Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, مئی 31, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • تم جیو ہزاروں سال : پاکستان نے ہزارویں میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا
  • اک اور ’ پنکی‘ کا سامنا تھا : مظہر عباس کا کالم
  • نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش : وجاہت مسعود کا کالم
  • خانیوال میں غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
  • مْک مْکا یا جنگ کا اگلا راؤنڈ؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی : نصرت جاوید کا کالم
  • ایران امریکہ جنگ بندی: خوش ہونا منع ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • امریکا اور ایران معاہدے کے بہت قریب ہیں لیکن ابھی معاہدہ ہوا نہیں : امریکی نائب صدر
  • عالمی لیڈر اور اُن کا لباس ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • مریض عشق پر رحمت خدا کی :وجاہت مسعود کا کالم
  • نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے : بشیر بدر رخصت ہوگئے
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»یاسر پیرزادہ کا کالم:’Feel Goodانقلاب ‘ کا ماڈل
کالم

یاسر پیرزادہ کا کالم:’Feel Goodانقلاب ‘ کا ماڈل

ایڈیٹرفروری 2, 20220 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
columns of yasir pirzada girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ایکس ایک امیر آدمی ہے لیکن اِس کے باوجود اُس کا خیال ہے کہ ملک میں انقلاب آنا چاہیے ۔ اپنی اِس خواہش کا اظہار ایکس نے مجھ سے کیا تو میں نے پوچھا کہ اچانک اِس انقلاب کی کیا وجہ ۔ کہنے لگا کہ میں ایک کمپنی کا سی ای او ہوں، لاکھوں میں تنخواہ ہے ، کاروبار خود ہی دوڑ رہا ہے ، صبح نو بجے دفتر جاتا ہوں ، شام پانچ بجے واپس آ جاتا ہوں،اُس کے بعد رات تک فارغ رہ کر خواہ مخواہ وقت ضائع کرتا رہتا ہوں ، کبھی دوستوں کے ساتھ کھانے کے لیے چلا جاتا ہوں ، کبھی بیوی کو شاپنگ کروانے نکل جاتا ہوں اور کچھ نہ ہو تو رات گئے تک ٹی وی دیکھتا رہتا ہوں۔میں نے کہا کہ یہ معمولات زندگی تو کسی روسی زارجیسے ہیں، تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ آج کے دور میں ایسی عیاشی کے متحمل ہو سکتے ہو، انقلاب کا خیال کیسے آیا؟ ایکس کہنے لگا یار آج کل جسے دیکھو کسی نہ کسی ’cause‘ کے ساتھ جڑا ہے ، کسی نے عورتوں کے حقوق کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے تو کوئی ماحولیات پر آگاہی کی مہم چلا رہا ہے ، وہ ایک چھوٹی سی بچی ہے ، کیا نام ہے اُس کا ۔۔۔گیٹا تھن برگ۔۔۔میں نے لقمہ دیا ۔۔۔ہاں وہی ، اب اسے ہی دیکھ لو ،پوری دنیا میں مشہور ہے ، وہ بھی صرف باتیں کرکے، اگر اتنی سی بچی یہ کام کر سکتی ہے تو میں کیوں انقلاب برپا کیوں نہیں کر سکتا ۔ ایکس کی باتیں سُن کر میں نے اسے غور سے دیکھا کہ کیا یہ وہی شخص ہے جو ملک کی ایک بڑی کمپنی کاچیف ایگزیکٹو ہے اور اچھا خاصا پڑھا لکھا اور سمجھ دار ہے ، مجھے یقین نہیں آیا کہ بظاہر معقول نظر آنے والے اِس شخص کو اچانک کیا ہوگیا ۔ ایکس نے جیسے میرے خیالات پڑھ لیے ، مسکرا کر کہنے لگا کہ شایدتم سمجھ رہے ہو کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ، ایسا نہیں ہے ، میں تمہیں سمجھاتا ہوں، دیکھو بات یہ ہے کہ ہماری کلاس میں سرمایہ داری نظام وغیرہ کے خلاف باتیں کرنا اب فیشن بن چکا ہے، تم نے دیکھا نہیں کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے ‘ بنائی اور کیسے وہ ہمارے طبقے میں مقبول ہوئی ، بس ایسی ہی انقلابی باتیں میں نے بھی کرنی ہیں ، تم ویسے بھی لکھنے لکھانے کے شوقین ہو ، میرے لیے ایسی باتیں لکھ دیا کرو جنہیں میں ٹویٹ کرسکوں ، بس یہ خیال رکھنا کہ یہ ٹویٹس سوشلسٹ قسم کی ہوں، نظام کو آگ لگا دینے والی، فُل انقلابی۔