رضی الدین رضی کی غزل : وعدہ کم ہے
تجھ سے ملنے کا اسی واسطے وعدہ کم ہے
اس دفعہ اپنا بچھڑنے کا ارادہ کم ہے
آج زخموں کو جو دیکھا تو بہت شاد ہوا
میں سمجھتا تھا مرا دل تو کُشادہ کم ہے
لاکھ چاہوں گا مگر اوڑھ نہیں پاؤں گا
وہ مرا عشق زیادہ ہے لبادہ کم ہے
کم ہے اوروں کے لیے بھی تو عنایت تیری
میرے حصے میں مگر اس سے زیادہ کم ہے
پیار میں اب کے نئی چال چلی جائے رضی
مات کرنا ہے اُسے اور پیادہ کم ہے
( الگ ۔۔ مطبوعہ جولائی 2010 ء )
فیس بک کمینٹ

