ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

فروری کی یادیں۔۔ظہور دھریجہ

تحریک انصاف نے سو دن میں صوبہ بنانے کا وعدہ کیا ، اب 200 دن پورے ہونے والے ہیں مگر صوبے سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔ نہ ہی صوبہ کمیشن بنا اور نہ ہی ن لیگ کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے بل پر غور شروع ہوا ۔ دکھ صرف اس بات پر نہیں کہ وسیب سے جس نعرے پر ووٹ لے گئے ‘ اس پر خاموشی ہے ۔ بلکہ وسیب کی محرومی کے خاتمے کیلئے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ گزشتہ روز وزیراعظم و وزیراعلیٰ مرکز اور صوبے کے وزراء کے ساتھ راجن پور پہنچے ‘ وہاں کسی ایک بھی ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا ۔ حالانکہ وہاں ٹیکس فری انڈسٹریل زون ‘ سوئی گیس ‘ ایک بڑے ہسپتال ‘ یونیورسٹی اور انڈس ہائی وے کو دو رویہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ فروری کی دوسری ستم گر یادوں میں ایک یہ بھی ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا تعلق وسیب سے ہے اور وسیب کے ہی مینڈیٹ سے وہ اتنے بڑے عہدوں پر فائز ہیں مگر انہوں نے وسیب تہذیب، ثقافت اور زبان کی ترقی کیلئے افغان مہاجرین کے بنک اکاؤنٹس کھولنے کا حکم بذات خود متنازعہ ہے کہ اگر افغان مہاجرین کے بنک اکاؤنٹس کھل سکتے ہیں تو دوسرے غیر ملکی مہاجرین کے اکاؤنٹس کو کون روک سکے گا ؟افغان مہاجرین کا معاملہ وسیب کے لئے اس لئے بھی حساس ہے کہ ان مہاجرین کے باعث سرائیکی وسیب کے اضلاع ٹانک اور ڈی آئی خان میں ڈیموگرافی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے اور مقامی آبادی اقلیت بن کر کافی مصائب اور مشکلات کا شکار ہے ۔ اس لئے ٹانک ڈی آئی خان سمیت صوبے کا قیام ضروری ہے ۔ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم وسیب سے لئے گئے مینڈیٹ کی بنیاد پر اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر وسیب ، وسیب کی تہذیب و ثقافت کو کیوں بھول گئے ۔ وسیب کے لوگ پہلے حکمرانوں سے اس بنیاد پر ناراض ہوئے کہ ان کی ترجیحات میں وسیب شامل نہیں ۔مگر آج تحریک انصاف کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ کیا وہ وسیب سے انصاف کر رہی ہے ؟ ایک ساعت ہو یا ایک سال پلک جھپکتے گزر جاتا ہے ۔ دنوں کے ساتھ مہینوں کا بھی یہی حال ہے ۔ مگر فروری کا مہینہ تو اس لئے بھی ستم گر ہے کہ اس کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں ۔ ابھی یہ شروع ہوا ، اب اختتام کی طرف رواں دواں ہے ۔یہ فروری کی تلخ یادوں میں جہاں ہمارے دوسرے شعراء کرام کی وفات کا تذکرہ شامل ہے ‘ وہاں معروف شاعر شاکر مہروی کی وفات کو بھی ہم نہیں بھول سکتے جو 26 فروری 2010ء کو سناواں تحصیل کوٹ ادو میں وفات پا گئے ۔ اسی مہینے ہمارے دو اور معروف شعراء مجبور عیسیٰ خیلوی اور سید آزاد شاہ بھی فوت ہوئے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مشاہیر کو جلد بھلا دیتے ہیں ۔ اس روش کو ختم کرنا ہوگا اور اپنے ہیروز کی یاد منانے کیلئے کم از کم ان کی وفات کے دن کو تو یاد رکھنا چاہئے ۔ مجبور عیسیٰ خیلوی کے بارے اتنا عرض کروں گا کہ 1935ء میں پیدا ہونے والے مجبور عیسیٰ خیلوی نے 1956ء میں ریلوے میں ملازمت اور 1991ء میں ریٹائرمنٹ لی ۔ مجبور عیسیٰ خیلوی کی شاعری اور موسیقی سے دلچسپی بچپن سے تھی ۔ اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنی سرائیکی ماں بولی سے محبت ان کے خون میں شامل تھی ۔ مجبور عیسیٰ خیلوی جو بھی کلام لکھتے پہلے اس کی دھن بناتے ، لوک دھنوں کے وہ اتنے گرویدہ تھے کہ انہوںنے لوک دھنوں کی تلاش میں اپنے وسیب ضلع میانوالی کا چپہ چپہ چھان مارا۔ جب دریائے سندھ کی لہروں سے عیسیٰ خیل سے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز ابھری تو مجبور عیسیٰ خیلوی کا خلوص ، محبت ، فن اور تجریہ پہلے سے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کیلئے بانہیں پھیلائے ہوئے تھا ۔ موسیقیت سے بھرپور مجبور عیسیٰ خیلوی کے گیت ’’ بوچھنْ آ! میں توں یار نہ کھس وے ، اساں تاں توڑ نبھا چھوڑی‘‘ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز میں گونجے تو ہر طرف عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی اور سرائیکی سرائیکی ہو گئی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مجبور عیسیٰ خیلوی کی وجہ سے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی وجہ سے مجبور عیسیٰ خیلوی کی شہرت کو چار چاند لگ گئے اور اس سے وسیب کو بھی بہت فائدہ ہوا۔ سرائیکی وسیب کے مردم خیز خطے میانوالی کے عظیم سپوت مجبورعیسیٰ خیلوی مورخہ 10 فروری 2015 ء کو ہم سے جدا ہو گئے ۔ پورا وسیب غم و الم کی کیفیت سے ابھی نکلا ہی نہیں تھا کہ 14 فروری 2015ء کو سید آزاد شاہ کی وفات کی خبر ملی ۔مرحوم سید آزاد شاہ بخاری 1941ء میں سید لعل شاہ بخاری کے گھر علی پور کے قصبہ سلطان پور میں پیدا ہوئے، وہاں سے نقل مکانی کر کے سیت پور کے موضع سرکی میں سکونت اختیار کی ۔ وہ پرائمری تک تعلیم حاصل کر سکے ۔ 1960ء میں معروف سرائیکی شاعر غلام حیدر یتیم جتوئی کی شاگردی میں شاعری کا آغاز کیا ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب سرائیکی شاعری اپنے عروج پر تھی ۔ ان کے ہم عصرشعراء میں جانباز جتوئی ، اقبال سوکڑی ، احمد خان طارق ، سفیر لاشاری ، سرور کربلائی ، قیس فریدی ، صوفی فیض محمد دلچسپ، امید ملتانی اور دوسرے بہت سے نامور سرائیکی شعراء سرائیکی شاعری کا عَلم بلند کئے ہوئے تھے ۔ ان حالات میں سید آزاد شاہ نے نہ صرف اپنی ادبی شناخت بنائی بلکہ سرائیکی میں بہت بڑا نام پیدا کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ دریاؤں کے ساتھ تہذیبیں جنم لیتی ہیں اور انہی مہذب علاقوں میں بڑے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ سید آزاد شاہ بھی دریائے سندھ اور دریائے چناب کے عین درمیان ’’ کچھی ‘‘ میں پیدا ہوئے اور اپنی سوچ ، اپنی فکر اور اپنی شاعری کے با وصف بہت بڑا نام پیدا کیا اور سرائیکی ماں بولی کی بہت بڑی خدمت کی ۔ ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ ان میں چند ایک نمایاں ناموں میں سیف اللہ خان سیفل ، شبیر شوکت سعیدی ، عابد حسین عامر، اللہ ڈیوایہ انْ پھر، فیض مگی جام پوری، منظور اختر فاضل پوری ، حاجی منیر صادق، صابر روہیلانوالی، غلام حیدر حیدر، محبوب حسین محبوب ، قاری اسلم نشتراور دوسرے شامل ہیں ۔ سچی اور حقیقی بات یہی ہے کہ سید آزاد شاہ اپنی شاعری ، اپنی سوچ اور اپنی فکر کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔حقیقت یہی ہے کہ مجبورعیسیٰ خیلوی ‘ شاکر مہروی اورسید آزاد شاہ کو بھلانا بھی چاہیں تو بھلا نہ سکیں گے ، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اپنی سوچ، فکر اور اپنے شعروں کے ساتھ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker