ملتان۔13دسمبر (اے پی پی):پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن نے کہا ہے کہ پنجاب میں 2017سے 2020ءکے دوران خواتین کے اغوا اور تیزاب گردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی جب کہ غیرت کے نام پر قتل میں 20 فی صد اضافہ ہوا۔ خواتین کی فلاح بہبود اور معاشرے میں برابری کامقام دینے کے لئے قائم پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی جاری کردہ پنجاب صنفی برابری رپورٹ کے مطابق 2017ءمیں خواتین پرتشدد سے متعلق رپورٹ ہونے والے کیسوں کی تعداد 7678، 2018ءمیں 8712، 2019میں8767اور 2020ءمیں 8797رہی۔جنسی ہراسانی اور آبروریزی سمیت خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات 2018ءمیں 3653، 2019ءمیں 4090اور 2020میں 4056تھے۔ 2020 میں ریپ کے سب سے زیادہ کیس4732لاہور میں رپورٹ ہوئے۔
اسی طرح تیزاب گردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی جو2017ءمیں 36اور 2020میں 28رہ گئے۔2019-20 کے دوران یہ کیس سب سے زیادہ فیصل آباد میں رپورٹ ہوئے۔ اغواءکے مقدمات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی جو 2016ءمیں 13310اور2020ءمیں 12433رہ گئے۔ اغوا کی وارداتیں بھی 2019-20 کے دوران سب سے زیادہ لاہور میں پیش آئیں جن کی تعداد2957ہے۔ غیرت کے نام پر قتل میں 20فیصد اضافہ ہوا۔ 2017 میں222خواتین کوقتل کیاگیا اور یہ تعداد2020ءمیں 237ہوگئی۔ 2019ءمیں غیرت کے نام پر سب سے زیادہ قتل فیصل آباد اورسرگودھا میں ہوئے۔خواتین کے خلاف جرائم میں 2017ءکے دوران 315افراد کو سزا ملی۔2020ءمیں 223 ملزمان سزا پاسکے۔ 2017ءمیں 96فیصد ملزمان بری ہوگئے جن کی تعداد 6904ہے۔2020ءمیں 95فیصدملزمان بری ہوئے جن کی تعداد3882ہے۔اسی عرصے کے دوران پولیس ہیلپ لائن 15پر شکایات میں 258فیصد اضافہ ہوا۔ 2017ءمیں 28923 شکایات موصول ہوئیں جو 2020ءمیں بڑھ کر 214,493ہوگئیں۔
فیس بک کمینٹ

