کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 10 کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔مچھ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ شب مچھ کے علاقے گیشتری میں نامعلوم مسلح افراد نے کان کنوں کو حملے کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے بتایا کہ اس علاقے پنڈل گڈ نامی لیز پر مسلح افراد نے کان کنوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کے علاوہ ان کے ہاتھ بھی باندھے اور بعد میں ان پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے کان کنوں کا تعلق شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے سے ہے۔
ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے علاوہ زخمی ہونے والے کان کنوں کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال مچھ منتقل کیا گیا ہے۔اہلکار کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم اب تک حاصل کی جانے والے شواہد کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ حافظ عبدالباسط نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نو افراد کی شناخت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کی شناخت ہوئی ہے ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے ان افراد کے گلے بھی کاٹے ہیں لیکن سیکرٹری داخلہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے مچھ کے علاقے گیشتری میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انھوں نے فائرنگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلی نے اس واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور زخمی ہونے والے کان کنوں کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم کان کنوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ جام کمال خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد اور شرپسند عناصر اس قسم کے واقعات کے ذریعے صوبے کے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کی کوئی بھی شکل قابل قبول نہیں ہے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کان کن لیبر یونین کے صدراقبال یوسفزئی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں کوئلے کی 62 لیز ہیں اور ان میں سے 52 فعال ہیں
مچھ، کوئٹہ کے جنوب مشرق میں ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع کچھی کے معروف درہ بولان میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔ 2018 میں جو اعداد و شمار اکھٹے کیے گئے تھے ان کے مطابق مچھ کی کوئلہ کانوں میں 17 ہزار کان کن کام کرتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ان کانوں سے 35 ہزار افراد کا روزگار جڑا ہے۔
( بشکریہ بی بی سی اردو )

