بے نظیر بھٹو21جون 1953ءکو سندھ کے مشہور و معروف سیاسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا جبکہ والدہ کا نام بیگم نصرت بھٹو جو کہ اصفہان (ایران ) کے ایک تاجر کی بیٹی تھیں۔آپ ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اولاد تھیں۔آپ کے والد آپ کو پنکی کہہ کر پکارتے تھے۔ جب آپ پانچ سال کی تھیں تو اس وقت آپ کے والد ذوالفقار علی بھٹو توانائی کی کابینہ کے وزیر بن گئے اور جب آپ 9سال کی ہوئیں تو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر خارجہ بن چکے تھے ۔
بے نظیر کم عمری میں ہی غیر ملکی سفارت کاروں اور شخصیات کے سامنے آئیں جو آپ کے والد سے ملنے آتے تھے۔ 1971ءمیں جب ذوالفقار علی بھٹو نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو 1972ءمیں شملہ میں ہونے والی پاک بھارت سربراہ ملاقات میں اپنی والدہ کے متبادل کے طور پر گئیں کیونکہ ان دنوں آپ کی والدہ بیمار تھیں ۔ اس وقت بے نظیر کی عمر صرف 19سال تھی۔ وہاں بے نظیر کا تعارف ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے علاوہ مسلم دنیا کے بہت سے حکمرانوں جن میں لیبیا کے معمر قذافی ، مصر کے انور السادات ، شام کے حافظ اسد ، سعودی عرب کے شاہ فیصل او ر اردن کے شاہ حسین سے ہوا ۔ آپ نے نہ صرف پاکستان کے تعلیمی اداروں سے ٹاپ کیا بلکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی ٹاپ کیا اور وہاں پر آپ مسلم سٹوڈنٹس کی یونین کی صدر بھی رہیں۔آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جس طرح دیدہ دلیری سے حالات کا مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔
بے نظیر جب طویل جلاوطنی کے بعد 10اپریل 1986ءکو لاہور کے ہوائی اڈے پر اتریں تو عوام کا جم غفیر ان کے استقبال کے لئے موجود تھا ۔ 1988کے قومی انتخابات میں حاصل ہو نے والے مینیڈیٹ کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو 02اگست 1988ءکو پاکستان کی11ویں وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ آپ نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا کی بھی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ بے نظیر بھٹو 6اگست 1990تک اس منصب پر فائز رہیں ۔ 20ماہ بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کر تے ہوئے اسمبلی کو برخاست کردیا اور نئے الیکشن کر وائے۔ 6نومبر 1990ءتا 18اپریل 1993ء قائد حزب اختلاف کے عہدہ پر رہیں ۔ 19اکتوبر 1993ءکو دوسری مرتبہ پاکستان کی 13ویں وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور 5نومبر 1996ءتک اس عہدہ پر فائز رہیں اور 17فروری 1997تا 12اکتوبر 1999ءتک بھی قائد حزب اختلاف رہیں۔
آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ محب وطن تھیں ۔ بےنظیر نہ صرف اچھی بیٹی بلکہ اچھی ماں ، اچھی بہن ، اچھی بیوی اور سب سے بڑھ کر اچھی لیڈر ثابت ہوئیں۔ آپ کو دختر مشرق ، چاروں صوبوں کی زنجیر کا خطاب بھی ملا۔بے نظیر بھٹو پاکستان کے چاروں صوبوں میں یکساں طور پر مقبولیت کی معراج پر تھیں۔بے نظیر نے پاکستان میں خواتین کے لئے روایتی انداز فکر کی بھرپور مخالفت کی اور خواتین کی تعلیم و ترقی پر زور دیا۔ بی بی نے خواتین کے حقوق کے لئے بہت زیادہ کوششیں کیں۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں پاکستان کو خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کئے۔بے نظیر بھٹو 1996ءمیں قائم کی جانے والی خواتین کی عالمی راہنماؤں کی کونسل کی بانی رکن بھی تھیں ۔بی بی نے اپنے دور حکومت میں خواتین پولیس اسٹیشن قائم کئے جہاں عملہ خواتین افسران پر مشتمل ہو تا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ خواتین خود کو محفوظ محسوس کر یں۔ بی بی نے بچوں کی تحویل اور خاندانی مسائل کو نمٹانے کے لئے فیملی کورٹس قائم کیں اور وہاں خواتین ججوں کو تعینات کیا ۔ 1994اور 1995ءمیں سندھ اور پشاور کی اعلی عدلیہ میں پہلی مرتبہ خواتین ججز کا تقرر کیا گیا ۔ دبئی اور لندن میں 8سال کی جلا وطنی کے بعد 18اکتوبر 2007ءکو آئندہ عام انتخابات کی تیاری کے لئے کراچی واپس آئیں۔بے نظیر بھٹو 2008ءمیں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم چلا رہی تھیں کہ 27دسمبر 2007ءکو 54سال کی عمر میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دہشت گردانہ حملے میں شہید کردیاگیا۔ بے نظیر کا جنازہ 28دسمبر 2007ءکی دوپہر کو ہو ا ۔ ان کی میت کو 28دسمبر کوراولپنڈی سے سکھر ائیر پورٹ منتقل کیا گیا اور آپ کو گڑھی خدا بخش میں دفن کیا گیا ۔ بے نظیر کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے پاکستان بھر سے سوگواران لاڑکانہ پہنچے۔
بے نظیر کے قتل پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور متفقہ طور پر اس قتل کی مذمت کی اور اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی27دسمبر کو پریس کانفرنس میں اس قتل کی مذمت کی جبکہ ایران ، افغانستان ، چین ، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کے سربراہوں نے بھی اس قتل کی پرزور مذمت کی ۔
فیس بک کمینٹ

