رضی الدین رضی کی غزل : ہونا نہیں ہے
اگراب معجزہ ہونانہیں ہے
ہمیں وقفِ دُعاہونانہیں ہے
محبت مشغلہ ہونانہیں ہے
اسے اب جابجاہونانہیں ہے
وہ میرے ساتھ ہوناچاہتی تھی
پھراُس نے کہہ دیا ۔۔۔ہونانہیں ہے
پیمبرتونہیں پرجانتاہوں
کہ کیاہوناہے کیاہونانہیں ہے
ہم اتنے پاس کیوں بیٹھے ہوئے ہیں
اگرہم نے جداہونانہیں ہے
رضی جوقرض ہے ان چاہتوں کا
کبھی مجھ سے اداہونانہیں ہے
رضی الدین رضی
( الگ ۔۔ مطبوعہ جولائی 2010 ء )
فیس بک کمینٹ

