اطہر ناسک کی غزل : اچھا بھلا ادیب رسالے میں مر گیا چپ چاپ حبسِ وقت کے پنجرے میں مر گیا جھونکا ہوا کا آتے ہی…
Browsing: غزل
رضی الدین رضی کی غزل : زندگی جھٹک دوں گا ادھار مانگی ہوئی روشنی جھٹک دوں گا میں ضد میں آؤ ں گا تو زندگی جھٹک…
یا تو سوج جھوٹ ہے یا پھر یہ سا یا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں…
دن بھر تو ڈھونڈتے رہے تجھ کو گلاب میں چل یار شب بخیر کہ ملتے ہیں خواب میں یہ پیاس کا سفر تو کوئی بات ہی…
کسی کے باب میں تحریرہونے والاتھا وہ ایک خواب جوتعبیر ہونے والاتھا پلٹ گیاجومجھے فتح کرنے آیاتھا وگرنہ میں تو اب تسخیر ہونے والاتھا کمال عدل…
دوستی چھوڑ کر دشمنی چھوڑ کر میں چلا شہر سے زندگی چھوڑ کر ہم بھی کیا لوگ ہیں بڑھتے جاتے ہیں بس تیرگی کی طرف روشنی…
لکیریں کھینچ کر مبہم سا اک پیکر بنانا ہے پھر اُس میں رنگ بھرنے ہیں اُسے بہتر بنانا ہے ابھی تو اس محبت میں بہت سے…
جب کِسی جاتے ہُوئے کو روکنا آ جائے گا بات کرنا سِیکھ لیں گے بولنا آ جائے گا دیکھئے دیکھا ہے کتنے غور سے اس نے…
تم اس کو پاس بٹھانا ذرا نکال کے وقت ملے گا کوئی مسافر تمہیں زوال کے وقت خوشی کے وقت تو آنکھیں چھلک ہی جاتی ہیں…
منزل اگر نہیں ہے کوئی راستہ تو ہو اپنے بھٹکتے رہنے کا کوئی سلسلہ تو ہو میری تلاش میں کرے خود کو کوئی تلاش میری طرح…
