افسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

آئیڈیل ۔۔ سائرہ راحیل خان

“بھلا تمہیں ایسا کیا چاہیے جو مجھ میں نہیں ، مانا کہ تم ایک بھرپور شخصیت کی حامل ہو، ایسی شخصیت جسکی چاہ ایک عام انسان کے لیے کسی حسرت سے کم نہیں ، مگر میں بھی کوئی عام انسان نہیں ہوں ، مجھ میں وہ سب ہے جسکی تمنا بہت سی ماہ جبینوں کا خواب ہے۔ تمہارا بےوجہ انکار، میری عزتِ نفس کو مجروح کر رہا ہے، پلیز مت کرو ایسا”
میں اسکے انکار پر نا صرف دکھ بلکہ اپنے جذبات کی توہین شدت سے محسوس کر رہا تھا، جسکا میں اس سے شکوہ کرنے آیا تھا،،، مگر وہ میری باتوں کو بظاہر نظرانداز کرتے ہوئے اسوقت کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھی، مجھے اسکی اس بے نیازی پر شدید غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔۔
“میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں” اس بار میں نے اسے قدرے اونچی آواز میں مخاطب کیا تو لائبریری میں آس پاس موجود باقی لوگ بھی میری طرف متوجہ ہوئے ، جس پر اسنے کتاب بند کرتے ہوئے میری طرف گھور کر دیکھا اور مخاطب ہوئی ،،،، “آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے، کیوں تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آرہی؟ میں نے کب کہا کہ تم میں کؤئی کمی ہے؟ بس تم میرا آئیڈیل نہیں ہو، پلیز مجھ سے بحث مت کرو”
“آخر کون ہے تمہارا آئیڈیل ؟ مجھے بھی تو بتاؤ” میں نے دھیمے مگر بیزار لہجے میں اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“جب میں خود جان جاؤں گی تب تمہیں بھی بتا دوں گی” اسنے بدستور لاپرواہی برتتے ہوئے جواب دیا اور پھر سے کتاب پڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا جی چاہا کے میں اسکے ہاتھ سے کتاب چھین کر دور پھینک دوں اور اسکے ساتھ کچھ ایسا کر گزروں کے اسکا سارا غرور مٹی میں مل جائے ، مگر میں نے موقع محل کے پیشِ نظر اس سے مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کیا اور واہاں سے پلٹ آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پہلے بھی کسی کو خاطر میں نا لاتی تھی مگر مجھے اپنے لئے اس سے ایسی بے رخی کی امید نہیں تھی،،،،
مجھے اس سے محبت تھی مگر میری چاہت کے جواب میں اسکا بےوجہ انکار میری انا کو ٹھیس پہنچا رہا تھا،،،، بلخصوص اسکے آج کے سرد اور جذبات شکن رویے نے میرے دل میں اسکے لیے شدید غصہ بھر دیا تھا،،،، اس سوچ سے بالاتر کے جذبات زور زبردستی کے قائل نہیں ہوتے، مجھے اسکا میرے احساسات کو یکسر رد کرنا نہایت گراں گزرا تھا،،،،،،،، یہ میرے اور اسکے درمیان آخری گفتگو تھی، اسکے بعد ہم جب تک کیمپس میں رہے، کبھی ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج برسوں بعد ہم سب پرانے دوست اور ہم جماعت “اولڈ سٹوڈنٹ ڈے” کی تقریب میں اکھٹے ہو رہے تھے،،،، وقت اتنا گزر چکا تھا کے تقریباً ہم سب ہی اپنی اپنی زندگیوں میں ایک ساتھی کو شریک بنا چکے تھے،، سب ایک دوسرے سے تعارف اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میری نگاہیں بار بار کسی کی تلاش میں دور تک نکل جاتی تھیں ،جس دل میں ابھی تک ایک خلش باقی تھی وہ غیر ارادی طور پر اسکی آمد کا منتظر تھا۔ دیکھنا چاہتا تھا کے اسکی پسند کیا تھی، کون تھا اسکا آئیڈیل جسکی خاطر اسنے مجھے ٹھکرایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکدم ماحول کی گہماگہمی کچھ ماند پڑ گئی، کسی نے اسکا نام پکارتے ہوئے اسکی آمد سے مطلع کیا،،،،، برسوں بعد میرا دل ایک بار پھر سے اسکے لئے بیقرار ہوا۔۔
