علم الاعداد کا علم ایک نہایت دقیق وعمیق علم ہے 20 ویں صدی کو اگر علم ریاضی کے کمال کی صدی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ سب اعداد و شمار کا ہی تو کھیل ہے کہ انسان ‘زمین تو کیا خلا کی وسعتیں ناپ رہا ہے۔ کروڑوں نہیں اربوں میل کے فاصلے پر واقع خلا میں تیرتے ہوئے ستاروں کے حدود اربعہ کا جامع حساب پیش کر رہا ہے۔ علم الاعداد کی روشنی میں بانوے محمد ﷺ کے نام کا عدد بنتا ہے ۔
سکھ مذہب کے حقیقی بانی بابا گورونانک صاحب رسول اللہﷺ کو اپنا اسوہ حیات مانتے تھے۔ گورو نانک صاحب رسول اللہﷺ کے بارے میں اپنے ایک حسابی فارمولے میں فرماتے ہیں کہ کائنات کی کسی بھی چیز کے حروف ابجد کے اعداد نکال کر خاص ترتیب سے جمع ضرب تقسیم سے محمد(ﷺ) کے اعداد (92) نکل آتے تھے۔ بابا گرو نانک صاحب کا فارمولا کچھ اس طرح ہے ۔۔ام لیو ہر دَست داتے کریو چوگن تاؤ دو ملا کے پنچ گُن کیجو، بہی بھوگ لگاؤ جو بچے سو نو گُن کیجو، دُُوا ہورر لاؤ نانک ہر کے دَست تھیں محمد ؐ نام بناؤ اس کا سادہ اردو ترجمہ یوں ہوگا ۔ کسی بھی چیز کے نام کے عدد لو اور انہیں چوگن تاؤ (چار گنا، یا چار سے ضرب) کر لو حاصل ضرب میں دو جمع کر دو اور پانچ گن کر دو (یعنی پانچ گنا کر دو گویا پانچ سے ضرب دے دو) حاصل ضرب کو بہی(بیس) پر تقسیم کر دو اور خارج قسمت (جو بچے) کو نوگن (یعنی نو سے ضرب دے دو) کر کے اس میں دو(2) اور جمع کر دو اور اس طرح نانک ہر شے کے اعداد سے محمد ؐ نام بنا اس طرح بانوے کا عدد ہمارے لئے انتہائی مقدس ہے ۔
علم الاعداد کی روشنی میں بانوے محمد ﷺ کے نام کا عدد ہے اور یہی عدد پاکستان کا انٹرنیشنل ڈائلنگ کو ڈ ہے یعنی جو شخص بھی پاکستان میں کسی سے بات کرنا چاہے تو پہلے محمدکے عدد ڈائل کرے۔ اس کوڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اتفاق سے پاکستان کے حصے میں آگیا تھا جو ہم مسلمانوں بلخصوص پاکستانیوں کے لئے اسم محمد کی وجہ سے انتہائی مقدس وباعث برکت ہے
فیس بک کمینٹ

