اسلام آباد: حکومت نے بالآخر بدھ کے روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایمز) کے استعمال سے متعلق بل سمیت متنازع بلز منظور کرائے جاسکیں۔
قانون سازی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے پیر کو حکومتی اتحادیوں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل-ق) کا اجلاس طلب کیا تھا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق میٹنگ کے بعد بھی اتحاد ای وی ایم اور 90 لاکھ سے زائد سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق بلز کی حمایت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا اصرار ہے کہ حکومتی اتحادیوں نے وزیراعظم خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور انہیں بل کے حق میں ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایک نیوز کانفرنس میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں اور حکومت نے متفقہ طور پر بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات سمیت دیگر زیر التوا بلز پیش کیے جائیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم خان نے اتحادیوں کے تحفظات سنے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتحادیوں نے وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے والے تمام 8 یا 10 بلز کی حمایت کریں گے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری اطلاعات کامل علی آغا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ ان کی جماعت بلز کی حمایت کرے گی یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ(ق) کی قیادت نے مسلسل 2 روز لاہور میں اجلاس کیے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر پارٹی اب بھی حکمران اتحاد سے جڑی رہتی ہے تو یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ پارٹی کو حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں، قیمتوں میں بے مثال اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، گیس اور بجلی کی قلت، ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور لاقانونیت پر تحفظات ہیں۔
یہ تاثر دیتے ہوئے کہ ایم کیو ایم نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول نے رابطہ کرنے پر کہا کہ اس معاملے پر پارٹی اجلاس کے بعد بات کریں گے۔
تاہم ایک نجی ٹی وی چینل پر خالد مقبول صدیقی کا یہ بیان چلا کہ ای وی ایم کے استعمال پر ایم کیو ایم کے تحفظات نہیں دور کیے گئے۔
یاد رہے کہ 10 نومبر کو جب وزیراعظم عمران خان نے حکمران اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے حق میں ووٹ دے کر ’جہاد‘ کریں، اس کے چند ہی گھنٹوں بعد حکومت نے ای وی ایم سے متعلق بل کی منظوری کے لیے بلائے گئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو ملتوی کردیا تھا۔
وزیر اطلاعات نے ڈان کو بتایا تھا کہ اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ قانون سازی کی حمایت کے لیے انہیں اپوزیشن سے رابطہ کرنے کا وقت دیں جس پر اجلاس ملتوی کیا گیا تھا۔
تاہم پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے بتایا کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بدھ کو دوپہر 12 بجے ہوگا۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