آج سے پہلے میں نے اُس کے منہ سے ایسی باتیں نہیں سنی تھیں، مجھے لگا جیسے وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہو۔میں نے ایکس کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اگر تو تم ’ایکٹیوسٹ‘ بننا چاہتے تو بات سمجھ میں آتی ہے ، آج کل اکثر مشہور شخصیات یہ کام کررہی ہیں ، کوئی اداکارہ بچیوں کے ریپ کے خلاف احتجاج کرتی ہے تو کوئی کرکٹر ساحل سمندر پر گند بکھیرنے کے معاملے پر ٹویٹ کرتا ہے، یہاں تک تو ٹھیک ہے مگرتم شاید حقیقی انقلاب لانا چاہتے ہو۔ میری بات سُن کر ایکس نے تقریباً زبردستی میرا چوم لیا اور کہنے لگا تم بالکل ٹھیک سمجھے ، آج سے میں تمہیں اپنا مشیر خاص مقرر کرتا ہوں، میری تمام تقریریں تم لکھوگے اورمیرے سوشل میڈیا کو بھی دیکھو گے ۔
اگلے دو دنوں میں ہم نے انقلاب کی حکمت عملی تیار کی اور طے یہ پایا کہ شروعات کسی ٹی وی ٹاک شو سے کی جائے جہاں ایکس کی رونمائی ہو اور وہ اپنا انقلابی ایجنڈا بیان کرے۔ ایکس کا اصرار تھا کہ اسے چوٹی کے کسی اینکر کےروبرو بیٹھنا چاہئے جس میں اور کوئی مہمان نہ ہو مگر میں نے اسے سمجھایا کہ وہ موقع بھی آ جائے گا ،فی الحال میں کسی چھوٹے چینل سے بات کرتا ہوں۔ ایکس مان گیا۔میں نے ایک چینل میں بات کی ، انہیں بھی شاید اسی قسم کے بندے کی تلاش تھی سوانہوں نے ایکس کو اپنے شومیں مدعو کرلیا۔پروگرام میں ایکس کا خاصا تمسخر اڑایا گیا،اینکر نے تو باقاعدہ جگتیں لگائیں کہ آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو اپنی ائیر کنڈیشنڈ گاڑی سے باہر نہیں نکلتے اور نعرے انقلاب کے لگاتے ہیں، سب سے پہلا انقلاب تو آپ کے خلاف آنا چاہیے ، اگر آپ کو پولیس کا ایک ڈنڈا پڑے تو انقلاب کے ہجے بھول جائیں ، ذرا بتائیں تو سہی کہ آخری مرتبہ آپ نے کسی غریب سے ہاتھ کب ملایا تھا ، وغیرہ۔پروگرام کے فوراً بعد ایکس نے مجھے فون کیا اور پوری روداد سنائی ، میں نے کہا تم فکر نہ کرو ، میں نے سب سوچ لیاہے، فی الحال تم اپنے دفتر سے چھ ماہ کی چھٹی لو، آنے جانے کے لیےچھوٹی نان اے سی گاڑی استعمال کرنا شروع کرو، سوٹ کی جگہ کھدر کے دو شلوار کرتے سلوا لو اور غریبوں کی کسی بستی میں جا کر اُن کے ساتھ اپنی ملاقات کی درجن بھر تصاویر مجھے بھجوا دو ، میں تمہارے سوشل میڈیا پر انقلاب لے آتا ہوں۔ ایکس نے من و عن وہی کیا جو میں نے کہا تھا۔
اب ہم اپنی کہانی کو ذرا فاسٹ فارورڈ کرتےہیں ، چھ ماہ گزر چکے ہیں،ایکس چھٹی ختم کرکے دفترواپس آ چکا ہے ،ہم دونوں لنچ کے لیے شہر کے سب سے مہنگے ریستوران میں موجود ہیں اور چھ ماہ پہلے ہونے والی ملاقات کو یاد کرکے قہقہے لگا رہے ہیں۔ایکس کہہ رہا ہے: ’’اِن چھ مہینوں میں زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھا یا، تمہارے کہنے کے مطابق میں نے اپنے طور طریقے تو بدل لیے مگر یقین کرو کہ دو دن بعد ہی مجھے یوں لگنے لگا جیسے میرا دم گھٹ جائے گا اور میں مر جاؤں گا۔ بغیر اے سی کی گاڑی میں سفر کرنے سے میں پسینے میں شرابور ہو جاتا اور غریبوں سے گلے ملنے سے بیمار پڑ جاتا ، سو میں نے تہیہ کیا کہ کسی ان ہائیجینک بندے سے نہیں ملوں گا۔ لیکن پھر میں نے خود پر نظر ڈالی تو پتا چلا کہ مجھ سے زیادہ ان ہائیجینک کوئی نہیں ، میں نے فوراً چھوٹی گاڑی سے جان چھڑوائی اور اپنی چار ہزار سی سی کی گاڑی واپس منگوائی۔ کھدر کے کرتے اپنے مالی کو دئیے۔ چھوٹی بیٹی میلان سے میرے لیے نئے سوٹ ، ٹائیاں اور پرفیوم لائی تھی ، میں نے وہ پہننا شروع کیے ، یقین کرو مجھے یوں لگا جیسے میں دوبارہ زندہ ہو گیا ہوں۔حالانکہ انقلاب سے پہلےبھی میں یہ تمام چیزیں استعمال کرتا تھا لیکن ان کی اصل قدر مجھے اب محسوس ہوئی ہے ۔ وہ تو شکر ہے کہ میری یہ ملازمت موجود رہی ، اگر میں استعفی ٰ دے کر انقلاب لانے نکل پڑتا توآج نہ جانے کس حال میں ہوتا۔‘‘ایکس کی یہ باتیں میرے لیے حیران کن نہیں تھیں ، جو بات میرے لیے حیرانی کا باعث بنی وہ یہ تھی کہ ایکس اب بھی انقلاب کا حامی تھی ۔’’کیا تم سیریس ہو؟‘‘ میں نے ایکس سے پوچھا۔ ’’بالکل ۔‘‘ ایکس نے جواب دیا’’فرق صرف یہ ہے کہ میں اب اُس طرح انقلابی باتیں کروں گاجیسے میری کلاس کے باقی لوگ کرتے ہیں ۔یہ انقلاب کا ’feel good‘ ماڈل ہے ۔ اِس ماڈل میں انقلابی کو چی گویرا کی طرح جنگلوں میں نکل کر گوریلا جنگ نہیں لڑنی پڑتی اور نہ ہی ایک وقت کا کھانا کھا کر دو جوڑوں میں زندگی گزارنی پڑتی ہے بلکہ آپ مہنگی گاڑیوں میں گھوم سکتے ہیں ، برینڈڈ کپڑے پہن سکتے ہیں اور ڈیزائنر جوڑے بنوا کر شادیوں میں شرکت کر سکتے ہیں ۔انقلاب کے لیے آپ نے صرف اپنے آرام دہ بستر پر لیٹ کر ٹویٹ کرنی ہے اور وہ بھی کشمیر، کوڑا کرکٹ اور بچیوں کے ریپ جیسے موضوعات پر جن پر بات کرنےکی ممانعت نہیں اور نہ ہی اِس میں کوئی سرخ لکیر عبور کرنی پڑتی ہے،کسی کے مفاد پر پڑتی ہے اور نہ کوئی طاقتور طبقہ یا گروہ ناراض ہوتاہے ۔ایساکرنے سے ہمارے جیسے طبقے کے لوگوں کو ایک گونہ طمانیت محسوس ہوتی ہے ، they feel good about it، انہیں لگتا ہے کہ وہ محض اِس سرمایہ دارانہ کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی چوہوں کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ وہ با شعور ، ذمہ دار اور دبنگ لوگ ہیں ، انہیں باقی دولت مندوں کی طرح مردہ ضمیر نہ سمجھا جائے ۔میں اسے feel goodانقلاب کہتا ہوں۔‘‘میں نے چپ چاپ ایکس کی باتیں سنیں اور دل ہی دل میں اس کی سمجھداری کی داد دی ۔ایکس نے کھانے کا بل ادا کیااوربل لانے والے ویٹر سے اُس کی تنخواہ پوچھی جو لگ بھگ اس بل کے برابر تھی اور ساتھ ہی ٹویٹ کردی کہ میرا دل اِن غریبوں کودیکھ کر خون کے آنسو روتا ہے جو پورا مہینہ دن رات محنت کرکے مشکل سے اتنے پیسے کماتے ہیں جتنےامیر لوگ ایک وقت کے کھانے میں اڑا دیتے ہیں ۔ایک گھنٹے میں سات سو لائکس مل گئے۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleملتان لگاتار چوتھی بار سلطان : شاداب کی شاندار اننگز بھی اسلام آباد کو کامیابی نہ دلا سکی
Next Article مظہر عباس کا کالم:اختیارات کی جنگ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

تم جیو ہزاروں سال : پاکستان نے ہزارویں میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا

مئی 31, 2026

اک اور ’ پنکی‘ کا سامنا تھا : مظہر عباس کا کالم

مئی 31, 2026

نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش : وجاہت مسعود کا کالم

مئی 30, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • تم جیو ہزاروں سال : پاکستان نے ہزارویں میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا مئی 31, 2026
  • اک اور ’ پنکی‘ کا سامنا تھا : مظہر عباس کا کالم مئی 31, 2026
  • نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش : وجاہت مسعود کا کالم مئی 30, 2026
  • خانیوال میں غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار مئی 29, 2026
  • مْک مْکا یا جنگ کا اگلا راؤنڈ؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی : نصرت جاوید کا کالم مئی 29, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.