اسلام آباد : چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی ہیں۔
اس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ کرے گا جس میں ان کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہوں گے۔
کاز لسٹ کے مطابق اس کیس کی سماعت 13 اپریل کو صبح ساڑھے 11 بجے ہوگی۔
خیال رہے کہ ان چار درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواستیں دو وکلا اور دو شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں اور سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں بنے تھے جبکہ آرٹیکل 183/3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی حق نہیں دیا جا سکتا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے حال ہی میں یہ بل منظور کیا جس کے تحت از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات چیف جسٹس سے لے کر تین رکنی کمیٹی کو دیے گئے تھے۔
صدر کی جانب سے دوسری بار منظور نہ کیے جانے کے 10 روز بعد، یعنی 20 اپریل کو، یہ بل قانون بن جائے گا۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

