الیزہ کوک نے کہا تھا کہ جوانی وہ سنہرا دور ہے جس میں گزرا ہر حسین لمحہ اس بیج کی مانند ہے جسے بہترین موسم میں بو دیا گیا ہو۔ زہے نصیب کہ اس منعم حقیقی نے جہاں مملکت خداداد کو بہت سے وسائل سے آراستہ کیا وہیں اسے نوجوانوں کی کثرت سے بھی نوازا۔یو نیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 35 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔مگر بد قسمتی کہیے یا کچھ بھی ہماری نوجوان نسل کے ساتھ بھی ایسے ہی معاملات ہوئے جس نے ہمارے شاہین کے پرکاٹ دی۔آج ہماری نوجوان نسل کو ایسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن کے سبب اقبال کا یہ شاہین پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے کی بجائے غیر یقینی کا شکا راور اپنی منزل سے بہت دور اورر سر گرداں ہے ۔
انہی مسائل میں سے ایک بہت اہم مسئلہ ثقافتوں کی یلغار ہے ۔یہ ایک ایسامسئلہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو بے پناہ مجروح کیا ہے ۔بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس نے ہماری نوجوا ن نسل کی تخلیقی استعداد کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔
بات اگر ثقافت کی جائے تو کسی صوفی نے بڑے دلنشیں انداز میں کہا تھاثقافت زندگی کی معطر عصا کو جلا دینے پراٹھنے والی خوشبو کا نام ہے۔یہ وہ ورثہ ہے جو ہمارے پاس اجداد کی امانت ہے جسے ہم نے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ ہم اس ثقافت کے حامل ہیں جس نے سندھ کی قدیم وادیوں میں جنم لیا ،گندھارہ میں شباب پکڑا اور پھراسلام کا لباس پہن کر ہمیشہ کے لیے مقدس اور لازوال ہو گئی ۔مگر افسوس آج بیرونی ثقافتوں کی یلغار سے اس انمول خزینے کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔اسکا حقیقی وارث ثقافتوں کی مڈبھیڑمیں اپنی پہچان کا متلاشی ہے ۔اس ثقافتی کشمکش میں وہ حیران ہے کہ کہاں ہے وہ ثقافت جو اسکے اجداد کی امانت اور اسکا حقیقی چہرہ ہے ۔
ایک وقت تھابڑوں کو زیادہ سے زیادہ یہ خوف لا حق تھا کہ کہیں نوجوان نسل تہذیب مغرب سے گمراہ نہ ہو جائے ۔ اسی لیے گاہے بگاہے وہ ہمیں اس ناپائیدار تہذیب کے کھوکھلے پن سے آگاہ کرتے نظر آتے ہیں۔اقبال بھی اس ضمن میں کافی متحرک رہے اور
مغرب اور مغرب پرستوں پر تنقید کے نشر یوں برساتے ہیں
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ،نا پائیدار ہوگا
پھر یوں ہوا کہ ہم 14اگست1947مغرب سے تو آزادی حاصل کر لی مگر مغربی ثقافت پیچھا نہ چھڑا سکے ۔مغربی ثقافت روشن خیالی کا لباس پہنے ہمارے بیچ دندناتی رہی ۔سوچا تو یہی تھا کہ دین کے نام پر حاصل شدہ اس مملکت خداد میں اسلامی ثقافت پروان چڑھے گی جو ہماری بنیاد بھی ہے اور حسن بھی۔مگردشمن جو ہماری آزادی سے خاصا رنجیدہ خاطراس نے بڑی گہری چال چلی ۔اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس ثقافت اور شناخت پر ہی حملہ کیا جائے جس کے تحفظ کے لیے الگ وطن حاصل کیا گیا تھا ۔پاکستانی فلم انڈسٹری زوال پذیر ہوئی تو اس نے اپنی چال چلی ۔ ہندوستانی فلموں کی صورت میں اپنی ثقافت کو ہمارے ہا ں متعارف کروانے کی کامیاب کوشش کی ۔وقت گزرتا گیاڈش کیبل کا زمانہ آیا ۔وہی کیبل اور ڈش جو کبھی معیوب سمجھی جاتی تھی گھر گھر کی زینت بنی تو اک نئی مصیبت آن کھڑی ہوئی ۔ہمارا نو جوان جو پہلے ہی مغربی اور اپنی تہذیب میں تذبذب کا شکار تھا اب اسے ایک اور ثقافت کا سامناتھاجو کہنے کو دشمن کی تھی مگر بڑے دلچسپ اور دلنشین لباس میں تھی ۔حالات دن بدن ابتر ہوتے گئے ۔اب دن رات ہندوستانی ثقافت فلموں،ڈراموں اور یہاں تک کے کارٹون کی صورت میں ہماری جوان نسل کے ذہنوں میں نفوذ کرنے لگی ۔
حالات کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے 25اگست2010فاضل عدالت نے ہندوستانی چینلز پر پابندی عائد کر دی مگراسی دوران پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے نام پر نجی تفریحی چینلز کا ایک سیل رواں تھا جو بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔انہوں نے پاکستانی ڈرامہ کلچر کو فروغ دینے کی بجائے،صارفین کی تسکین کے لیے ہندوستانی ڈراموں کے نشریاتی حقوق حاصل کر کے ان کو براڈکاسٹ کرنا شروع کر دیا۔ایک طرف تو اس عمل سے عدالت عالیہ کے فیصلے کی روح مجروح ہوئی اور دوسری طرف ہندوستانی ثقافتی یلغار جو قدرے کم ہوتی نظر آرہی تھی اسکی سانسیں دوبارہ بحال ہونے لگیں۔
ابھی ہمارا نو جوان جو ہندوستانی اور مغربی تہذیب کے درمیان عجیب کشمکش کے عالم میں تھا اسکو ایک اور دھچکا تب ملا جب نام نہاد تبدیلی کے نام پرہمارے ہی ٹی وی چینلز پر ترکش ڈراموں نے ڈیرے ڈال لیے ۔
اب ثقافتوں کی اس جنگ میں مغربی اور ہندوستانی ثقافت کے ساتھ ترکش ثقافت نے بھی جلد ہی اپنی جگہ بنا لی۔ترکش ثقافت کی یہ چڑھائی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارا نوجوان ترکی کو اسلامی برادر ملک کی حیثیت سے دیکھتا ہے ۔جبکہ ترکش ڈراموں میں دکھایا جانے والا یہ کلچرنہ تو اسلامی ہے اور نہ ہی ترکش۔یہ خالصا مغربی کلچر کی ایک شکل ہے جو ترکی جیسے سیکولر ملک میں تو چل سکتا ہے مگرپاکستان جیسے اسلامی ملک میں قابل قبول نہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ آج صورتحال کافی گمبھیر اور پریشان کن ہے ۔ہماری طاقت ہماری اثاثہ آج کا نوجوان پریشان ہے ۔وہ نہیں جانتا کہ غیر ملکی ثقافتوں کی اس یلغار میں اسکے اجداد کی میراث ،اسکی شناخت اسکی اپنی ثقافت کہاں کھو گئی ہے۔لیکن اتنا وہ ضرور جانتا ہے کہ اگر وہ اپنی ثقافت کوکلی طور پر کھو بیٹھا تو تو ایک دن اپنی شناخت، اپنا وجود سب کچھ کھو دے گا۔وہ اپنا وجود نہیں کھونا چاہتا اور اسی تلاش میں ہے
ابن مریم ہواکرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کے کوئی

