Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, جون 7, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے
  • خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم
  • عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
  • پاکستان کے ساتھ نرمی ؟ برملا/نصرت جاوید کا کالم
  • معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»عبدالرشید شکور»عبدالرشید شکورکاکالم:ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو ایونٹ میں ریکارڈ تھرو کر کے طلائی تمغہ جیت لیا
عبدالرشید شکور

عبدالرشید شکورکاکالم:ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو ایونٹ میں ریکارڈ تھرو کر کے طلائی تمغہ جیت لیا

ایڈیٹراگست 8, 20220 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

بائیسویں کامن ویلتھ گیمز کے جیولین تھرو مقابلے میں نئی تاریخ رقم کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کہتے ہیں کہ کہنی اور گھٹنے کی تکلیف اس قدر پریشان کر رہی تھی کہ ایک موقع پر ان کے لیے کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینا مشکل نظر آ رہا تھا۔
ارشد ندیم نے اتوار کے روز برمنگھم میں جیولین تھرو مقابلے میں 90.18 میٹرز دور جیولین تھرو کر کے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا ہے بلکہ انھوں نے کامن ویلتھ گیمز مقابلوں کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔
ارشد ندیم نے برمنگھم سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چوتھی تھرو کے بعد ان کی کہنی اور گھٹنے کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تھی اور جب ورلڈ چیمپئن گرینیڈا کے اینڈرسن پیٹرز نے اپنی پانچویں تھرو 88 اعشاریہ 64 میٹرز کے فاصلے پر کی تو وہ اپنی تکلیف بھول گئے اور ان کے اندر ایک جذبہ پیدا ہو گیا۔
کہنی اور گھٹنے کی تکلیف ارشد ندیم کے لیے اس لیے بھی پریشان کن تھی کہ ایک طرف بھاگنا اور دوسری طرف تھرو کرنا لیکن وہ ہار ماننے کے لیے اس لیے تیار نہیں تھے کہ انھیں سامنے گولڈ میڈل نظر آرہا تھا۔
ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی کہنی کی تکلیف کا اندازہ تھا کہ چار پانچ تھرو کے بعد وہ بہت زیادہ پریشان کرے گی لہٰذا انھوں نے اس بات کو ذہن میں رکھ کر پہلی تین تھرو کو فوکس کر رکھا تھا کہ وہ بہت اچھی ہونی چاہیے ۔
ان کی پہلی ہی تھرو 86.81 میٹر کی ہو گئی جس کے بعد انھیں یقین ہو چکا تھا کہ آج گولڈ میڈل انہی کا ہے۔
ارشد ندیم کہتے ہیں کہ انھیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ساٹھ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کا کوئی ایتھلیٹ کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوا۔
یاد رہے کہ ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز کے ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں کی تاریخ میں طلائی تمغہ جیتنے والے تیسرے پاکستانی ہیں۔ ان سے قبل سنہ 1954 میں محمد اقبال نے ہیمر تھرو میں اور سنہ 1962 میں غلام رازق نے 120گز کی ہرڈلز ریس میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔
ارشد ندیم دوسرے ایشیائی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے 90 یا زائد میٹرز دور جیولین تھرو کی ہے۔ ان سے قبل سنہ 2017 میں چینی تائپے کے چاؤ سون چینگ نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز ان کی انجری کو دیکھتے ہوئے ٹوکیو اولمپکس سے زیادہ مشکل تھے۔
انھوں نے کہنی کی تکلیف کے پیش نظر ورلڈ چیمپئن شپ، کامن ویلتھ گیمز اور اسلامک گیمز کو ٹارگٹ بنا رکھا تھا اور اس دوران انھوں نے قطر اور ترکی میں ہونے والی دو ڈائمنڈ لیگس کے علاوہ مزید دو تین ایونٹس میں حصہ نہیں لیا۔
ارشد ندیم کہتے ہیں کہ پاکستانی دستے کے ساتھ موجود ڈاکٹرز انھیں ان کی کہنی کی تکلیف کے بارے میں زیادہ نہیں بتا رہے کہ یہ کتنی خطرناک ہے۔
اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ مقابلوں کے دوران انھیں پریشان کیا جائے تاہم اب کامن ویلتھ گیمز کے مقابلے ختم ہو چکے ہیں لہذا وہ ڈاکٹرز سے اس بارے میں بات کریں گے کہ یہ تکلیف کیا سرجری سے ہی دور ہوسکتی ہے یا اس کے بغیر بھی وہ ٹھیک ہوسکتے ہیں۔
ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ چونکہ والدہ گاؤں میں رہتی ہیں اور ان کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں لہٰذا وہ جلد سو جاتی ہیں اس لیے ان سے بات نہیں ہو سکی۔ اب وہ صبح ان سے بات کریں گے البتہ بیگم سے بات ہو گئی جو خوشی میں ساری رات جاگ رہی تھیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کے نیرج چوپڑا کی طرف سے آپ کو مبارکباد کا پیغام آیا تو ارشد ندیم نے کہا کہ انھوں نے ایونٹ میں آنے کے بعد صرف دس منٹ فون آن کیا تھا اب وہ اطمینان سے واٹس ایپ کے پیغامات دیکھیں گے کہ کس نے کیا بھیجا ہے۔
