مارچ کامہینہ شروع ہوتے ہی عجیب بے ہنگم سی گفتگو زبان زدعام ہوجاتی ہے۔ کوئی اس کے حق میں دلائل پیش کرتا ہے اور کوئی مخالفت میں جہالت کی حدیں پار کرجاتا ہے۔ تو قارئین آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میرا آج کاموضوع کیا ہے۔ آج ہم مارچ2023ءمیں بھی وومن امپاورمنٹ کے لیے ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہیں ۔پاکستان میں 52فیصد کے لگ بھگ خواتین ہیں مگر ، قومی و اقتصادی پیداوار اورپالیسی سازی میں خواتین کاحصہ دوفیصد سے بھی کم ہے۔
لیکن میرے خیال میں وومن امپاورمنٹ ( خواتین کو با اختیار بنانے ) کے عمل کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ میری سمجھ کے مطابق وومن امپاورمنٹ آپ کا پلان بی ہے کہ مردخدانخواستہ کسی وجہ سے کمانے کے قابل نہ رہے تو عورت اس قابل ہوکہ گھرچلاسکے۔
وومن امپاورمنٹ پر بات کیں تو پاکستان کی مارکیٹ میں بہت سے کلیشوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔Feminismپر تحریک کے اچھے نتائج بھی نکلے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کامطلب ہی بدل گیا۔ایک وقت تھا کہ تعلیم تو دور کی بات عورت کوووٹ ڈالنے کاحق نہیں تھا ۔ تانیثیت تحریک مغرب سے شر وع ہوئی ۔ان حقوق کے لیے جومحمد مصطفیﷺ نے ہمیں پندرہ سو سال پہلے ودیعت کردیئے تھے یہاں جو تصویر آپ کو دکھائی گئی وہ Superficial ہے ۔سیموون ڈیبوزوا نے اپنی کتاب ”دی سیکنڈ سیکس“ میں لکھا ہے کہ عورت کومرد کے حوالے سے ڈیفائن کیا جاتا ہے۔ سیموون ڈیبووا کہتی ہے کہ ”I hate house wives“ کیونکہ یہ شوہروں پرانحصار کرتی ہیں۔ بیشک عورت کی امپاورمنٹ کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے مگر اس قدر لبرل نہ ہوجائیں کہ میرا جسم میری مرضی اور عورت چاہے گی تو بچہ پیدا کرے گی جیسے نعرے لگائیں ۔
یہ عمل تحریک کو معاشرتی بگاڑ اورمادرپدر آزاد معاشرے کی طرف لے جائے گا ۔ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ یہ تحریک سفیدفام عورتوں نے شروع کی ۔اس میں سیاہ فارم عورت تو شامل تھی ہی نہیں جس کا حقیقتاً استحصال ہو رہا تھا اور اب اپنے اردگرد دیکھیں یہاں بھی ایلیٹ کلاس عورتیں نعرے لگا رہی ہیں ۔وہ عورت کہاں ہے جوگھریلو تشدد کاشکارہے۔ دیہات کی غریب عورت کہاں ہے جوتندور پہ روٹیاں لگارہی ہے ۔امپاورمنٹ کی ضرورت تو اس کو ہے ۔
رافعہ زکریا اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ اس موومنٹ میں وہ عورت ہے ہی نہیں جوتشدد خواہ معاشی ہو یا معاشرتی ہو یا مذہبی ہو ، کاشکارہورہی ہے۔ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ جو دین لے کرآئے وہ اس پسماندہ سوسائٹی میں اتنی تیزی سے کیوں پھیلا اس بات کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپ ا ماں خدیجہ ؓ کودیکھیں تو وہ تجارت کرتی تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے کئی جنگوں میں حصہ لیا۔تاریخ پڑھیں اسلام کا حسن یہی ہے کہ یہ عورت کو طاقت دیتا ہے ۔اپنے مذہب پر فخرکیجئے جس طریقے سے عورت کو مسلمانوں میں متعارف کرایا گیا یہ سمجھ سے باہر ہے ۔یہ دونمبر تعریف اسلام میں ڈالی کس نے ؟
نبی پاکﷺ کی ایک متفقہ حدیث ہے کہ جب احد میں ہرطرف سے تیر اور نیزے برس رہے تھے تو میرے نبیﷺ نے فرمایا میں سامنے دیکھتا تو نسیبہ ، دائیں دیکھتاتو نسیبہ ،بائیں دیکھتا تو نسیبہ ۔قارئین کرام یہ حدیث پاک آپ سے چھپائی گئی ۔جب احد میں ہرطرف سے حملہ ہورہاتھا تو حضرت نسیبہ بنت کعب آدمیوں کے جتھوں کوروک رہی تھیں۔ انہوں نے تیس غزوات میں حصہ لیا اور ایک غزوہ میں شہید ہوئیں تو غسل دینے والی خاتون نے کہاکہ ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جس پرتلوار کازخم نہ ہو مگرآپ کوحلال وحرام بتایا جاتا ہے۔ صحابیات کوپڑھیں اب آپ کو کون سے حقوق چاہیں۔ میرے خیال میں جوبھی مسائل ہیں عورتوں کے وہ زیادہ معاشرتی ہیں ۔ مذہب وہ نہیں جوآپ کوبتایاگیا ہے ۔یہ آپ کے بڑوں کی خواہشات ہیں آپ تعلیم یافتہ ہیں ،خود پڑھیں اوراپنی حیثیت کاتعین کیجئے۔
فیس بک کمینٹ

