اظہر سلیم مجوکہ سے ہماری پہلی ملاقات ان دنوں ہوئی جب یہ ایک عدد ادبی رسالے کا ایڈیٹر ہوا کرتا تھا۔ ادبی رسالہ اس نے کیوں نکالا اس کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بہت سے لوگوں اور خود مجوکہ کے پاس آج بھی اس سوال کا جواب نہیں کہ وہ ادیب آخر کیوں بنا؟۔ اس کے حاسدین و مخالفین جنہیں وہ خود منافقین کہتا ہے اس بات پر متفق ہیں کہ وہ محبت نامے لکھتے لکھتے ادیب بن گیا۔یہ محبت نامے وہ اپنے محلے کی ایک لڑکی کو دیتا تھا جو بعدازاں معمولی ردو بدل کے بعد انہیں اپنے ہاتھ سے تحریر کر کے ساتھ والی گلی میں موجود مجو کہ کے ایک رقیب کو دے آتی تھی۔ مجو کہ کے ساتھ زندگی میں بس یہی ایک دھوکہ ہوا۔ حاسدین و مخالفین ( جنہیں ہم مؤرخین بھی کہہ سکتے ہیں ) بتاتے ہیں کہ مجوکہ کی زندگی میں اگر رقیب نہ ہوتا تو یہ آج ادیب نہ ہوتا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اردو ادب میں یہ واحد مثال ہے کہ کوئی عاشق عشق میں ناکامی کے بعد شاعر کی بجائے ادیب بن گیا۔
مجو کہ رسالے کا ایڈیٹر ادب کی خدمت اور شہرت حاصل کرنے کے لئے بنا تھا۔ ادب کی خدمت تو اس نے جاری رکھی مگر شہرت اس کے مقدر میں نہیں تھی۔ اور وہ شہرت چاہتا بھی نہ تھا اس کا کہنا تھا کہ مسرت شاہین اور شید ے ٹلی جیسی مشہور شخصیات کی موجودگی میں اسے شہرت نہیں چاہیے ۔بعض لوگوں نے اسے انگور کھٹے والا معاملہ بھی قراردیالیکن مجوکہ شہرت سے بے نیاز رہا ۔چاہتاتواس کے لئے شہرت حاصل کرنا مشکل کام نہ تھاکسی کمشنر ،ڈپٹی کمشنر یااسسٹنٹ کمشنرقسم کی چیز کے پاس حاضریاں دیتا،ان کی بے وزن نظموں اوربے ربط مضامین کو اردو ادب کا سر مایہ قراردیتاتوملامتی کانفرنسوں اورملامتی مشاعروں میں آسانی سے شریک ہوجاتا۔اس کی رنگین تصاویر اخبارات کی زینت بنتیں اوراس کے نیچے لکھاہوتا۔اظہرسلیم مجوکہ ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ ہاشمی کی حکایات پرداد دے رہے ہیں یااظہرسلیم مجوکہ ملامتی مشاعرے میں اپنا کلام سنارہے ہیں اسسٹنٹ کمشنر بھی ساتھ بیٹھے ہیں ۔
آپ حیران ہوں گے کہ جب اظہر شاعر ہی نہیں تویہ کسی مشاعرے میں کیسے شرکت کرتا ، اس سلسلے میں عرض ہے کہ جس طرح فی زمانہ سیاست کرنے کے لئے سیاست دان ہونا ضروری نہیں اسی طرح مشاعرے پڑھنے کیلئے شاعر ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ ہاں تو میں ذکر کر رہا تھا کہ مجو کہ نے خود کو شہرت سے بے نیاز رکھا۔ خود شہرت حاصل کرنے کی بجائے مشہور لوگوں کو اپنا دوست بنایا اور ان کی کتابوں پر مضمون لکھنا شروع کئے یوں اس کی اپنی کتاب تیار ہوگئی۔ لیکن کتاب کے ذکر سے پہلے کچھ بات ماضی کی۔ آہ کیا دور تھا سائبان کی اشاعت کا جب مجوکہ سائیکل پر پورے شہر کا چکر لگایا کرتا۔ ایک ایک تخلیق کار کے گھر جا کر ان کی تخلیقات حاصل کرتا۔ جون جولائی کی چلچلاتی دھوپ میں نڈھال ہوکر ٹھنڈی آہیں بھرتا۔ سائبان کا ہر شمارہ چھپنے کے بعد ایک ایک دوست کے پاس جا کر داد لیتا اپنے پر چے کا اوراق اورفنون کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد دوستوں سے کہتا ذرا پرچہ Establish ہو جائے ہم اپنا الگ گروپ بنالیں گے۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب فنون اور اوراق میں ہمیں اور ہماری عمر کے لکھاریوں کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا۔
