( گزشتہ سے پیوستہ )
پہلی ویب سائٹ اوپن کی۔ آپ کو کیسا رشتہ چاہیے پر کلک کیا۔صوبہ سلیکٹ کیا تو رنگ سے زبان تک قوم سے لے کر فرقے تک لسٹ کھل کر آگئی۔۔ پہلی بار مجھے پتا چلا کہ ہمارے ملک میں کتنے فرقے کتنی قومیں ہیں۔۔۔۔یہ فارم پر کرکے دیا تو اب رشتے سامنے آگئے۔۔بنیادی معلومات ڈسکرپشن پر لکھی ہوتی۔۔۔ جتنی پروفائیلز کھول کر دیکھیں ان پر لڑکی کے لیے شرائط میں خوبصورت اور کم عمر کی ڈیمانڈ ضرور ہوتی۔۔۔کچھ نے واشگاف انداز میں لکھا ہوا تھا ۔جب کہ کچھ نے لفاظی میں لپیٹ کر خواہش ایک ہی بیان کی تھی۔
مثلاً ” بے شک صورت سے زیادہ سیرت پر یقین ہے۔۔لیکن خوبصورت تو ہو“۔۔۔
خیر میں نے چند پروفائیلز کو فائنل کیا۔۔پہلے کو میسج کیا ۔۔یہ بندہ ملتان سے تعلق رکھتا تھا۔ فوراً جواب آگیا۔۔
ہاں جی آپ نے شادی کے لیے ایڈ دیا ہے۔۔۔؟
جی وہ ۔۔۔میں نے نہیں میرے دوستوں نے دیا ہے۔۔
یعنی آپ اس بات سے لاعلم ہیں اور شادی نہیں کرنا چاہتے ؟
کیوں نہیں کرنا چاہتا۔۔
یعنی آپ کی رضامندی سے ایڈ دیا گیا؟
جی یہی سمجھیں
۔۔تو پہلے بھی تو یہی پوچھا تھا میں نے؟۔۔
میں نے اسے لڑکی کے بارے میں بنیادی معلومات دی۔۔اور پوچھا کہ مزید کیا معلومات چاہیے؟
اب اس کا جواب کچھ یوں آیا کہ میرے ماں باپ پہلے بیٹیوں کی شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔ان کے سامنے میں شو نہیں کرنا چاہتا نہ ہی انہیں میرے اس ایڈ کی خبر ہے۔۔۔آپ ان سے رابطہ کریں اور میرے رشتے کی بات کریں۔
اس بات پر میرا دماغ گھوما۔۔۔
کیا مطلب اس با ت کا آپ کیوں نہیں بات کرسکتے اور ہم کیوں کریں ۔۔؟
وہ۔۔دراصل خاندان میں کافی شرمیلا مشہور ہوں۔۔اورمیں نے کبھی اپنے منہ سے شادی کی بات تک نہیں کی۔
یعنی اب شادی بھی کرنی تھی۔۔اور خودساختہ شرمیلے پن کی وجہ سے خوار تھا
آپ میرے والدین کو اس ایڈ کا ہرگز مت بتانا ۔۔۔میں انک و یہی شو کرونگا کہ میں آپ کو نہیں جانتا
یہ بات میری برداشت کی آخری حد ثابت ہوئی۔۔۔
الو کے پٹھے ۔۔۔تم میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ لڑکی والے تمہارے گھر والوں کی منت سماجت کریں کہ ہم سے بیٹی لے لو؟؟؟ اگر اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ ماں باپ سے اس جائز خواہش کا اظہار کرسکو تو بھاڑ میں جاؤ
اس نمبر کو لسٹ سے نکال کر دوسری پروفائل کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔اس سے ایڈ کا پوچھا تو اس نے تصدیق کی کہ ہاں میں نے ہی لگائی تھی۔
بنیادی معلومات کے بعد اس نے لڑکی کی عمر اور ظاہری حلیے کا پوچھا ۔۔اس کے بعد لڑکی کا نمبر مانگنے اور تصویر دیکھنے کی فرمائش کی
۔۔میں نے تصویر بھیجنے سے معذرت کرلی ۔۔کہ ماں باپ کو لے آؤ اور دیکھ لو۔۔ پسند آئے تو رشتہ کرلینا۔۔۔۔میری طرف سے صاف جواب ملنے کے بعد اس کا ری ایکشن کچھ یوں تھا۔۔۔
میرے والدین تو میری شادی خاندان میں ہی کرنا چاہتے ہیں ۔۔لیکن مجھے اگر لڑکی پسند آگئی تو میں ان کو قائل کرنے کی کوشش کرسکتا ہوں۔۔
کرسکتا ہوں سے آئیڈیا ہوگیا کہ سبز باغ دکھانے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں۔۔۔
یعنی تم چاہتے ہوں تمہارے ساتھ کون بنے گا کروڑ پتی کھیلیں؟؟