مقابلے کے دوران کیا ہوا؟
پاکستان کے 25 سالہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو ایونٹ میں نہ صرف طلائی تغمہ جیت لیا ہے بلکہ 90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ کامن ویلتھ گیمز ریکارڈ بھی قائم کر لیا۔
یہ گذشتہ 60 برسوں میں کامن ویلتھ گیمز کے ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں پاکستان کا پہلا طلائی تمغہ ہے اور ارشد وہ پہلے جنوبی ایشیائی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے جیولن تھرو ایونٹ میں 90 میٹر سے زیادہ کی تھرو کی ہے۔
انھوں نے ایونٹ میں اپنی پانچویں تھرو میں جیولن 90.18 میٹر دور پھینک کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ تھرو اب نہ صرف ایک کامن ویلتھ گیمز ریکارڈ ہے بلکہ ارشد وہ پہلے پاکستانی ہیں جنھوں نے 90 میٹر سے زیادہ کی جیولن تھرو کی ہے۔
ارشد ندیم نے جب ایونٹ میں اپنی پہلی جیولن پھینکی تو یہ 86.81 میٹر دور جا کر گری۔ ان کی دوسری باری ضائع ہوئی تاہم تیسری مرتبہ 88 میٹر دور جیولن تھرو کر کے انھوں نے واضح سبقت حاصل کی۔
اس دوران گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز نے 88.60 میٹرز کی تھرو کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے سبقت حاصل کی تاہم ارشد ندیم نے 90.18 میٹر کی تاریخی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ یقینی بنا لیا۔
خیال رہے کہ ایونٹ سے قبل ارشد کی جانب سے جاری ویڈیو میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ یہ ایونٹ گھٹنے اور کہنی میں تکلیف کے باوجود کھیل رہے ہیں۔
ان کی اس کارکردگی کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کو گذشتہ برس ٹوکیو اولمپکس میں جیولن تھرو ایونٹ میں طلائی تمغہ جیتنے والے نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر دور جیولن پھینکا تھا۔
دولتِ مشترکہ مقابلوں میں یہ پاکستان کا دوسرا طلائی تمغہ ہے اس سے قابل پاکستانی ویٹ لفٹر محمد نوح دستگیر بٹ نے 109کلوگرام سے زیادہ وزن کے ویٹ لفٹرز کے مقابلے میں مجموعی طور پر 405 کلوگرام وزن اٹھا کر نہ صرف گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔
ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹس میں ارشد ندیم پاکستان کی تاریخ کے وہ تیسرے ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔
سنہ 1954میں محمد اقبال نے ہیمر تھرو میں اور سنہ 1962 میں غلام رازق نے 120 گز ہرڈلز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
یاد رہے کہ ارشد سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز فاصلے تک نیزہ پھینک کر ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں اور اس ریکارڈ کو انھوں نے ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے دوران ایران میں مزید بہتر کیا تھا۔
اسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ گذشتہ برس براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہوئے تھے جہاں 84 اعشاریہ 62 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔
آئیے آپ کو ارشد ندیم کی زندگی کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہیں جو میاں چنوں کے ایک گاؤں سے اٹھے اور آج پاکستان کے لیے طلائی تمغہ لے آئے۔
میاں چنوں کے گاؤں کا کرکٹر ایتھلیٹ کیسے بنا؟
ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔
ان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ہے۔ ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔
رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔
رشید احمد ساقی نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد ندیم جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے، اُنھیں وہ اس وقت سے جانتے ہیں۔ ‘اس بچے کو شروع سے ہی کھیلوں کا شوق تھا۔ اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے سکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔’
رشید احمد ساقی کہتے ہیں ‘میرے ارشد ندیم کی فیملی سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن ان کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ ارشد ندیم اب آپ کے حوالے ہے، یہ آپ کا بیٹا ہے۔ میں نے ان کی ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالی اور پنجاب کے مختلف ایتھلیٹکس مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بھیجتا رہا۔ ارشد نے پنجاب یوتھ فیسٹیول اور دیگر صوبائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔’