“پہلے سے کہیں زیادہ باوقار، حسین اور سلجھی ہوئی شخصیت کیساتھ وہ ہمارے بیچ موجود تھی” میری نظریں اسکے ساتھ کسی اور کو بھی تلاش رہی تھیں ،،،،،،، اسکی آمد کے چند ہی لمحوں بعد ویل چیئر پر موجود ایک شخص اسکے برابر آ رکا، دونوں نے ایک دوسرے کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا، ماحول میں چاروں طرف خاموشی چھا گئی ، میرے ساتھ ساتھ واہاں موجود باقی تمام نظروں میں بھی حیرت اور سوال موجود تھا۔۔۔۔۔۔ “کیا یہی ہے میرا رقیب اور اسکا آئیڈیل ”
میں نے خود کلامی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے مجھ سمیت سبکی نگاہوں میں اپنے لیے سوال کو بھانپتے ہوئے ، اس شخص کا تعارف کروایا،،،،،،،،،،، “ان سے ملئے ! یہ میرے شوہر ہیں ” اسنے نہایت پر اعتماد انداز میں اس شخص کے متعلق بتایا،،،،،،، ،،،،،، “اچھا تو یہ تھا تمہارا آئیڈیل “،،،،،،،،،،،،،،،،،
اسکے اس انکشاف سے جہاں سبکے چہرے مزید حیرت زدہ ہو گئے وہیں رقابت کی جلن اور دل کی خلش سے مجبور ہوکر میں ایک غیر مناسب اندازِ تکلم اختیار کر گیا ،،،،،
“جی بالکل یہی ہیں میرے آئیڈیل ” اسنے میرے رویے کو محسوس کرتے ہوئے ، ویل چیئر پر بیٹھے اس باوقار شخص کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور نہایت خوش اسلوبی سے جواب دیا۔۔۔
اس سے پہلے کے میری نگاہوں میں مزید کچھ سوال پروان چڑھتے، اسنے میری تشویش بھانپتے ہوئے اپنے ساتھی سے متعلق تعارف کو آگے بڑھایا ،،،،، “انکا میری زندگی میں ہونا باعثِ مسرت ہی نہیں قابلِ فخر بھی ہے، کیوں کے چند خوش نصیبوں کو ہی اللہ یہ موقع فراہم کرتا ہے کے وہ اپنی بھرپور ذات سے کسی کی ادھوری شخصیت کی تکميل کر سکیں ، اور ان خوش نصیبوں میں فقط میرا ہی نہیں ہم دونوں کا شمار ہوتا ہے،، اللہ نے کسی بھی انسان کو کامل نہیں بنایا ، دو ایسے ادھورے انسان جو صحیح معنوں میں ایک دوسرے کی ذات کی تکمیل کا باعث بنیں ، بےشک اس سے “پرفیکٹ آئیڈیل” کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ میں نے اس کی طرف الجھی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ وہ میری الجھن جان کر ایک بار پھر گویا ہوئی ” “کسی کا محض خوش شکل، یا خوش گفتار ہونا،یا جسمانی طور پر بر تر ہونا اسکو کسی دوسرے کیلئے مکمل ائیڈیل تو کیا معاون بھی نہیں بنا سکتا۔ تکمیل ذات کے اس سفر میں آئیڈیل وہ ہوتا ہے جو آپ کی ذات کی کمی کو آپنی بھرپور شخصیت سے بخوبی ڈھانپ لے۔ جو اپنی بر تری کے احساس میں نہیں، آپ کے خواب کی تعبیر بننے کیلئے جیئے۔ جس کے لئے اپنی انا کی جیت سے زیادہ اپنی شریک حیات کی عزت نفس ہو،
بات کے اختتام پر ، ویل چئیر پر بیٹھے اسکے ساتھی نے اپنے کاندھوں پر رکھا اسکا ہاتھ ، اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
دونوں کی آنکھوں میں نمی کیساتھ ساتھ غضب کا اعتماد اور سرشاری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی باتوں میں اپنے شریکِ حیات کے لیے محبت اور احترام جان کر میں اپنے طنزیہ لہجے پر خفیف سا ہو کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری آنکھوں میں امڈتی ہوئی نمی نے وہ سب کہہ دیا جس کو کہنے کے لئیے مجھے صدیاں درکار تھیں۔ اسوقت میری نظروں میں معذرت کیساتھ ساتھ اسکے بےمثال “آئیڈیل ” کے لئے بھرپور احترام بھی تھا۔ محض وقتی لگاؤ یا جذباتی کشش کو ساری عمر محبت سمجھنے والے دانشور کو کس قدر سادگی سے اس نے محبت کا اصل مفہوم سمجھا دیا تھا۔ اس کے اُس انکار کا قد آج مجھے اُس کے “آئیڈیل” کی صورت نظر آ گیا تھا جس کے نیچے مجھے اپنا وجود کسی بونے جتنا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker