Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, اپریل 25, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
  • عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک
  • اسلام آباد کی کرفیو جیسی صورتِ حال میں ’’ خیر کی خبر ‘‘ نصرت جاوید کا کالم
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا
  • ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»آمنہ مفتی»کیوں استاد کیسی رہی؟ ۔۔ آمنہ مفتی
آمنہ مفتی

کیوں استاد کیسی رہی؟ ۔۔ آمنہ مفتی

ایڈیٹراکتوبر 14, 20182 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
sorry
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سب نے دیکھا اور جس نے نہیں دیکھا وہ اب جان لے کہ، پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کو کرپشن اور اقرابا پروری کے الزامات میں پابہ سلاسل، عدالت میں پیش کیا گیا۔ الزامات سچ ہیں یا جھوٹ، اس کا فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن یہ زنجیریں، جن سے ان کے ہاتھ باندھے گئے تھے، بالکل حقیقی تھیں۔اتنی حقیقی تھیں کہ ہر قدم پہ ان کے بجنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک بزرگ استاد، لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے اور اس پہ بھی انھیں مزید کسی کے سہارے کی ضرورت تھی، حال باقی دونوں کا بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ یہ زنجیریں تو غالباً ان منہ زور لوگوں کے لیے ہوتی ہیں جو پولیس کا گھیرا توڑ کے اور عدالت کی دیوار پھلانگ کے بھاگ سکتے ہیں۔ ان کافوری سروں والے بزرگوں میں تو شاید عدالت جانے کی بھی سکت نہیں تھی۔پولیس والے بھی اسی ملک اور معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں، کیا ان کو یہ نظر نہ آیا یا انھیں کسی خاص وجہ سے اساتذہ کی اس توہین اور تذلیل کا حکم دیا گیا تھا؟ وجہ جو بھی رہی ہو، یہ ایک ایسی افسوس ناک حرکت ہے کہ جس پہ جتنا بھی شرمندہ ہوا جائے کم ہے۔ اساتذہ کے ساتھ بد سلوکی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔پاکستان بنا تو ہمیں بنا بنایا نظامِ تعلیم ملا۔ جسے ہم میکالے کا نظامِ تعلیم کہہ کر کوستے پیٹتے تو رہے لیکن کسی استاد نے، کسی وزیرِ تعلیم نے اسے بدلنے کی کوئی بھی کوشش نہ کی۔تعلیم کا مقصد، یا تو بابو بننا یا اپنے آبائی پیشے کو چھوڑ کر کسی اور کی ملازمت اختیار کرنا رہا۔ وکیل ، ڈاکٹر، پائلٹ اور انجینیئر بننے کا خواب دکھانے والے اساتذہ اور ماں باپ نے شاید بچوں کی اخلاقی تربیت کی طرف سے آنکھیں موند لیں۔آج سے پچیس تیس سال پہلے تک بھی ٹیوشن پڑھنے والے بچے نالائق اور پڑھانے والے اساتذہ لالچی سمجھے جاتے تھے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ، ایک آدھ لیکچر کے بعد، باقی وقت، طلبا کے ساتھ گفتگو اور مباحثوں کے لیے میسر ہوتے تھے۔ امتحانوں کے پرچے آؤٹ ہونے اور پیسے لے کے نمبر لگانے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ اقربا پروری بھی ہوتی تھی لیکن ہم اپنے استادوں کی عزت کرتے تھے۔استاد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جو تیزی سے تنزل کی طرف جا رہا ہے اس لیے اساتذہ بھی اخلاقی بربادی کی اس دوڑ میں شامل ہوتے چلے گئے۔ ٹیوشن کے لیے بچے گھر بلانے سے لے کر، ٹیوشن سینٹر کھولنے، پرائیوٹ یو نیورسٹیوں میں پارٹ ٹائم پڑھانے تک کا سفر بڑی تیزی سے طے ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ، ملک سے اچھے ذہنوں کا انخلا بھی شدو مد سے جاری رہا۔ پیچھے رہ جانے والوں کو یہ ہی تربیت ملتی رہی کہ تعلیم کے دو ہی مقاصد ہیں، اول اچھے نمبر لینا، دوئم اچھی نوکری حاصل کرنا۔ طلبا اچھے نمبر بھی لیتے رہے اور اچھی نوکریاں بھی حاصل کرتے رہے لیکن پوری قوم پچھلے ستر سال کے دوران شدت سے تنزل کا شکار ہوتی گئی۔اخلاقیات کا جنازہ پٹ گیا۔ آج کی نئی نسل، جس زبان میں گفتگو کرتی ہے اور جس قسم کی بازاری گالیاں ان کی نوکِ زبان پہ ہر وقت دھری رہتی ہیں، اس سے ایک جرم تو ثابت ہو جاتا ہے کہ ہم نے اپنی قوم کی تربیت نہیں کی۔قوم کی یہ تربیت، ماں باپ اور اساتذہ مل کر ہی کرتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ خواندگی کی شرح بہت کم ہے اس لیے ماں باپ کو تو ہم کافی حد تک، کم تعلیم یافتہ اور غیر مہذب پس منظر کا ہونے کی چھوٹ دے سکتے ہیں لیکن کیا اساتذہ کو معافی دی جاسکتی ہے؟آج عدالتوں اور نیب میں بیٹھے لوگ، پولیس والے، سب ہی ہمارے تربیت یافتہ ہیں۔ بطور استاد جہاں مجھے اس بات کا شدید دکھ ہے کہ ان اساتذہ کو زنجیریں کیوں پہنائی گئیں وہیں مجھے ایک حکایت بھی یاد آرہی ہے کہ ایک قاتل کو اس کے جرائم پہ پھانسی دی جارہی تھی۔ آخری خواہش کی تکمیل میں اس کی ماں کو بلوایا گیا کہ مجرم مرنے سے پہلے ماں کے کان میں کچھ کہنا چاہتا تھا۔ ماں آئی، مجرم نے بات کرنے کے بہانے سے اس کا کان کاٹ کھایا اور کہا کہ جب میں نے پہلا جرم کیا تھا تو مجھے کیوں منع نہ کیا؟قصور شاید کہیں ہمارا ہی ہے۔ تربیت کرنے والے تو ہم ہی تھے۔ ہم ان کو استاد کی عزت کرنا کیوں نہ سکھا سکے۔ تحریری معافی بھی مانگ لی گئی ہے لیکن وہ موٹی موٹی زنجیریں میرے سامنے لہرا رہی ہیں اور بطور استاد بطور قوم کے معمار مجھ سے اورمجھ جیسے ہزاروں اساتذہ سے جواب طلب کر رہی ہیں کہ یہ کیسی قوم پالی ہے جسے استاد کی عزت کی دھیلے برابر بھی پروا نہیں؟مقدس عدالت کے بلند کنگورے جھک کے مجھ سے کہتے ہیں کیوں استاد ! کیسی رہی؟
( بشکریہ : بی بی سی )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleضمنی انتخابات : گیارہ قومی اور 24 صوبائی اسمبلی کی نشتستوں پرپولنگ جاری
Next Article پران نول…جس کے ساتھ ایک لاہور مر گیا۔۔ہزار داستان/مستنصر حسین تارڑ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 25, 2026

ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی

اپریل 24, 2026

عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 24, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 25, 2026
  • ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی اپریل 24, 2026
  • عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 24, 2026
  • بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک اپریل 23, 2026
  • اسلام آباد کی کرفیو جیسی صورتِ حال میں ’’ خیر کی خبر ‘‘ نصرت جاوید کا کالم اپریل 23, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.