کراچی: کراچی میں منگل کے روز دھماکا کرنے والی خاتون خود کش بمبار شاری بلوچ دو بچوں کی ماں اور بلوچستان یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں۔ معروف کالم نگار حیدر جاوید سید کے مطابق ان کے شوہر لاپتہ افراد میں شامل تھے اور ان کی مسخ شدہ نعش برآمد ہوئی تھی ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے کراچی پولیس کے خدشات درست نکلے، کراچی یونیورسٹی وین پر حملہ خاتون نے کیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کالعدم تنظیم کے پیغامات سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ،کالعدم تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری مجید بریگیڈ کراچی میں چینیوں پر فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ فدائی حملہ پہلی بلوچ خاتون فدائی شاری بلوچ عرف برمش نے سر انجام دیا ۔ کالعدم تنظیم نے حملہ آور خاتون کی تصویر بھی جاری کی ہے ۔
ٹوئٹر پر شاری بلوچ کی اس کے دو بچوں کے ساتھ تصویر بھی گردش کر رہی ہے ۔ شاری بلوچ نے بلوچستان یونیورسٹی سے زوالوجی میں ایم ایس سی اور ایجوکیشن میں ایم فل بھی کر رکھا ہے۔ اس نے اپنے آخری ٹویٹ میں لکھا
” اچھا دوستو پھر ملیں گے “
فیس بک کمینٹ