ہم اپنی نظمیں اور غزلیں فنون اور اور اق کو بھیجنے کے بعد انتظار کیا کرتے تھے کہ کب کس کی نظم یا غزل واپس آتی ہے۔ جب کوئی نظم یا غزل نا قابل اشاعت ہو کرواپس آتی تو رات کے اندھیرے میں دور جا کر جلا دیا کرتے تھے کہ مبادا کسی مخالف کو حقیقت حال کا علم ہو جائے۔ اب ان حرکتوں پرہنسی آتی ہے اور خوف بھی آتا ہے۔ سوچتے ہیں کہ مارشل لا ءکادور بھی کتنا اچھا تھا۔ یہ حرکت آج کرتے توالذ والفقار کی دستاویزات جلانے کے الزام میں پکڑے جاتے۔ بجٹ اجلاس سے پہلے ہمیں پولیس مقابلے میں مروا کر جمہوریت کومستحکم کیا جا تا اور ہمارے لواحقین کو تدفین کے وقت ہمارے چہرے دیکھنے کی بھی اجازت نہ ہوتی۔ معافی چاہتا ہوں میں سائبان کا قصہ سناتے سناتے چلچلاتی دھوپ میں چلا گیا مختصر یہ کہ سائبان کے دو چار پرچے ہی شائع ہوئے تھے کہ منور جمیل قریشی نے اس وقت کی ابھرتی ہوئی شاعرہ نوشی گیلانی کے ساتھ بہاولپور سے سائبان کا اجراءکر دیا۔ اظہر سلیم مجوکہ تو پہلے ہی ایک رقیب سے تنگ تھا۔ بہاولپور سے رقیب پرچے کی اشاعت پر تو اور بھی تلملا یا۔ لیکن اس کی ایک نہ چلی یہاں بھی ادب اور بیوروکریسی کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ بہاول پور والوں کے ساتھ بیوروکریٹ تھے انہیں اشتہار بھی مل جاتے تھے ان کے وسائل بھی زیادہ تھے مجو کہ ان کا مقابلہ کیوں کر سکتا تھا۔ یہ توان پیسوں کو جوڑ کر پر چہ چھا پتا تھا جو اس کو سائیکل کا پنکچر لگوانے کیلئے ملا کر تے تھے۔ تھک ہار کر اس نے سائبان کی اشاعت روک دی اور بہاول پور والوں نے تو خیر پرچہ ہی عارضی مقاصد کیلئے شائع کیا تھا۔یہ اظہر سلیم مجوکہ کی بے روزگاری کے قصے ہیں۔ وقت گزرتا گیا مجوکہ نے بے کاری سے تنگ آکر بینکاری شروع کر دی۔ زمانے کی ستم ظریفی دیکھئے جونہی اس کے ہنسنے کھیلنے کے دن آئے اس کے والدین نے اس کی شادی کر دی۔شادی ہوتے ہی وہ محمد اظہر مجوکہ کی بجائے اپنی بیگم کا میاں اظہر بن گیا۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میاں اظہر بن کر کون خوش رہ سکتا ہے اختیارات تو بہر حال صنف نازک کے پاس ہوتے ہیں۔ میاں اظہر کا مقدر کڑھنا تھا سو یہ کڑھتا رہا پہلے ہی کچھ زیادہ صحت مند ناتھا شادی کے بعد اور ہی کمزور ہوگیا۔ انجمن کنوارگان ادب کے عہدے داروں میں اظہرسلیم پہلا عہدے دار تھا جس کی شادی ہوئی۔
سنا ہے کہ اس کی جلدی شادی میں اس کے محلے داروں کی کا وشیں بھی شامل تھیں جوہر پندرہ بیس دن کے بعد وفد کی صورت میں اس کے والد صاحب کے پاس جاتے تھے اور کہتے تھے بزرگو! آپ اپنے بیٹے کی شادی کیوں نہیں کرا دیتے۔ شادی کے بعد اظہر سلیم نے ادب تخلیق کرنا چھوڑ دیا۔ صاحب کتاب ہونے کی بجا ئے صاحب اولاد ہونے پر توجہ دی۔ لوگ سمجھے کہ مجو کہ مستقل طور پر ادب چھوڑ گیا ہے۔ شادی کے بعد ادب کو خیر باد کہنے والی شاعرات کے ساتھ اس کا نام بھی لیا جانے لگا۔ پھر ایک دن چشم فلک نے دیکھا کہ اظہر سلیم مجو کہ صاحب کتاب ہو گیا ہے کتاب کی اشاعت ہر قلمکار کی خواہش ہوتی ہے۔ اظہر کو میں نے کتاب شائع ہونے پر جتنا خوش دیکھا تھا تو وہ اپنی شادی پر بھی نہیں تھا۔ دوستوں کی کتابوں پر لکھے جانے والے مضامین کو اس نے کتاب دوستاں کا نام دیا اور آج کے دور میں اپنی کتاب دوستوں کیلئے وقف کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ میں نے یہ مضمون اظہر کی کتاب کے حوالے سے لکھنا تھا لیکن کتاب کی بجائے میں نے اس کی شخصیت پر مضمون لکھا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو وہ میرا دوست ہے دوسرا اس کی شخصیت بھی ایک کھلی کتاب کا ظاہر و باطن ایک ہے اس لیے میں نے کتاب دوستاں کی بجائے حساب دوستاں کو تر جیح دی ہے۔
(22مئی 1992کوکتاب کی تعارفی تقریب میں پڑھاجانے والا یہ مضمون اکتوبر2005میں شائع ہونے والی کتاب آدھاسچ میں شامل ہے )
فیس بک کمینٹ

