زندگی میں الحمدو للہ بہت سے خوشیوں اور پروردگار کی شکرگزاری کے لمحات دیکھے۔ لیکن اس کے برعکس کچھ لمحات اذیتیں کو سہنے کے بھی تھے جو ناقابل فروش لمحات میں شمار ہوتے ہیں۔ میں وہ خوش قسمت ہوں جس نے اپنے والدین بالخصوص قسور گردیزی کو دیکھا ۔ بہتر برس کی عمر میں 11 ستمبر 1993 کو ہم سے بچھڑنے والا انسان درحقیقت 1953 سے ایک ایسی سوچ سے وابستہ ہوکر پاکستان کی خلق خدا کیلئے سہانے خواب اکٹھے کرنے میں لگ گیا اور یہ نہ سوچا کہ اس ملک میں غربت و ناانصافی اور حق تلفی تو سکہ رائج الوقت ہے۔ انہوں نے مزدوروں کے حقوق ، ہاریوں اور کسانوں کے حقوق کیلئے کسان کمیٹیاں بنائیں ، ریلوے ورکرز فیڈریشن بنائی ۔ پوسٹ مین یونین ۔ ٹانگہ ورکر یونین اور دیگر مزدور سرگرمیوں کو تحریک دی اور اس کی پاداش قسور گردیزی نے اذیتیں برداشت کیں۔ ان کے ہم مزاج دلیر ساتھیوں میں بلوچ رہنماؤ ں کی بڑی تعداد شامل تھی جو ان تکلیف دہ حالات سے نبرد آزما رہی ۔
سردار عطاء اللہ مینگل کو جلاوطنی اور نوجوان بیٹوں کا خوں بہا دینا پڑا۔ نواب خیر بخش مری کی قوم آج تک سنگلاخ پہاڑوں میں جلا وطن ہے۔ نواب اکبر بیٹی کو اپنے اصولوں کی خاطر جان کا نذرانہ دینا پڑا۔ان محب الوطن سوچ رکھنے والے افراد میں بے شمار نوجوان لیڈر بھی تھےجن میں ڈاکٹر حئی بلوچ مرحوم اور یوسف خان مستی جیسے لوگ شامل رہے ۔ کچھ لوگوں کو دن کی روشنیاں نصیب نہ ہوئیں ۔
یوسف مستی خان آ ج سے ٹھیک 90 دن پہلے30 مئی کو اسلام آباد سے کراچی جاتے ہوئے قسور گردیزی کے بارے میں گفتگو کرنے کیلئے میرے غریب خانہ پر ایک رات کے لیے رکے اور میں نے سوانح عمری کے مصنف رضی بھائی سے ان کی ملاقات طے کروائی۔ اس رات سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے کہا کہ رضی بھائی کو صبح بلا لوں ناشتہ پر بات کریں گے ۔ رات کے دس بجے وہ میری فیملی کے ساتھ ملاقات اور کھانے کے بعد اپنے کمرے میں سونے چلے گئے ۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے رات میں خود سونے سے پہلے ان کے کمرے روشنی جلتی ہوئی دیکھ کر بیڈروم کا دروازہ معمولی سا کھول کر دیکھا تو یوسفزئی کو بیدار پایا۔ ساتھ ہی مجھے ا حساس ہوا کہ کمرے کا ایئر کنڈیشنر بند اور کمرہ گرم ہو چکا تھا۔ ۔میں نے اسے خود چلانے کو شش کی اور پھر الیکٹریشن کو بلا لیا جس نے بتایا کہ اے سی کا فین خراب ہے۔ میں ان کے سونے کا انتظام دوسرے کمرے میں کرنے لگا تو مجھے کہنے لگے ” زاہد زیادہ تکلف نہ کرو۔ہم جیلوں کی سی کلاس میں فرشوں پر سونے کے عادی ہیں ابھی نیند آجائے گی“ ۔
پھر وہ دوسرے کمرے میں لیٹتے ہی سو گئے اور صبح دیر سے ہشاش بشاش اٹھے۔ سادہ ناشتہ کیا اور پھر اپنا انٹرویو ریکادڈ کروایا رضی صاحب نے کمال مہربانی سےمیرا فوٹو اس عظیم شخصیت کے ساتھ بنایا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ ٹھیک 90 روز بعد یوسف بھائی ہمیں چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملیں گے
فیس بک کمینٹ

