یا تو سوج جھوٹ ہے یا پھر یہ سا یا جھوٹ ہے
آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے
مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا
خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا بھوٹ ہے
خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ سا تھ
کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہےو ہ دریا جھوٹ ہے
زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ جانیئے
دشت میں بھٹکا ہوا جیسے بگولا جھوٹ ہے
( شعری مجموعے : ”ہمیں تیری تمنا ہے“ سے انتخاب )
فیس بک کمینٹ

