قسورسعید مرزا اپنے ساتھ وہ سب قہقہے لے گئے جو میں ان کے ساتھ لگاتاتھا۔وہ قہقہے جن میں بے ساختگی تھی،وہ قہقہے جن میں تصنع نہیں تھا،وہ قہقہے جو واقعی خوشی کا احساس دلاتے تھے، خون کی گردش تیز کرتے تھے۔قسور کے ساتھ میرا وہ تعلق تھا جس میں صرف خلوص تھا۔اس کے ساتھ میری وہ آوارگی تھی جس میں منزل اورراستے کاتعین نہیں ہوتا تھا۔ بس ہم چلتے تھے اور جس طرف راستہ لے جاتاتھا چلے جاتے تھے۔ اور کبھی ہم راستے کوبھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے کہ راستہ ہمارے قدموں کے تابع ہوجاتاتھا۔
یہ 1990ءکے عشرے کا اوائل تھا جب قسور سعید مرزا کے ساتھ میری پہلی ملاقات ہوئی۔ اوروہ پہلی ملاقات گزشتہ ہفتے تک تسلسل کے ساتھ جاری رہی کہ اس میں اگرکبھی تعطل آبھی جاتا تو وہ تعطل بھی کم وبیش تسلسل جیسا ہی ہوتاتھا۔ کبھی کسی میسج ،کبھی کسی واٹس ایپ پیغام اورکبھی کسی ٹیلی فون کال کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ یہ واٹس ایپ اور میسج توخیر آج کی باتیں ہیں۔ 1990ءمیں تو یہ سب کچھ بھی نہیں تھا۔اس کے باوجودہم ایک دوسرے سے ملتے تھے، بلاناغہ ملتے تھے اور خوب قہقہے لگاتے تھے۔میں نے جوقہقہے قسور سعید مرزا کے ساتھ لگائے وہ کسی ا ور کے ساتھ لگا ہی نہیں سکتاتھا۔ ہمارے تعلق میں کوئی مفاد شامل نہیں تھا، کوئی غرض شامل نہیں تھی۔میں دوبجے شب روزنامہ نوائے وقت سے فراغت کے بعد چوک ڈیرہ اڈا پہنچتا تو عین چوراہے میں مسجد کے سامنے فٹ پاتھ پر کچھ کرسیاں ہوتی تھیں اور ان کرسیوں پر بیٹھے دوستوں کامحور قسور سعید مرزا تھے ۔ قسور اس زمانے میں پیپلزپارٹی کے سیاسی کارکن کے طورپر متحرک تھے۔ پارٹی کے اجلاسوں کی کہانیاں ہمیں انہی سے ملتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو نے کب ملتان آناہے، کہاں کہاں جانا ہے ، یہ سب قسور کومعلوم ہو تا تھا۔ چوک ڈیرہ اڈا کے قریب ہی مسجد ٹین سازاں والی گلی میں اے پی پی کاپرانا دفترتھا جس کے ساتھ قسورمرزا کی رہائش تھی۔ قسور مرزا کا شمار ان شب نوردوں میں ہوتا تھا جنہیں اس زمانے میں قاتلان شب کے نام سے پکارا جاتاتھا۔
یکم ستمبر2022ءکو گورنمنٹ ہائی سکول شجاع آباد کے گراﺅنڈ میں قسور سعید مرزا کو سلام آخرکہنے کے لیے گیا تو میری نظروں میں ماضی کے تمام منظر جگمگارہے تھے۔ان منظروں کو کبھی آنسو دھندلانے کی کوشش بھی کرتے تو قسور مرزا کا کوئی قہقہہ میرے کانوں میں سنائی دیتا اور جنازے پر بھی میرے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ۔ لیکن میں وہاں بھلا کیسے مسکرا سکتاتھاکہ عاشق کے جنازے پر رونے والوں کاایک ہجوم تھا۔ ہچکیاں لیتے ہوئے لوگ تھے جن میں سے کچھ اس کے دوست تھے اورکچھ عقیدت مند کہ قسور نے سیاست میں خدمت کوشعاربنایا ۔ بلاتفریق اپنے شہروالوں کی خدمت کی اورخدمت بھی اس اندازمیں کہ ان کی ضرورتیں بھی پوری ہوئیں اور کانوں کان کسی کوخبربھی نہ ہوسکی۔یہی نہیں وہ شجاع آباد کی سیاسی ،سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے بھی محور تھے۔اس شہر میں احمد فراز، اداکارمحمدعلی اورجاوید میانداد سمیت بہت سی نامور شخصیات قسور مرزا کی وجہ سے ہی آئیں۔
جس گراﺅنڈ میں ان کاجنازہ رکھا تھا یہ وہی گراﺅنڈ تھا جہاں12اکتوبر 1999ءکو نوازشریف نے آخری جلسہ کیاتھا اور یہاں سے واپس جاکر جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی کوشش میں خود اقتدار سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔جنازے میں موجودسینئر صحافی جبار مفتی اور شوکت اشفاق اس جلسے کی کوریج کے لیے اس زمانے میں ملتان سے شجاع آباد آئے تھے اوراسی 12اکتوبر کی رات دوبجے ملتان میں میں نے کمانڈومشرف کی تقریر جن دوستوں کے ساتھ سنی تھی ان میں ملک عامر ڈوگر کے علاوہ قسورسعید مرزا بھی شامل تھے۔ پیپلزپارٹی کے جیالوں نے جب پرویز مشرف کے اقتدارسنبھالنے پر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنی لیڈر کے مبینہ قاتل کاہی استقبال کررہے ہیں۔ قسورسعید مرزا پیپلزپارٹی میں شجاع آباد کے سابق ایم این اے رانا تاج نون کی معرفت آئے اورپھرفاروق لغاری کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ نوازشریف کے خلاف پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ میں جب فاروق لغاری نے لاٹھیاں کھائیں تو قسورمرزا بھی ان کے ساتھ تھے۔ فاروق لغاری کے ساتھ وابستگی ہی انہیں بام عروج پر لے گئی لیکن قسورمرزا اس سے پہلے بھی سب کی آٰنکھ کاتارہ تھے۔ملتان میں سینئر صحافی محمودشام جب بھی تشریف لاتے قسورسعید مرزا ان کے میزبان ہوتے۔ محمودشام ہی نہیں حامد میر ،سہیل وڑائچ سمیت تمام صحافیوں کے ساتھ ان کے دیرینہ مراسم تھے اوران کی یہی خوش اخلاقی اورخوش گفتاری انہیں ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ ایوان صدر کے عہدے تک لے گئی۔ 1993ءمیں فاروق لغاری جب صدر بنے تو قسورمرزا اور مظہرعارف کو ایوان صدر میں تعلقات عامہ کے مناصب دے دیئے گئے۔
شجاع آباد سے ابھرنے والے ایک غریب گھر کے نوجوان سیاسی کارکن کا اس منصب تک پہنچنا اس کے سیلف میڈ ہونے کی دلیل تھا لیکن قسورمرزا نے اس منصب پرپہنچ کر بھی اپنے اندر کے کارکن کو زندہ رکھا۔اس نے عام مڈل کلاسیوں کی طرح خود پر مصنوعی افسری طاری نہیں کی ۔کلف والے کپڑوں کے ساتھ گردن کوکلف نہیں لگایااور ایوان صدر کے دروازے سیاسی کارکنوں اوراپنے دوستوں کے لیے کھول دیئے۔یہی وہ زمانہ تھا جب ہم اہل قلم کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے اور ادیبوں کے وفد کے ہمراہ ایوان صدر کے عشایئے میں پہنچے تو ملتان کا وفد قسورسعید مرزا کا ذاتی مہمان تھا۔1996ءمیں اے پی پی کی جانب سے اسامیاں مشتہرہوئیں تو 17اگست کو پائلٹ سکول ملتان میں میں نے بھی تحریری امتحان دیا جس کے بعد مجھے انٹرویو کے لیے اسلام آ باد بلالیاگیا۔انٹرویو پینل میں اظہر سہیل اور سحرصدیقی شامل تھے اورپھرکچھ عرصے کے بعد مجھے قسور مرزا نے یہ نوید سنائی تھی کہ آپ کی تقرری کے احکامات جاری ہونے والے ہیں۔
1993سے 1997ءکے ایوان صدر کے عرصے میں قسور مرزا نے اپنے علاقے کے بہت سے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ فاروق لغاری کے ساتھ ان کایہ تعلق ہمیشہ برقراررہا۔ مجھے یاد ہے فاروق لغاری جب صدربن کر پہلی مرتبہ ڈیرہ غازی خان آئے تو ملتان سے جو قافلہ ان کے استقبال کے لیے گیاتھا ان میں قسور مرزا کے ساتھ میں اور شاکر حسین شاکر بھی شامل تھے۔بعد کے دنوں میں بھی قسورمرزا کی وجہ سے بارہا چوٹی زیریں جانے کا اتفاق ہوا۔بے نظیربھٹو کے ساتھ فاروق لغاری کی بے وفائی کے بعد ہمیں تو دوبارہ چوٹی زیریں جانے کی خواہش نہ ہوئی لیکن قسور مرزا نے اپنے محسن کے ساتھ اپنا تعلق برقراررکھا۔
قسورمرزا کی زندگی کادوسرا دوران کے پہلے دورسے یکسر مختلف تھا۔سیاست کے ساتھ ان کاتعلق توبرقرارہا لیکن وہ تصوف کی راہ پر بھی گامزن ہوگئے۔انہوں نے مدینے کواپنا محور بنایا۔عشق نبی میں سرشارہوئے اور ان کے بہت سے روزوشب مسجد نبوی میں گزرنے لگے۔ دوستوں کے ساتھ تعلق البتہ برقراررہا ۔اوریہ تعلق آخری سانس تک برقراررہا۔یکم ستمبر 2022ءکو شجاع آباد سے جب ان کاجنازہ اٹھایاگیا تووہ قسورسعید مرزا کانہیں ایک عاشق رسول کاجنازہ تھااوراسی لیے عاشق کاجنازہ بہت دھوم کے ساتھ اٹھایاگیا تھا ۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )
فیس بک کمینٹ