۔۔اس نے جواب میں اپنے مقصد کو پھر سے انڈرسٹینڈنگ کے لبادے میں اوڑھ کر پیش کیا ۔۔اس کی خواہش تھی کہ لڑکی سے دوستی کرلے۔۔۔جب تک ماں باپ خاندان میں شادی نہ کردیں ٹائم پاس کی صورت آپشن موجود رہے گا۔۔۔اور ساٹھ سے ستر فی صد لوگ ویب سائٹوں پر ایسے ہی بیٹھے ہیں۔۔جو شادی کی بجائے دوستی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔۔نہ ان کا شادی کا ارادہ ہوتا ہے نہ ہی ایسے اشتھارات کا ان کے گھر والوں کو کوئی پتا ہوتا ہے ۔۔
خیر اس کا مقصد سامنے آنے کے بعد میں نے اس کے شجرہ نسب پر تھوڑی سی روشنی ڈالی اور اس کا نمبر بھی بلاک کردیا۔۔۔
اب چھان پھٹک کر ایک نسبتاً سنجیدہ شکل رکھنے والے خاصے پڑھے لکھے بندے کو ای میل کی کیونکہ اس نے رابطے کے لیے ای میل ایڈریس دیا ہوا تھا۔۔
دو گھنٹے بعد اس کا جواب آگیا۔۔۔ اس نے ایک بیان شروع کردیا جس کے مطابق میری ماں اپنی بھانجی لینا چاہتی اور باپ اپنی بھتیجی۔۔۔دونوں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہے ۔۔روز کی لڑائیاں جھگڑے۔۔درمیان میں میری عمر گزرتی جا رہی ہے۔۔۔
اب کیا کرنا ہے یہ بتائیں” میں نے اس کی تقریر سے تنگ آکر پوچھا ۔۔
میں چاہتا ہوں کہ دونوں راضی ہو کر میری پسند کو اپنی پسند بنا لیں۔۔تو مجھے طریقہ بتائیں کیا کروں۔۔
جب تمہارے ماں باپ اتنی عمر ساتھ گزار کر ایک دوسرے کی نہیں مان رہے ۔۔وہ تمہاری کیا مانیں گے۔۔۔ایسا کرو رہبانیت اپنا لو اور جنگلوں میں نکل جاؤ تمہارے بس میں کچھ ہوتا تو اتنی عمر تک کنوارے نہ پھر رہے ہوتے۔۔۔
اس سے بہتر جواب نہ تھا میرے پاس۔۔۔۔
آخری سلیکٹ کی گئی آئی ڈی سے رابطہ کیا تو اس نے پہلے تو فرینک ہونے کی کوشش کی ۔۔یعنی فلرٹ کرنے کی۔۔جب ذرا طبیعت صاف کروائی تو اس نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں نے مذاقاً ” جسٹ فار فن“ ایڈ لگایا تھا۔۔
اس نے بھلےمذاقاً پروفائل لگائی تھی۔۔۔میں تو سنجیدہ تھی۔
سو میں نے اسے میسج کیا۔۔کیا تمہیں پتاہے کہ کتنے بچے پیدائش کے فورا بعد اللہ کے پاس واپس چلے جاتے ہیں۔؟؟
فورا اسکالر بن گیا۔۔۔”ہاں۔یہ بہت سنگین مسئلہ ہے بعد از پیدایش بچوں کی اموات کی ریشو بہت ہے ہمارے ملک میں۔۔۔”
۔۔میں نے دوبارہ سوال کیا ۔۔کیا وجوہات ہوتی ہیں جانتے ہو؟ ۔
بولا ۔۔ہاں انکمپلیٹ گروتھ ۔۔آکسیجن کی کمی۔۔یا کوئی آرگن پراپر کام نہیں کر رہا ہوتا ۔۔
دماغی خرابی والے تو بچ جاتے ہیں وہ کیوں نہیں مرجاتے ؟؟؟
میرے سوال پر اس کا ماتھا ٹھنکا۔لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہی ہیں؟؟
کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمہیں بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوتا ۔۔بچپن میں ہی ختم ہوجاتے تو بہتر تھا ۔۔۔آج یوں دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ جسٹ فار فن تو نہ کر رہے ہوتے۔
اس جواب کے بعد اس کو بھی بلاک کردیا ۔۔۔۔۔۔ ویب سایٹس سے مایوس ہو چکی تھی۔۔۔ اب انٹرنیٹ پر موجود میرج بیورو میری آخری امید تھے۔۔۔تو کافی چھان بین کے بعد دو تین بیورو والوں سے رابطہ کرنے کا سوچا۔۔۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

