نوم چومسکی امریکہ کا وہ رسوائے زمانہ اور نام نہاد دانشور ہے جو دنیا کے ہر پھڈے میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔۔۔ مشرق وسطی، ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ، یورپ وغیرہ کا کوئی سیاسی، سماجی اور تاریخی مسئلہ ایسا نہیں جس کے بارے میں اپنی اختلافی رائے اس نے نہ دی ہو۔ اس نے بزعم خویش عالمی ضمیر جگانے کی دھن اور اسی زعم میں بیسیوں کتابیں اور مقالے لکھ لکھ ہزاروں صفحے کالے کرڈالے ۔ یہ ایسا بے وقوف آدمی ہے کہ پچھلی صدی کے آخری نصف میں لسانیات پر اس کی تحقیق نے علمی دنیا میں انقلاب سا برپا کردیا اور اس کی تحقیقات کے بعد دنیا بھر کی زبانوں کیلئے "آفاقی گرامر” کا ایک ایسا تصور سامنے آیا کہ جس سے متنوع زبانیں بولنے والوں کیلئے باہمی ابلاغ میں آسانیوں کے راستے کھلنے لگے۔ یہی دور انٹرنیٹ کی عروج یافتگی کابھی ہے جس نے چومسکی کے لسانی نظریات کو عملی شکل دینے میں بہت مدد کی۔ آج اپنے سمارٹ فون کے ذریعے کسی بھی زبان بولنے والے سے آپ جو مکالمہ کرسکتے ہیں اس میں چومسکی کے بنیادی کردار کو،نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔۔۔ لیکن بندہ بڈھا ہو جائے تو اسے اپنے حواس پر قابو نہیں رہتا، یہی ان صاحب کے ساتھ ہوا ۔۔۔ اسے نہ جانے کیا سوجھی کہ دنیا بھر کے سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھنا اس نے اپنے ذمے لے لیا۔
اب بندہء خدا جو مرضی آئے جھک مارتے پھرو لیکن ریاست مدینہ کی پیروی میں پاؤں پاؤں چلنے والی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاملات میں رائے زنی کی تمہیں کیا ضرورت آپڑی تھی؟ مجھے یقین ہے کہ وہ بھی لازمی طور پر اس عالمی سازش کا حصہ بنا جو ہماری ریاست مدینہ جدید کی حکومت کو،عدم اعتماد اور وعدم استحکام کا شکار بنانے کیلئے کی گئی تھی ، اس نے اپنے متعصب امریکی ہونے کا داش ثبوت اس سازش میں امریکہ اور صدر جوبائئڈن کی صفائی پیش کر کے دیا کوئی پوچھے کہا ں گئی وہ تمہاری غیر جانبداری جس کا بھرم بناتے تم نے ایک عمر صرف کی۔۔۔ اس بات کا بھی اسے پتہ ہوگا کہ ایسی رائے زنی پاکستان کے کرپٹ جور ڈاکو عناصر کے حوصلے بڑھاتی ہے اور یوں اس کی یہ بات "کھلم کھلا بیرونی مداخلت ” کے زمرے میں آتی ہے جسے غیور پاکستانی کبھی برداشت نہیں کر سکتے ہمیں معلوم ہے کہ یہ شخص نئے امریکی سازشی ایجنڈے پر کام کر رہا ہوگا، یاد رہے کہ اسے ماضی کے برسوں میں کئی بار سرزمین پاک پر بھی بلانے کی جسارت کی گئی ایف آئی اے سے اس بات کی بھی تحقیقات کروائی جائے( بلکہ عدالتی کمیشن بنایا جائے) یہ جب دریدہ دہن پاکستان آیا اس وقت حکومت کس ڈاکو کی تھی اور اسے یونیورسٹیوں میں دعوت دینے والے کون لوگ تھے؟
حد یہ ہے کہ خود امریکہ کے عظیم رہنما اور صدر جناب ٹرمپ کو بھی اس نے نہیں بخشا اور اس پر مسلسل تنقید کرتا رہا۔ یہ ان لوگوں میں شامل تھا کہ جو ٹرمپ جیسے پاکستان دوست صدر کو ہٹا کر جوبائیڈن جیسے انصاف دشمن شخص کو صدر بنوایا جس میں اتنی تہذیب بھی نہیں تھی کہ ایک عظیم اسلامی جمہوریہ اور اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم اور بے حد نفیس اور مہذب انسان عمران خان کو فون ہی کرلیتا۔ یہ فون نہ کرنا بھی لازمی طور پر خان صاحب کے خلاف کی جانے والی سازش کا ایک حصہ تھا، خیر اس بڈھے کو یہ کہنے جرات کیسے ہوئی کہ امریکہ کو ہماری حکومت(سابق ہی سہی) کے خلاف سازش کے بیان کو غلط کہے۔ چاہے نوم چومسکی لسانیات، ڈسکورس اور بیانیہ وغیرہ کا مانا ہوا محقق ہی ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو ہم اپنی رائے اور بیانیہ بنانے میں خود کفیل ہیں ہمیں اس جیسے بابے کی کوئی ضرورت ہرگز نہیں۔
پھر ہمارے ہاں ماشا اللہ صابر شاکر، ارشاد بھٹی ، چودھری محمد حسین، عمران ریاض، شہباز گل، فواد چودھری، شبلی فراز، زرداری گل اور عندلیب عباس وغیرہ جیسے کتنے ہی نابغے اور ان کے سرچشمہ ء علم ودانش سے فیضیاب ہونے والے کتنے ہی عظیم دانشور خان صاحب کی دانش، بصیرت اور قومی غیرت کا کھل کھلا کر اعتراف کر رہے ہیں نوم چومسکی جیسے بڈھے کی کس کو پڑی ہے ، یہ ہمارے ان نمایاں دانشوروں کے سامنے بیچتا کیا ہے ۔۔۔؟ کئی برس پہلے ایک اور سٹھیا ہوا انگریز بڈھا برٹرینڈ رسل بھی اسی طرح اول فول بکا کرتا تھا ایک اور فرانسیسی بڈھا کھوسٹ ژاں پال سارتر بھی خود کو یورپ کا ضمیر سمجھنے کے خبط میں مبتلا تھا اور نہ جانے کیا کیا کچھ بکا جھکا کرتا تھا اسے کبھی کالے بھجنگ افریقیوں کی پڑی ہوتی تھی تو وہ کبھی بے وطن فلسطینیوں کے حقوق کا ٹھیکہ دار بنا پھرا کرتاتھا ۔۔۔ ان سب نے سینکڑوں ہی تقریریں کیں خطبے دیئے اور بزاروں صفحات کالے کر ڈالے لیکن ان کی کس نے سنی جو اس امریکی بڈھے کی سنی جائے ہمیں اللہ رکھے اپنے کامران خان، ہارون رشید، ارشد شریف، سہیل وڑائچ اور انہی جیسے بالغ نظر تجزیہ کار دانشور کیا کم ہیں جو ہم ان بدیسی سازشی گوروں کی گفتار اور تحریروں کی طرف توجہ دیں
فیس بک کمینٹ

