت دستیاب رہتے تھے ۔ ایسے میں آپ کا یہ بیان حالیہ معاشی پالیسیوں کے بدلے رستے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترداف بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔ حضور والا اس قوم کی بے صبری کا تو یہ عالم ہے کہ اپنے ملک ، اپنی آزاد زندگی کا خواب ملتے ہی اپنی لاکھوں جانوں، عزتوں اور مال و اسباب کی قربانی دے کر اس سرزمین کی جانب یہ سب کھنچے چلے آئے تھے ۔



اسی طرح کشمیر کے ایک حصے پر بھارتی قبضے کی اطلاع ملنے پر بے صبرے پختون و قبائلی بھائی بناء حکومتی امداد کے اپنے ہتھیار لئے اُس طرف بھاگے چلے گئے اور نتائج کی پرواہ بھی نہ کی ۔پھر 65ء اور 71ء کی جنگوں میں بھی بے صبری دکھاتے ہوئے اپنا مال واسباب اور جانیں ملک پر وارنے کے لئے سرحدوں پر شانہ بشانہ لڑنے پہنچ گئے اور بے صبری اتنی کہ روٹی ،کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات کا نعرہ لگانے والے ایک قلندر کے پیچھے بھی چل پڑے اور پھر کسی نے بتایا یہ قلندر تو تمہارے ساتھ ہاتھ کر رہا ہے ، ان بے صبروں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس کے خلاف ڈالروں کے عوض سڑکوں پر آ گئے اور آئے بھی نظام مصطفیٰ کے نام پر ۔



ان لوگوں نے اس کے بعد اپنے ساتھ مسلسل کھلواڑ ہوتے دیکھ کر بھی بے صبری سے قرض اتارو ملک سنوارو اور ڈیم بناؤ مہم میں اپنے لئے ملک کے لئے دنوں میں کروڑوں روپے جمع کرا دئیے۔ المیہ یہ ہے کہ ابھی تو 72 برسوں میں ان بے صبروں کو کوئی حکومت پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں کر سکی ۔

وزیر اعظم صاحب افسوس کہ 13 ماہ قبل یہ لوگ پھر سے نئے پاکستان کے قیام کے لئے آپ کے پیچھے دوڑے چلے آئے اور جب معاشی پالیسیوں کی ابتدائی نتائج میں میڈیا اور دیگر صنعتوں کے بند ہونے پر ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونا شروع ہوئے تو آپ نے اس قوم کی بے صبری کو دیکھتے ہوئےکمال مہربانی کرتے ہوئے فوراً اپنے دست مبارک سے ان کے لئے لنگر خانوں کا افتتاح کر دیا ہے جہاں پوری قوم آرام سے مفت کھانا کھا کر آپ کے حکم پر پہلے سے بنی پناہ گاہوں میں رہ لے گی ۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ پناہ گاہیں آپ انہیں ”جہازوں “ سے بھی خالی کرا دیں گے ۔



اس ریاست مدینہ میں‌آپ کی گراں قدر خدمات کے طفیل اس طفیلی قوم کو تمام تر اخراجات سے بھی نجات مل گئی اور یوں لگتا ہے کہ جیسے من و سلویٰ کا دور واپس آ گیا ہو لیکن یہ ٹھہری بے صبری قوم کہ 13 ماہ میں ہی حقیقی ریاست مدینہ بنانے کے لئے بے صبری شاید اس لئے دکھا رہی ہے کہ اس وقت انصار نے معاشی بحالی کے لئے اپنا تمام مال و متاع حوالے کر دیا اور اب حکومتی ایوانوں میں موجود انصار برادران چینی، گھی، آٹا اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء ہی مہنگی کئے جا رہے ہیں۔



جناب والا سے دست بستہ صرف یہ گذارش ہے کہ اس بے صبری قوم کے مزید صبر کا امتحان نہیں لیں اور صرف ان کا صبر دیکھنے کے لئے ایک بار ریاست مدینہ کا سربراہ ہونے کے طورپر بھیس بدل کر ان کی دیواروں سے کان لگا کر تو سن لیں اس لئے نہایت ادب سے عرض ہے کہ ان کو پناہ گاہیں، لنگرخانے، نقد امداد اور صحت کارڈ دینے کی بجائے موجودہ انڈسٹری کو بحال کرنے کے ساتھ نئی انڈسٹری لگا کر ان کو روزگار دیں اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھائیں پھر آپ کشمیر تو کیا افغانستان، فلسطین، عراق، برما، لبنان اور مصر سمیت کہیں بھی مظالم کا شکار مسلمانوں کی امداد کے لئے نکل کھڑے ہوں یہ قوم آپ کے ساتھ ہو گی ورنہ یہ بے صبری قوم روز آپ کو تنگ کرتی رہے گی کیونکہ یہ بھی بجا ہے کہ غربت جب انقلاب نہیں لاتی تو جرائم کو جنم دیتی ہے جس کا شکار بھی ان جیسے ہی ہوں گے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker