ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کی خواہش کا اعادہ کیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی سے ڈھاکہ میں ملاقات کے دوران گفتگو میں کہی۔
دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان اور بنگلہ دیش ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔بنگلہ دیشی وزیراعظم اور پاکستانی سفیر کے درمیان تقریباً گیارہ مہینوں میں یہ دوسری ملاقات تھی۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک گہرا جمود رہنے کے بعد گرمجوشی آنا شروع ہوئی ہے۔غور طلب ہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں ممالک نے حسینہ واجد کے پہلے دورہ پاکستان کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کو تحریری طور پر وزیر اعظم عمران خان کی دعوت قبول کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ جولائی میں دی گئی تھی۔
تاہم سفر کے لیے ابھی تک کوئی تاریخیں طے نہیں کی گئی ہیں جبکہ حسینہ واجد نے بھی عمران خان کو بھی بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت دی ہے۔پاکستان نے بنگلہ دیش کو وزیراعظم کے دورے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔
مزید برآں اسلام آباد دو طرفہ میکانزم مثلاً سیکریٹریز برائے خارجہ کے مذاکرات کی بحالی کا خواہاں ہے جو تقریباً 13 سالوں سے منعقد نہیں ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب 2009 میں حسینہ کا بطور وزیراعظم دوسرا دور حکومت شروع ہوا تھا کیوں کہ انہوں نے 1971 کے ‘جنگی جرائم’ کے نام نہاد مقدمے کی سماعت بحال کروائی تھی۔
جنگی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے اپریل 1974 میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے پیش نظر پاکستان نے ہمیشہ 1971 میں ملک کی تقسیم کو ایک بند باب سمجھا ہے۔تاہم گزشتہ برس تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارت کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے بعد دہلی-ڈھاکا تعلقات میں گرمی پیدا ہونا شروع ہوئی تھی۔مزید یہ کہ ڈھاکہ میں بڑھتا ہوا چینی اثر و رسوخ بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لایا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

