Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا
  • ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری
  • اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں اور غیر یقینی صورتِ حال : جے ڈی وینس آج پاکستان روانہ ہوں گے
  • امن معاہدہ کی طرف بڑھتے ہوئے فریقین کی لاچاری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر قبضے کا دعویٰ
  • تیل اور گیس کے نئے ذخائر : عوام کے چولہے پھر بھی ٹھنڈے : شہزاد عمران خان کی خصوصی رپورٹ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»اہم خبریں»آئی ایم ایف معاہدہ میں تاخیر ہوئی تو اس پر حکمت عملی بنائیں گے، وزیر اعظم
اہم خبریں

آئی ایم ایف معاہدہ میں تاخیر ہوئی تو اس پر حکمت عملی بنائیں گے، وزیر اعظم

ایڈیٹرجون 11, 20230 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Shahbaz-Sharif
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

لاہور:وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود اگر معاہدے میں تاخیر ہوئی تو اس پر حکمت عملی بنائیں گے۔
لاہور کے سبزہ زار اسپورٹس کمپلیکس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اہم معاہدے کی راہ میں اب کوئی دقت نہیں ہے، ہم نے اس کی تمام شرائط خلوص اور ایمانداری سے مکمل کردیں تاکہ ہمیں باقی اقساط جاری کردی جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ میری آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے فون پر بات ہوئی تو میں نے ان کو کہا اگر آپ زبانی وعدہ کریں کہ معاہد ہوجائے گا تو ہم آپ کو بجٹ کی بھی اور باقی دوسری بھی جو معلومات آپ کو چاہییں ہم آپ کو فراہم کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ اسی ماہ ہوگا اور اربوں ڈالرز کی اقسام ہمیں مل جائیں گی، لیکن اگر خدانخواستہ اس کے باوجود بھی اس میں تاخیر ہوتی ہےتو پھر میں قوم سے خطاب کروں گا، اللہ نے اس ملک کو بڑے وسائل سے نوازا ہے، اس ملک کو آپ جیسے جری لوگ دیے ہیں، کروڑوں نوجوان بیٹے بیٹیاں جو بہت قابل اور ذہین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان، مزدور، کارخانے دار، سرکاری افسر، فوجی اور پولیس اہلکار اور سیاست ہمارے وسائل ہیں، کوئی گھبرانے کی بات نہیں، اللہ پاکستان کو ہمیشہ محفوط رکھے گا۔
’شمسی توانائی کے شعبہ میں تعاون کے خواہشمند ہیں، ترک سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کریں گے‘
گزشتہ دنوں اپنے دورہ ترکیہ کے دوران ترک خبر رساں ادارے ’حبر گلوبل‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو ایک بار پھر زبردست کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زبردست مقابلہ کرنے والی شخصیت ہیں، وہ ایک عظیم سیاستدان اور رہنما ہیں، ترکیہ کی عوام نے ان پر غیرمتزلزل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام، میری حکومت اور مجھ سمیت ہم سب بہت خوش اور اس شاندار کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں، میں اپنے بھائی رجب طیب اردوان کے ساتھ بہت قربت سے مل کر کام کرنے کا متمنی ہوں تاکہ ہم اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی روابط میں اضافہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اتفاق کرچکے ہیں کہ آنے والے تین سالوں میں ہم اپنی باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے، یہ کوئی مشکل ہدف نہیں ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم مل کر یہ ہدف حاصل کرلیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، یہ یک جان دوقالب کی مانند ہیں جن کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، ترکیہ کی جنگ آزادی سے اس سے بہت پہلے سے ان تعلقات کی تاریخ ہے، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ترکیہ امن، سیلاب، زلزلہ سمیت ہر مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، صدر طیب اردوان، ان کی حکومت اور ترکیہ کی عوام نے ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس طرح پاکستانی عوام اور ہر حکومت ترکیہ کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے ایک پیج پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ سفر ہے جسے ہم نے اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم محنت اور مقصد سے وابستگی کے ساتھ مل کر اپنی خواہشات کہ پایئہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنا باہمی تجارتی حجم بڑھائیں گے، ہم شمسی توانائی کے شعبہ میں ترک سرمایہ کاروں کے تعاون کے خواہشمند ہیں کیونکہ ترکیہ شمسی توانائی کا زبردست تجربہ رکھتا ہے، ہم ترک سرمایہ کاروں کو پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بھی دعوت دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں پن بجلی کے منصوبے مکمل کئے ہیں، دیامر بھاشا جیسے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں، ترک سرمایہ کاروں سے اس پر بات ہوئی اور انہوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترک سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اورترکیہ میں اساتذہ، طلبا اور تاریخ دانوں کے وفود کے تبادلے کے وسیع مواقع موجود ہیں، انہوں نے دعوت دی کہ باہمی تعلقات کے اس زبردست سفر سے آگاہی کیلئے سیمیناروں کا انعقاد کریں، اس حوالہ سے ہماری خواہشات اور مقاصد کی تکمیل صدر طیب اردوان کے موجودہ دور میں ہوگی، طیب اردوان ایک دوراندیش اور صاحب بصیرت