سیالکوٹ:سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو بہیمانہ تشدد کرکے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش نذرِ آتش کردی، صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری علاقے میں روانہ کردی گئی ہے۔
واقعہ سیالکوٹ کے وزیرآباد روڈ پر پیش آیا جہاں مبینہ طور پر نجی فیکٹریوں کے ورکرز نے ایک فیکٹری کے ایکسپورٹ مینیجر پر حملہ کر کے اسے قتل کیا اور اس کے بعد آگ لگادی۔
سیالکوٹ کے ڈسٹرک پولیس افسر(ڈی پی او) عمر سعید ملک نے کہا کہ مقتول شخص کی شناخت پریانتھ کمارا کے نام سے ہوئی جو سری لنکن شہری تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جائے وقوع پر سیکڑوں افراد موجود ہیں جبکہ کچھ ویڈیوز میں ہجوم کو نعرے بازی کرتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے۔
جائے وقوع پر جلتی ہوئے نعش کے ارد گرد زیادہ تر افراد اپنے موبائل فون پر ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوسناک واقعہ‘ قرار دیا۔
سیالکوٹ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے بعد تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعے کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے، قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، حکومت قانون شکن عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے بھی واقعے کا نوٹس لے کر ریجنل پولیس افسر (آر پی او) گوجرانوالہ کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی۔
آئی جی کا کہنا تھا کہ ’ڈی پی او سیالکوٹ جائے وقوع پر موجود ہیں اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جانی چاہیے‘۔
یاد رہے کہ سیالکوٹ میں 2010 میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس کی موجودگی میں 2 نو عمر بھائیوں کو ڈاکو قرار دے کر تشدد کر کے قتل کردیا گیا تھا۔
مذکورہ واقعے کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو ملک بھر میں حیرت اور صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

