ایک بار خلیفہ ہارون رشید اپنی ملکہ کے ساتھ دریا کنارے چہل قدمی کر رہے تھے کہ انہوں نے بہلول دانا کو دیکھا کہ وہ ساحل پر مٹی کے گھروندے بنا رہے ہیں، انہوں نے ازراہ تفنن معلوم کیا کہ اے بہلول کیا کر رہے ہو، تو بہلول دانا نے جواب دیا کہ جنت کے گھر فروخت کر رہا ہوں، ہارون رشید نے معلوم کیا کہ کیا قیمت ہے ، تو بہلول دانا نے کہا کہ ایک دینار، ابھی ہارون رشید سوچ ہی رہے تھے کہ ملکہ نے آگے بڑھ کر بہلول دانا کو ایک دینار پیش کردیا۔ رات کو ہارون رشید کو ملکہ کا محل خواب میں دکھایا گیا وہ بہت ملول ہوا کیوں نہ اس نے بھی اسی وقت ادائیگی کردی ہوتی تو اس کا بھی یہاں محل ہوتا۔ مگر سوچا کہ فکر کی کوئی بات نہیں کل صبح پھر جاؤں گا، امید ہے کہ بہلول مل جائیں گے، تو میں بھی ان سے ایک محل خرید لوں گا، حسب ارادہ وہ صبح چہل قدمی کرتے ہوئے دریا کنارے پہنچ گئے دیکھا کہ بہلول دانا بیٹھے ہیں وہی مٹی کے گھروندے بنا رہے ہیں۔ پاس پہنچ کر ہارون رشید نے ایک دینار دیتے ہوئے کہا کہ بہلول ایک محل ہمیں بھی دیدو، بہلول دانا نے ایک دینار لوٹاتے ہوئے کہا کہ آج محل کی قیمت ایک لاکھ دینار ہے، ہارون رشید بہت حیران ہوا اور معلوم کیا کہ یہ کیا کل تو ایک دینار تھی، بہلول نے کہا کہ وہ بن دیکھے کا سودا تھا، آج تو آپ محل دیکھ کر آئے ہیں ۔
پاکستانی عوام کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے روز سو کر اٹھتے ہیں تو قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں، حالانکہ یہ بیچارے تو مجبور ہیں کہ اب مہنگائی کہ سوا انہیں کوئی خواب نظر ہی نہیں آتا اور وہ بھی پورا نظر نہیں آتا اس کے باوجود تعبیر بہلول دانا کی بتائی ہوئی قیمت سے بھی کہیں آگے جاچکی ہوتی ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کے حالیہ بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر سنہ 2021 کے دوران مہنگائی کی شرح 11.5 سے بڑھ کر 12.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ضروریات زندگی بھی نہایت مہنگی اور ارزاں ہوگئی ہیں، جن میں ایندھن ، عام کھانے پینے کی اشیاء، مکان اور سواری کے کرائے ، سبزیاں، پھل یہاں تک کے آٹے دال تک کے بھاؤ ناقابل یقین حد تک بڑھ چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ کہا جاتا تھا کہ ان حالات میں دھاڑی دار طبقہ کیسے گزارہ کرے گا، مگر اب تو ہر ایک کو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہو رہا ہے، بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ان حالات میں گھر گرہستی چلانا ناممکن ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے اس صورتحال میں کم آمدنی والے یا دھاڑی دار طبقہ کی حالت زیادہ دگرگوں اور قابل رحم ہے۔
ملک میں الزام تراشی کا بازار گرم ہے اور ایک معمولی خوانچہ فروش سے لے کر بڑے بڑے صنعت کار و سیاستدان سب حکومت وقت پر الزام لگا رہے ہیں ، اور اپنا اپنا الّو سیدھا کر رہے ہیں، طریقہ واردات یہ ہے کہ دو گالی حکومت کو دو اور ایک روپے کی چیز دس روپے میں فروخت کردو۔ اسی طرح اپنی کرپشن چھپانے کیلئے حکومت وقت پر مسلسل الزامات لگاتے رہو، اور کرپشن کا مال کھاتے رہو۔ جبکہ حکومت وقت کا یہ موقف ہے کہ کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں کاروبار عدم استحکام کا شکار ہیں تو ہم بھی اسی گرانی کا شکار ہوکر مہنگائی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ دوسرا پچھلی حکومتوں کی مصیبتیں بھی ہمیں ہی جھیلنا پڑرہی ہیں، آسمان سے باتیں کرتی عام اشیائے ضرورت کی قیمتوں نے عام آدمی کی حقیقتا چیخیں نکال دی ہیں۔ تقریبا ہر شہ مہنگائی کی انتہا کو چھو رہی ہے جو عام آدمی کی قوت خرید سے بہت دور ہے۔ مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ عام آدمی کو نفسیاتی مریض بنائے دے رہا ہے، تفریح و آسائش دور کی بات، بنیادی ضرورتوں یہاں تک کے کھانے پینے کی اشیاء کا حصول بھی نہایت مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں بچوں کو تعلیم دلانا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، ایسے میں ہر گزرتا دن بس ایک ہی خبر لاتا ہے کہ آج ان اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کل ان اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ ساتھ ساتھ ٹیکس کے بڑھتے ہوئے اصافی بوجھ نے الگ عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، امر افسوس و استعجاب یہ ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ہی اشیاء ضروریہ بھی کمیاب ہوجاتی ہیں یعنی چور بازاری و ذخیرہ اندوزی بھی اپنے عروج پر ہے، جس کی کوئی پکڑ نہیں۔ عوام ہر طرف سے اور ہر طرح سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ جیسے ہی پیٹرول مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں ہر ضروری شہ کی قیمت فورا ہی بڑھ جاتی ہے مگر جب کبھی قیمتیں کم ہوں تو ان اشیاء کی قیمتیں کبھی بھی کم نہیں ہوتیں ، حکومت وقت کے ہرکارے ہر روز ایک نئے دلاسے کے ساتھ آجاتے ہیں جس کا عملی فائدہ عوام تک نہیں پہنچ رہا۔ روز ایک نیا خواب دکھایا جاتا ہے کہ بس اب ہماری معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی، اور اب دوڑنے لگے گی، درحقیقت وہ گھسٹ بھی نہیں رہی۔ اور اگر یہی حال رہا تو خدا نہ کرے کہ ملک دیوالیہ ہی نہ ہوجائے۔ کیونکہ پاکستانی کرنسی کی قدر روز بروز گرتی جارہی ہے اور اس وقت ڈالر کی روپے کے مقابل قدر تاریخی عروج پر ہے۔ جو مہنگائی اور افراط زر میں اضافے کا بنیادی سبب ہے، جس کے منفی اثرات تنخواہ دار طبقہ کی زندگی پر بہت گہرے پڑ رہے ہیں، اور ان کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ عام آدمی کے بچت کرنے کے امکانات بالکل ہی معدوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ جو کماتا ہے سب خرچ کردیتا ہے۔ یہی افراط زر دولت کی غیر مساوی تقسیم کا سبب بن رہا ہے۔
جو معاشرے میں مایوسی ، بگاڑ اور طبقاتی خلیج کا سبب بھی بن رہا ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ کاروبار پر اس کے نہایت ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کا شکار ہوکر بہت سے چھوٹے بڑے کاروبار و تاجر برباد ہوگئے ہیں۔
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ صرف ہم ہی افراط زر کا شکار ہیں، یہ تو دنیا کے قریب قریب ہر ملک میں ہوتا ہے مگر بہترین مالی حکمت عملی کے ذریعے اس کے مضمرات سے عوام کو بچایا جا سکتا ہے۔ جو بدقسمتی سے ہمارے ہاں مفقود ہے، مناسب مالی حکمت عملی کے نہ ہونے کی وجہ سے ملک ہر طرح کے مالی بحران کا شکار ہے ساتھ ساتھ ہر سطح پر کرپشن نے اسے مذید تقویت دی ہوئی ہے۔ جو لوگوں کو جرائم کی جانب دھکیلنے کا سبب بن رہی ہے، ملک میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی اسی کا مرہون منت ہے، لوٹ مار، اغوا برائے تاوان، قتل ، جائیداد پر قبضے اور دیگر جرائم کا حد سے بڑھ جانا بھی کسی نہ کسی حد تک مالی بحران سے جڑا نظر آتا ہے۔
حکومت وقت اور دیگر ملکی اداروں کو چاہئے کہ لڑنے اور الزام تراشی کے بجائے مل کر اس مصیبت کا حل تلاش کریں ملک میں نہایت اعلی ترین اقتصادی ماہرین موجود ہیں ان کی خدمات حاصل کی جائیں، ایسے تھنک ٹینک بنائے جائیں جو اعلی ترین ذہن کے مالک لوگ پر ہوں جو اس مشکل سے نجات کی تجاویز پیش کریں جن کا تجزیہ کرنے کے بعد اگر قابل عمل ہوں تو ان کو ملک کی بہتری کے لئے رائج کیا جائے، ورنہ سارے کام کے لوگ تلاش معاش کیلئے ملک سے ہجرت کرجائیں گے اور ایسا نہ ہو کہ ہمیں مشورے کیلئے ماہرین بھی درآمد کرنا پڑیں ۔
فیس بک کمینٹ