رہنما ہیں جن کا بڑا احترام ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق برادرانہ ہے اور ہر اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں، صدر اردوان کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے پاکستانی آموں کا تحفہ لایا، پاکستان کے سندھڑی آم بہت مشہور ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اس نیٹ ورک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، اس سے سفری لاگت میں کمی آئے گی، ہماری پیداوار اور مصنوعات کو ان منڈیوں میں مقابلے کا موقع ملے گا اور وہ اس سے مستفید ہوسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرا مقصد ہوگا کہ اس ریل نیٹ ورک کو جدید ترین اور بہترین کارکردگی کا حامل بنایا جائے، پاکستان کی افرادی قوت زیادہ مہارت اور سستی ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کیلئے فائدہ مند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ترکیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اور پاکستانی سرمایہ کار ترکی میں سرمایہ کاری کریں، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افرادی قوت میسر ہو تو یہ ایک زبردست مجموعہ ہوگا جس سے ہم زیادہ قیمتی اشیاء مقابلتا انتہائی بہتر قیمت پر تیار کرسکیں گے، اس سے ہمارے باہمی تعاون اور باہمی منصوبوں میں مواقع کا ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہے، پاکستان اگرچہ مشکل چیلنجوں سے گزر رہا ہے، بین الاقوامی منڈیوں میں اشیائے خورددونوش کی قیمتیں آسمانوں کو پہنچ گئیں، درآمدی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں، ہمیں گزشتہ برس بدترین سیلابوں کا سامنا رہا جو ہماری تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن تھے، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، ہماری فصلیں تباہ ہوئیں، ہمارا انفراسٹرکچر تباہ اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ہماری قوم ہمہ گیر صلاحیتوں کی حامل، مضبوط اور بہادر ہے، اس لئے ہم ان چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہماری ہر طرح سے یہ کوشش ہے کہ چیلنجوں سے نمٹیں۔
انہوں نے کہا کہ سخت محنت اور باہمی تعاون سے ہم قابل فخر انداز میں لگن کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
’جس طرح شمالی آئرلینڈ، سوڈان، بلقان کے مسائل حل کئے گئے، اسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے‘
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ قریبی دفاعی تعلقات کے حامل ہیں، دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان اب تک بہت سے دفاعی معاہدے ہوئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تذویراتی شراکت داری قائم ہے، پاکستان ترکیہ کی بحری جہاز بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ کا حصہ بن چکا ہے، اس پر ترکیہ میں کام ہو رہا اور کچھ حصہ کراچی شپ یارڈ پاکستان میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے، یہ باہمی اشتراک کی ایک زبردست مثال ہے، اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی دونوں ملکوں کے مفاد میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے، ترکیہ نے کشمیر کاز پر ہمیشہ پاکستان کی غیرمشروط حمایت کی ہے جس کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیری بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، بھارتی مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے اور کشمیری عوام کی قربانیوں سے بھی پوری دنیا آگاہ ہے اس کے باوجود بھارت ضد پر اڑا ہوا ہے، بھارت کا کشمیریوں کا زیرتسلط رکھنے کا طرزعمل بہت بڑا منفی پہلو ہے، دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ جس طرح شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ حل کیا گیا تھا، جس طرح سوڈان، بلقان کے مسائل حل کئے گئے اسی طرح وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، یہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات مزید تاخیر بغیر پوری ہوں، بصورت دیگر ہمارے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے لوگوں کو تعلیم، خوراک ، روزگار مہیا کرنے اور جہالت اور غربت کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے محدود وسائل کو ان شعبوں میں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، ہمیں مزید اسلحہ اور جنگی جہاز خریدنے سے فائدہ نہیں ہوگا، تنازعات کے حل کا واحد راستہ پرامن مذاکرات ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے پاکستان میں اتحادی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے کیلئے بھرپور کاوشیں کی ہیں، عالمی برادری کو متحد کیا اور جینوا میں کامیاب ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا، جہاں دوست ممالک اورعالمی برادری نے امداد کے وعدے کئے، اتحادی حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے سنگین خطرے سے بچایا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اس کے نتیجہ میں پاکستان کو سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالا جس کا کریڈٹ مشترکہ طور پر حکومت اور فوجی قیادت کو جاتا ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
’امید ہے جلد یا بدیر آئی ایم ایف بورڈ نویں جائزہ کی منظوری دیدے گا‘
