آج سوشل میڈیا پر ایک نظم کا بہت شہرہ ہے شاعر کا نام کسی کو معلوم نہیں لیکن اس کو پسند کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ،ہزاروں کی تعداد ان افراد کی ہے جن کی عمریں پچاس سال سے زیادہ ہیں ۔وہ نظم ڈاک خانہ میں پوسٹ کئے جانے والے خطوط کے بارے میں ہے۔ نظم ملاحظہ کئجیے
زنگ آلود لیٹر بکس اب ویران رہتے ہیں ۔
اب لیٹر پیڈ نہیں خریدے جاتے ۔
اب خط نہیں لکھے جاتے ۔
پرانے بکسوں میں کپڑوں تلے رکھے محبت نامے نہیں ملتے
مِیلوں دور تک پھیلے ہوئے فاصلے
اب سمٹ کر انگلیوں کی پوروں تک آ گئے ہیں ۔
دلوں کی کیفیات پلک جھپکنے میں سرحدوں پار تک کہہ دی جاتی ہیں ۔
سات سمندر بھی اب درمیان میں حائل نہیں ہوتے ۔
اب نہ وقت کی قید ہے نہ انتظار کی لذت !
لیکن !
پھر یہ اک تِشنگی سی کیوں ہے ؟
محبت کے دعوے دار ہوتے ہوئے بھی
من کھوکھلے سے کیوں ہیں ؟
اظہارِ محبت وہ طمانیت کیوں نہیں بخشتا ؟
محبت کے جواب میں محبت روح کو سرشار کیوں نہیں کرتی ؟
اب جبکہ ہر پل موجودگی میسر ہے تو
محبتیں دیر پا کیوں نہیں ہوتیں ؟
اقدار کیا بدلیں ، محبت کے معانی ہی بدل گئے ۔
اقدار کے بدل جانے سے جذبات کیوں بدل گئے ہیں ؟
تو کیا اقدار اور جذبات کا کوئی گہرا مراسم ہے ؟
اب ڈاکیے کا انتظار نہیں کیا جاتا .
پلک جھپکنے سے پہلے پیغام کوسوں دور تک پہنچ جاتے ہیں ۔
خط کے جواب کے انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانی پڑتی ۔
لیکن وصل کی جو راحت خطوں سے ملتی تھی ۔
اب وہ راحت نہیں ملتی ۔
اب کوئی عید کارڈ نہیں خریدتا۔
اب عید کارڈ نہیں لکھے جاتے ۔
یہ نظم ان زمانوں کو یاد کراتی ہے جب ڈاک خانوں پر مہینے کے آغاز،عیدین ،اسلحہ و ٹریفک لائسنس کی تجدید کے علاوہ دیگر تہواروں کے موقعہ پر رش ہوتا تھا۔آہستہ آہستہ یہ رش ختم ہو گیا، کہ خط لکھنے کی خوش کن روایت کو موبائل فون کھا گیا۔موبائل نے اس کے علاوہ عید کارڈوں کے قبرستان بنا دئیے ،ڈاک خانے اس وقت بھی ویران ہونا شروع ہوئے جب پی ٹی وی ، ریڈیو اور اخبارات کے مطالعے بھی ختم ہو گئے ،اپنے پیاروں کو خط لکھنے والا رومانس بھی موبائل نے چھین لیا۔بیرون ملک سے آنے والی ڈاک اور ڈرافٹ بھی آن لائن ٹکنالوجی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اب نئی نسل کو ڈاک خانے کا علم نہیں کہ ڈاک خانہ میں جب ہم جاتے تھے تو کسی جانب سے ڈاک کے لفافوں اور بڑے پیکٹوں پر لگی ٹکٹوں پر مہریں لگانے کی آواز کانوں میں پڑتی تھیں ۔اب ان آوازوں کو سننے والا کوئی نہیں کہ ڈاک خانے پر کوئی نہیں جاتا،کہ کورئیر کمپنی والے دفاتر اور گھروں سے آ کر ڈاک لے جاتے ہیں۔
جب تک ڈاک خانوں کے ذریعے رابطے کئے جاتے تھے تب تک لکھنے والے بھی اپنی تحریروں میں ڈاک کا ذکر تواتر سے کرتے تھے،معروف افسانہ نگار مظہر الاسلام پہلے لکھاری تھے ،جہنوں نے سب پہلے “خط میں پوسٹ کی گئی دوپہر “کے نام سے اپنی کتاب شائع کی ،پھر سجاد جہانیہ کی کتاب “ٹاہلی والا لیٹر بکس” نے شہرت پائی۔حال ہی میں محکمہ ڈاک خانے کو اپنی ساری زندگی دینے والے محمد اسلام تبسم کی کتاب”کباڑ خانہ اور حسینوں کے خطوط”کے نام سے منظر عام پر آئی تو پڑھنے والوں نے سب کتب کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔
