اسلام آباد پولیس نے صحافی اور تجزیہ کار محسن بیگ کے خلاف قتل عمد کی کوشش، آتشیں اسلحے سے حملہ کرنے، سرکاری اہلکار کو یرغمال بنانے اور کار سرکار میں مداخلت سمیت انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بدھ کی صبح ایف آئی اے کی ایک ٹیم محسن بیگ کو گرفتار کرنے کی غرض سے اُن کے گھر گئی مگر اس دوران مزاحمت کی گئی اور ملزم (محسن بیگ) نے فائرنگ کر دی جس سے ایف آئی اے کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کا تین روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے ۔
یاد رہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اہلکار محسن بیگ کے گھر ان کی گرفتاری کی غرض سے پہنچے تھے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ محسن بیگ کے خلاف وفاقی وزیر مراد سعید نے ایک درخواست جمع کرواتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔محسن بیگ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزمات کی تردید کی اور الزام عائد کیا کہ صحافی محسن بیگ کو ناصرف گرفتاری کے دوران بلکہ بعد میں تھانے میں بھی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق اس شکایت پر ابتدائی تفتیش کے بعد ملزم محسن بیگ کے خلاف سائبرکرائم ونگ نے ایف آئی آر درج کی تھی اور بدھ کی صبح ہونے والی کارروائی اسی کے پس منظر میں تھی۔
ایف آئی اے کی ایک پریس ریلیز کے مطابق جب سائبر کرائم کی ریڈنگ ٹیم نے محسن بیک کے گھر چھاپہ مارا تو انھوں نے اپنے بیٹے اور ملازمین کے ہمراہ ٹیم پر ’سیدھی فائرنگ کی‘ اور ’دو افسران کو یرغمال بنا کر زد و کوب کیا۔‘
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ’گولیاں ختم ہونے پر ملزم محسن بیگ کو گرفتار کر لیا گیا‘۔ ادارے کا موقف ہے کہ انھوں نے بیٹے اور ملزمان کے ہمراہ ’سرکاری ملازمین پر فائرنگ کر کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ چند روز قبل محسن بیگ ایک نجی چینل پر نشر ہونے والے پروگرام میں شامل تھے جس میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 10 وفاقی وزرا میں ایوراڈز کی تقسیم کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی۔
اینکر غریدہ فاروقی کے اس پروگرام میں محسن بیگ نے وفاقی وزیر مراد سعید کی وزارت کو کارکردگی میں اول نمبر ملنے پر متنازع گفتگو کی تھی جس کی بنیاد پر پروگرام کے اس حصے کو ’تضحیک آمیز/ توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اُس چینل کو شوکاز (اظہارِ وجوہ کا )نوٹس جاری کیا تھا۔ایف آئی اے کو دی گئی اپنی درخواست میں مراد سعید نے کہا ہے کہ محسن بیگ نے اُن پر ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران غیر اخلاقی الزامات لگائے جس سے اُن کی ساکھ متاثر ہوئی اور عوام میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
مراد سعید نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو محسن بیگ کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی۔اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے سائبر کرائم ونگ نے محسن بیگ کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی درج کی تھی اور بدھ کی صبح ایف آئی اے کی ایک ٹیم ان کی گرفتاری کی غرض سے ان کے گھر گئی تھی جہاں یہ تمام واقعہ پیش آیا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں محسن بیگ کو مخاطب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ (محسن بیگ) وزیر اعظم کے پاس ایک روسی کمپنی کی ڈیل لے کر نہیں آئے تھے جس سے انھیں کمیشن ملنا تھا۔
شہباز گل نے اس پریس کانفرنس میں محسن بیگ پر الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ جب وزیر اعظم نے انھیں انکار کر دیا تو اس کے بعد سے وہ ’دشمن‘ بن گئے اور اگر وزیر اعظم اتنے ہی بُرے ہیں تو ماضی میں وہ پی ایم ہاؤس کس مقصد کے لیے بار بار آتے تھے۔
گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کابینہ نے وزارت قانون کو تجویز دی ہے کہ وہ ایسے طاقتور قوانین لائیں جو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والی تضحیک آمیز مواد پر مبنی مہم کے خلاف استعمال ہو سکیں۔
پاکستان کی بعض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس گرفتاری اور مقدمے کی مذمت کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صحافی محسن بیگ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گرفتاری سے ‘عمران خان کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری ظاہر ہوئی ہے۔۔۔ اہل خانہ کے سامنے صحافی محسن بیگ کو گھسیٹ کر ایسے گرفتار کیا گیا کہ جیسے وہ دہشت گرد ہوں۔’
مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر کہا ہے کہ ‘سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی زبان بندی کرنا شرمناک فعل ہے۔’
تاہم حکمراں جماعت کے سینیٹر اعجاز چوہدری کہتے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینا اور بدمعاشی پر اُتر آنا، چینل پر بیٹھ کر بداخلاقی کی انتہا کر دینا، کسی گئے گزرے معاشرے میں بھی روا نہیں۔ محسن بیگ نے ساری حدیں پار کردیں۔ قانون تو حرکت میں آئے گا۔’
ادھر صحافیوں کی جانب سے گرفتاری کی مذمت کی جا رہی ہے۔اپنے ردعمل میں صحافی فخر درانی کا کہنا ہے کہ ‘یہی محسن بیگ کل تک عمران خان کے محسنوں میں سے تھے۔ اور آج تنقید کرنے پر خان نے اسے گرفتار کرلیا۔’
تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ ‘محسن بیگ صاحب کی گرفتاری میڈیا پر ایک نئے حملے کی تیاری کا عندیہ دے رہی ہے۔’
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

