لاہور : زمان پارک اور اس کے گرد و نواح میں جھڑپوں کے بعد عمران خان نے ریلی منسوخ کر دی ، پی ٹی آئی کے قائد خود تو گھر سے نہ نکلے البتہ کارکنوں کو میدان میں جھونک دیا ۔ جھڑپوں میں عمران خان کے بقول ان کا ایک کارکن بھی ہلاک ہوا ہے ۔ جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے پولیس نے پکڑ دھکڑ، شیلنگ اور آبی توپ کا استعمال بھی کیا۔
پولیس اور کارکنوں کی مڈ بھیڑ میں کئی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اس کے علاوہ ڈنڈا بردار کارکن بھی زمان پارک میں موجود ہیں۔ پولیس نے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے آج لاہور میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا اور عمران خان نے بھی اس ریلی میں شرکت کرنی تھی تاہم محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں جلسہ ، جلوس ، ریلی پر پابندی عائد کردی جس کے تحت احتجاج ، دھرنے اور مظاہروں پر بھی پابندی عائد ہوگئی ہے، یہ پابندی سات روز تک جاری رہے گی۔
اس تمام صورتحال میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے ریلی میں شرکت کیلئے آنے والے کارکنوں کو پیغام دیا کہ وہ پر امن طریقے سے گھروں کو لوٹ جائیں۔
حماد اظہر نے کہا کہ رانا ثنااللہ اور دوسرے لوگ انتشار چاہتے ہیں، ہم کارکنوں کو کہہ رہے ہیں کہ پرامن طریقے سے گھروں کو چلے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ 25 مئی کو لاکھوں کا مجمع تھا، اُس وقت بھی ان کا پلان تھا کہ خون خرابہ ہو، آج پولیس نے پُر امن کارکنوں کی گاڑیوں کو توڑا، مال روڈ، گڑھی شاہو میں بھی شیلنگ کی گئی۔
بی بی سی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے تحریک انصاف کے ایک کارکن کو تشدد کر کے ہلاک کیا ہے۔
عمران خان کے مطابق علی بلال غیر مسلح تھا اور تحریک انصاف کا ایک بہت وفادار کارکن تھا۔ انھوں نے پولیس کی طرف سے تحریک انصاف کے ریلی کے لیے آنے والے کارکننان پر تشدد کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ پولیس حکام پر اس قتل کا مقدمہ درج کرائیں گے۔