وزیراعظم نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود ہم اپنی معیشت کی بہتری پر توجہ دے سکے ہیں، ہمارے ٹھوس اقدامات کی وجہ سے اس سال گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی، اس سے گندم کی درآمد میں صرف ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، ہمیں امید ہے کہ اس جیسے بہت سے اچھے اقدامات کی وجہ سے ہماری کپاس کی فصل بھی بہت اچھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکسٹائل کی صنعت کا مرکز ہے، گزشتہ سالوں میں ہمیں کپاس درآمد کرنا پڑتی تھی مجھے امید ہے کہ اس سال ہم اپنی طلب کا ایک بڑا حصہ اپنی مقامی پیداوار سے پورا کر سکیں گے، ہمیں ان اقدامات پر فخر ہے لیکن ابھی ہم نے طویل سفر طے کرنا ہے، ہم نے ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ نویں جائزہ کی تکمیل کرنا ہے، ہماری طرف سے تمام شرائط اور مطالبات پورے کردیئے گئے ہیں، امید ہے کہ جلد یا بدیر آئی ایم ایف بورڈ نویں جائزہ کی منظوری دیدے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے ہمارا کثیرجہتی اور دو طرفہ اداروں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست کو مکمل ہو رہی ہے لیکن بغیر کسی ٹھوس وجوہات کے پی ٹی آئی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی تھی اگر انہیں قومی اسمبلی کی تحلیل میں اتنی دلچسپی تھی تو انہوں نے اپنی مدت کے دوران ایسا کیوں نہیں کیا۔
’کچھ عناصر نے پنجاب پر اقتدار پر تسلط قائم کرنے کی بے بنیاد الزام تراشی کی‘
ان کا کہنا تھا کہ عمران کان کے پاس موقع موجود تھا، پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی تاکہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے پرامن تصفیہ پر پہنچ سکیں کیونکہ پی ٹی آئی نے دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوئے ہیں، اب انہوں نے دو اسمبلیاں تحلیل کیں، پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ماضی میں کچھ عناصر کی جانب سے یہ بے بنیاد الزام تراشی ہوتی رہی کہ پنجاب نے اقتدار پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پنجاب کا دیگر تینوں صوبوں کے ساتھ برابری کا تعلق ہے، ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، یہ ہماری اقدار ہیں ،اگر ہم نے ایک خاندان کی طرح آگے بڑھنا ہے تو ہم سب نے مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہے اور نفع نقصان میں حصہ دار بننا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کرانے ہیں تو آنے والے وقتوں میں ایک نظیر قائم ہوجاتی کہ سب سے پہلے بڑے صوبے میں اور دیگر صوبوں میں بعد میں انتخابات ہوتے تو ایک سنجیدہ عنصر وقت پر فیصلہ کرنے والے ووٹر کا ہے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ پنجاب میں ایک خاص پارٹی کامیاب ہوئی ہے تو اس کے دوسرے صوبوں میں قدرتی اثرات ہوں گے جو ناانصافی اور جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے عام انتخابات کے حوالے سے کسی تصفیہ پر پہنچنے کی بھرپور کوشش کی، ہماری اور تحریک انصاف کی کمیٹی میں اتفاق رائے بھی ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی چیئرمین نے اسے ویٹو کردیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے انعقاد کا سوال توقعات کا نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین کو کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے اقدامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے اپنے چار سالہ اقتدار میں نوازشریف سے لے کر پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں تک کو بے بنیاد الزامات کے تحت ساری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا، لیکن تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، کوئی احتجاج نہیں ہوا، ہم نے مہذب انداز میں پارلیمنٹ میں اس پر آواز اٹھائی لیکن عمران خان کی گرفتاری پر ان کی ہدایت پر شرپسند جتھوں نے ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل تھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 6 جنوری 2021 کو اس کو کیپیٹل ہل میں جو ہوا، ان حملہ آوروں کو قانون کے مطابق عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی جارہی ہیں، کیا پاکستان میں ایسے عناصر کے خلاف کوئی الگ سلسلہ ہونا چاہئے اگر ایک سنگین جرم ہوا ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام مل کر دنیا کیلئے امن و خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

لاہور وزیر اعظم شہباز شریف
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسندھ میں استحکام کی وجہ سے ترقی ہوئی ہے، وزیراعلیٰ
Next Article امریکاپر الزام پھر معافی مانگ کرلابی کمپنیاں بناتاہے: مریم اورنگزیب کی عمران پرتنقید
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

محسن نقوی: رومانوی شاعر اور ذاکر کی ہمہ جہت شخصیت : ڈاکٹر علی شاذف کا اختصاریہ

جنوری 15, 2026

لاہور: طالبہ کی ’خود کشی‘ کی کوشش، دوسری منزل سے چھلانگ لگادی ، حالت تشویش ناک

جنوری 6, 2026

لاہور کا کھوجی : یاسر پیرزادہ کا کالم

دسمبر 21, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 22, 2026
  • ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا اپریل 22, 2026
  • ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی اپریل 22, 2026
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم اپریل 22, 2026
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.