بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی سرائیکی شعبہ کے سربراہ ممتاز خان کلیانی نے صوبائی حکومت کے نام 24دسمبر2018ءکو وسیب کے سکولوں میں سرائیکی پڑھانے اور اساتذہ تعینات کرنے کی درخواست بھیجی ، وزیر اعلیٰ ہاﺅس سے درخواست پر مثبت رد عمل آیا ، چٹھی کے جواب میں ڈائریکٹر انسٹرکشنز (SE)پنجاب نے چٹھی مورخہ 18جنوری 2019ءکو چٹھی نمبر852جاری کرتے ہوئے صوبے بھر کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (DEA)کو ایک ہفتے میں مثبت رپورٹ بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ سکولوں میں سرائیکی تعلیم کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود عرصہ سے زیر التوا ہے۔ سرائیکی شعبہ کے سربراہ ممتاز کلیانی لکھتے ہیں کہ وسیب کی سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ وادی سندھ کا تہذیبی مرکز ہے ، سرائیکی زبان اس ثقافت کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ زبان ملک کے تمام حصوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ سرائیکی زبان وسیب کی تین یونیورسٹیوں میں پڑھائی جا رہی ہے ، اسے انٹرمیڈیٹ گریجوایٹ سطح پر بھی پڑھایا جا رہا ہے اور میٹرک کا نصاب بھی منظور ہے مگر بدقسمتی سے کوئی بھی سرائیکی ا±ستاد ابھی تک تعینات نہیں کیا گیا۔ پچھلی حکومتوں نے اس زبان کو فروغ دینے کیلئے قدم اٹھایا اور سرائیکی کو ایف اے سے پی ایچ ڈی لیول تک لے گئے مگر ان اداروں میں طالبعلموں کی تعداد اس بنا پر حوصلہ افزاءنہیں ہے کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سرائیکی پڑھنے والے طالبعلموں کو ملازمت نہیں ملتی۔ طالبعلموں کی حوصلہ افزائی اور ان کو تعلیم کے میدان میں لانے کیلئے ہائر سیکنڈری سکول سطح پر ملازمت کی سہولت دی جائے۔
محترم ممتاز کلیانی مزید لکھتے ہیں کہ میں بحیثیت ڈائریکٹر سرائیکی ایریا سٹڈی سنٹر بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان مطالبہ کرتا ہوں کہ وسیب کے تین ڈویڑن ملتان ، ڈیرہ غازی خان اور بہاول پور کے ساتھ جھنگ ، چنیوٹ ، میانوالی ، بھکر اور خوشاب میں سیکنڈری سکول میں دو دو اسامیاں سرائیکی اساتذہ کی دی جائیں ، حکومت کا یہ عمل وسیب میں پائے جانے والے احساس محرومی کو کم کریگا جیسا کہ موجودہ حکومت اس خطے میں ترقی کیلئے دلچسپی لے رہی ہے اس لئے یہ قدم حکومت کے وعدوں کی تکمیل اور خطے کی ترقی کا باعث بنے گا۔ پہلے بھی لکھا بارِ دیگر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی توجہ خصوصی طور پراس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ سکولوں میں تعلیم کے مسئلے پر غور فرمائیں اور ممتاز کلیانی صاحب کی درخواست کو قبولیت کا شرف حاصل ہونا چاہیئے ، اس طرف بھی توجہ دی جائے کہ میٹرک سرائیکی کا نصاب منظور ہے مگر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ابھی تک کتاب پرنٹ نہیں کرائی اور نہ ہی سکولوں میں اساتذہ تعینات کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر سرائیکی کی کتاب کی طباعت کے لئے بھی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ وسیب کے 95فیصد کالجوں اور سرائیکی لیکچررز کی اسامیاں خالی ہیں ، وزیر اعلیٰ اور حکومت پنجاب اس بارے خصوصی توجہ کرے اور اگر فوری طور پر تمام کالجوں میں نہیں تو کم از کم اس سال میل اور فی میل زیادہ سے زیادہ کالجوں میں سرائیکی لیکچررز کی اسامیاں فل کی جائیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزار اور متعلقہ حکام کو اس طرف توجہ دینی چاہیئے کہ وسیب کے تعلیمی مسائل سالہا سال سے زیر التوا چلے آ رہے ہیں۔ جیسا کہ بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سرائیکی ایریا سٹڈی سنٹر میں 6ذیلی شعبہ جات کی اسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں ، ہر سال یونیورسٹی بجٹ میں ان شعبہ جات کے لئے رقوم مختص کی جاتی ہیں مگر ان اسامیوں کو فل نہیں کیا جا رہا۔ اسی یونیورسٹی میں خواجہ فرید چیئر اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں خواجہ فرید چیئر کئی سالوں سے منظور ہیں مگر ان کو فنکشنل نہیں کیا جا رہا ، جس سے فریدیات کے طالبعلموں کو مشکلات کا سامنا ہے ،کسی بھی یونیورسٹی کے قیام کا مقصد مقامی تہذیب ، ثقافت و آثار پر تحقیق ہوتا ہے ،وسیب کی بدقسمتی یہ ہے کہ پہلے تو اس علاقے میں یونیورسٹیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور چند ایک جو یونیورسٹیاں ہیں وہاں بھی تعلیم کے اصل تقاضے پورے نہیں ہو رہے۔
ڈیرہ غازی خان میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ سالہاسال سے جاری ہے ،گورنر خالد مقبول کے دور میں یہ کیا گیا کہ گورنمنٹ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا ، اسی طرح خواتین کالج ملتان اور خواتین کالج بہاول پور کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا جس کا یہ نقصان ہوا کہ کالج چھین لئے گئے اور یہ مکمل طور پر یونیورسٹیاں بھی نہ بن سکیں۔طالبعلموں کا یہ نقصان ہوا کہ ایم اے کے داخلے کے لئے وہ 4500روپے فیس دیتے تھے اب ان کو 45000روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ غازی یونیورسٹی ڈی جی خان کا تو حال یہ ہے کہ عرصہ دراز سے وہاں وائس چانسلر ہی نہیں ہے اور قائم مقام وائس چانسلر اسسٹنٹ پروفیسر ہے جو کہ یونیورسٹی کے نام کے ساتھ ہی مذاق ہے۔ مزید یہ کہ ان تینوں یونیورسٹیوں میں سرائیکی شعبے کے قیام کیلئے عرصہ سے جدوجہد ہو رہی ہے مگر اس طرح کوئی توجہ دینے کیلئے تیار ہی نہیں ،غازی یونیورسٹی میں وہاں کے ٹیچر اپنے طور پر سرائیکی پڑھا رہے ہیں اور طلبہ کی تعلیم بھی بہت زیادہ ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ خود اس طرف توجہ مبذول کریں۔ اب جبکہ سرائیکی میں بی اے ، ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی ہو رہی ہے تو سی ایس ایس کے امتحان میں سرائیکی مضمون شامل نہیں جو کہ طلبا کے ساتھ مذاق ہے کہ جو سٹوڈنٹ پنجابی ، سندھی ، پشتو ، بلوچی وغیرہ میں ایم اے کرتا ہے اس کو تو سہولت حاصل ہے کہ وہ اپنی ماسٹر ڈگری کے مطابق اپنے مضمون کا انتخاب کرے مگر سرائیکی کہاں جائے۔ اگر سی ایس ایس میں سرائیکی نہیں رکھنی تو پھر سرائیکی پڑھانے کا کیا فائدہ ؟ طلبہ کو یہ بھی شکایت ہے کہ ایجوکیٹر کی اسامیوں میں دوسرے تمام مضامین قبول کر لئے جاتے ہیں مگر سرائیکی کی بات آتی ہے تو سرائیکی والوں کو ایک طرف بٹھا دیا جاتا ہے یہ ایک طرح کا امتیازی سلوک ہے جسے ختم ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف جو کہ انصاف کی علمبردار ہے اس کے دور میں سرائیکی کے ساتھ بے انصافی کا خاتمہ ہونا چاہئے اور پوری دنیا کے اصول کے تحت ماں بولیوں میں تعلیم کا بھی آغاز ہونا چاہئے جو حق سندھ میں سندھی بچے کو حاصل ہے وہ حق پنجابی ، بلوچی ، پشتو ، سرائیکی ، پوٹھوہاری ، براہوی ، کشمیری اور دیگر زبانیں بولنے والوں کو بھی حاصل ہونا چاہئے۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)
فیس بک کمینٹ