اب ڈاک خانے کا کیا مرثیہ لکھیں یہ ہمارے ملک کے ہر گھر کی کہانی ہے کہ نسل نو کو ڈاک کے نظام کا علم ہی نہیں ،اگر کوئی ماں یا باپ دور بیاہی بیٹی کو خط لکھتا تو بیٹی کو ڈاکیے کا روزانہ انتظار ہوتا ،اگر محب اپنے محبوب کو پریم پیتر لکھتا تو ڈاکیہ اسے دنیا کا اہم ترین شخص محسوس ہوتا۔
اس ملک میں ایسا زمانہ بھی گزارا ہے جب اخبارات کے دفاتر،ریڈیو اور ٹی وی پروڈیوسرز شدت سے ڈاک کے آنے کے منتظر ہوتے کہ انھیں آنے والے خطوط میں اپنے پروگرامز بہتر کرنے کی تجاویز ملتی۔اس دور میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ان اداروں میں خطوط روانہ کئے جاتے۔اب نہ تو معیاری ریڈیو پروگرام رہے نہ ہی ٹی وی کے ڈرامے ۔باقی رہ گئی بات پرنٹ میڈیا کی تو اب ان کو بھی کوئی خط اس لئے نہیں لکھتا کہ دن بدن اخبار پڑھنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ایسے میں ڈاکیے بھی دو گھنٹے میں اپنا کام نمٹا کر واپس دفتر میں رپورٹ کر رہے ہیں۔
جہاں پر ڈاکخانہ زوال پذیر ہوا وہاں پر ایک اور چیز بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہوئی اور وہ لیٹربکس ہے ۔ جو ماضی میں ہر ڈاک خانے کے باہر ہوا کرتا تھا اور اس کے علاوہ ہر اس علاقے میں یہ لیٹر باکس دکھائی دیتا تھا ۔جہاں پر بہت زیادہ آبادی ہوا کرتے ہیں ۔کتنی عجیب بات ہے کہ جیسے آبادی میں اضافہ ہوا ویسے ہی ان علاقوں سے وہ لیٹربکس بھی غائب ہو گیا ۔مطلب یہ ہے کہ ہم خط لکھنے اور بھجوانے کے معاملے میں زوال پذیر ہوتے گئے ۔ایک ایسی روایت جو بہت ہی خوبصورت ہے ۔ اس کا خاتمہ ہونے کے قریب ہے ۔مثال کے طور پر جب ہم بیٹی کو خط لکھا کرتے تھے تو اس کے لیے بہت ہی خوبصورت الفاظ تلاش کیے جاتے ۔ اسی طرح والدین کے لئے بھی کچھ اسی طرح کے خط لکھنے سے پہلے تیاری کی جاتی ۔ انھیں کیسے القاب سے خط لکھا جائے ۔ اور بڑے بزرگوں کو خط لکھنے سے پہلے بہت کچھ سوچا جاتا تھا ۔اوراحتیاط کی جاتی تھی کہ ان کی عزت و احترام میں کوئی کمی نہ آجائے ۔ اور وہ زمانہ بھی ہمارے سامنے سے گزرا ہے کہ جب جب کسی کے گھر میں میں ڈگری آتی تھی یا بیرون ملک سے رجسٹرڈ ڈاک ا یک آیا کرتی تھی تو ڈاکیے کو مٹھائی دینا وا جب ہوا کرتا ۔ اب نئے زمانے کے ڈاکیے آپ سے دستخط لیتے ہیں اور قیمتی سے قیمتی چیز آپ کو تھما کر غائب ہو جاتے ہیں ۔ محکمہ ڈاک میں یہ زوال ان کے اپنے ملازمین کی وجہ سے بھی آیا۔ یا جنہوں نے اس کو مال مفت دل بے رحم سمجھ لیا ۔جس کے بعد آباد ڈاک خانے ویران ہوتے گئے ۔ حالانکہ انگلینڈ میں اب بھی محکمہ ڈاک بہت اہم ہے اور کام کر رہا ہے ۔ ایسے چمکتے ہوئے خوبصورت لیٹر بکس ہیں کہ انھیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔
وہاں ارجنٹ میل سروس ، رجسٹری یا ٹی سی ایس کا کوئی تصور نہیں ۔ ضروری اور اہم کاغذات لیٹر بکس میں ڈال دیں پہنچ جائیں گے ۔ جبکہ ہمارے ہاں ڈاک خانے کی سروسز کی جگہ ملک میں پرائیویٹ کوریئر کمپنیز نے اپنے جال بچھا دیے اور آخر کار یہ محکمہ بھی دیگر سرکاری محکموں کی طرح آئی سی یو میں پہنچ گیا ۔اور مجھ سمیت لاکھوں افراد کا اس محکمہ سے رومانس تمام ہوگیا ۔اسی لئے لکھنا پڑتا ہے
اب ڈاکیے کا انتظار نہیں کیا جاتا
کہ اس کی جگہ واٹس ایپ ،انسٹاگرام،ای میل اور سروسز نے لے لی ہے۔
( بشکریہ روز نامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