وہ کہتے ہیں ʹیوں تو ارشد ندیم شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو اور دوسرے ایونٹس میں بھی حصہ لیتے تھے لیکن میں نے ان کے دراز قد کو دیکھ کر اُنھیں جیولن تھرو کے لیے تیار کیا۔’
رشید احمد ساقی بتاتے ہیں ʹمیں نے ارشد ندیم کو ٹریننگ کے لیے پاکستان ایئر فورس بھیجا لیکن ایک ہفتے بعد ہی واپس بلا لیا۔ اس دوران پاکستان آرمی نے بھی ارشد ندیم میں دلچسپی لی بلکہ ایک دن آرمی کی گاڑی آئی اور اس میں موجود ایک کرنل صاحب میرا پوچھ رہے تھے۔
‘میں گھبرا گیا کہ کیا ماجرا ہے؟ لیکن جب اُنھوں نے ارشد ندیم کی بات کی تو میری جان میں جان آئی۔ کرنل صاحب بولے ارشد ندیم کو آرمی میں دے دیں ، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ کرنل صاحب نے وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ آپ لوگ اس کی ٹریننگ ملٹری انداز میں کریں گے۔ بہرحال اس کے بعد میں نے ارشد ندیم کو واپڈا کے ٹرائلز میں بھیجا جہاں وہ سلیکٹ ہو گئے۔’
ارشد ندیم شادی شدہ ہیں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔
رشید احمد ساقی کہتے ہیں ʹمیں ارشد ندیم کو مذاقاً کہتا تھا کہ اولمپکس میں شرکت کا خواب پورا ہو جائے تو پھر شادی کرنا، لیکن آپ کو پتہ ہی ہے کہ گاؤں میں شادیاں کم عمری اور جلدی ہو جایا کرتی ہیں۔’
بہت جلدی سیکھنے والا شاگرد
ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو اُنھیں کامن ویلتھ گیمز میں لے گیا۔
ارشد ندیم کے موجودہ کوچ فیاض حسین بخاری ہیں جن کا تعلق پاکستان واپڈا سے ہے۔ وہ خود بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
فیاض حسین بخاری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم ایک سمجھدار ایتھلیٹ ہیں جو بہت جلدی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کام ایک عام ایتھلیٹ چھ ماہ میں کرتا ہے ارشد وہ کام ایک ماہ میں کر لیتے ہیں۔’
اُن کے مطابق دو سال قبل ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز سے قبل اُن دونوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اولمپکس میں وائلڈ کارڈ کے ذریعے نہیں جانا بلکہ کارکردگی کے ذریعے کوالیفائی کریں گے۔
ارشد ندیم کا انٹرنیشنل کریئر
ارشد ندیم نے 2016 میں انڈیا کے شہر گوہاٹی میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز اور ویتنام میں ہونے والی ایشین جونیئر ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں کانسی کے تمغے جیتے۔
سنہ 2017 میں باکو میں ہونے والے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پھر 2018 میں جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی سال اُنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔
اس کے بعد 2019 میں ارشد ندیم نے قطر میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سولہویں پوزیشن حاصل کی اور 81 اعشاریہ 52 میٹرز کے ساتھ نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔
اُسی سال اُنھوں نے کٹھمنڈو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز کے ساتھ ان کھیلوں کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے سلسلے میں ایران کے شہر مشہد میں ہونے والے مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا جہاں اُنھوں نے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ 86 اعشاریہ 38 میٹرز دور نیزہ پھینک کر اپنا ہی قائم کردہ قومی ریکارڈ بہتر بنایا۔
ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم وہ کارکردگی تو نہ دکھا سکے جن کی ان سے امید کی جا رہی تھی اور وہ اس برس جیولن پھینکنے کی اپنی بہترین کارکردگی دوہرا نہ سکے اور فائنل مقابلے میں ان کی بہترین کوشش 84 اعشاریہ 62 میٹر رہی اور وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔
تاہم اب کامن ویلتھ گیمز میں انھوں نے تاریخی تھرو پھینک کر طلائی تمغہ جیت لیا ہے جو اب تک ان کی کریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleوجاہت مسعود کاکالم:بُرا حال ہویا پنجاب دا….
Next Article نام ور شاعر دانش ور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر اختر شمار رخصت ہو گئے
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم

جون 7, 2026

مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے

جون 7, 2026

خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم

جون 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم جون 7, 2026
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے جون 7, 2026
  • خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم جون 6, 2026
  • عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت جون 6, 2026
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد جون 6, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.