آصف علی زرداری کا دور ہو، میاں نواز شریف کا یا عمران خان کا ،ان 15برسوں میں ادوار تین رہے مگر کہانی ’جسٹس اور جنرل‘ کے درمیان ہی گھومتی رہی پھر بھی جیسے تیسے ’جمہوریت کی ٹرین‘ چلتی ہی رہی مگر اب ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ کوئی ’زنجیر‘ کھینچ کر ٹرین روکنے والا ہے۔ ایسے میں ان 12 ماہ کی پی ڈی ایم کی حکومت کا کیا ذکر کروں کہ سوائے تباہی کے کچھ نہیں کیا۔ کاش آج ہم سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پانچ برسوں کا تجزیہ کر رہے ہوتے۔ اس وقت تو ’ریاست اور سیاست‘ دونوں ہی خطرے میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ 1954 سے اسپیکر قومی اسمبلی مولوی تمیز الدین اور وفاقی چیف کورٹ کے جسٹس منیر کا سفر آج بھی جاری ہے۔
9 مارچ 2007 کو ہم بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ نکلے تھے اس ’انکار‘ کو خراج تحسین پیش کرنے جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف مرحوم کے سامنے کیا۔ مجھے تو خیر آج بھی اس پر کوئی شرمندگی نہیں کہ میں یا میرے ساتھی، وکلا، ججز اور سیاسی کارکن، سول سوسائٹی ایک ’اصول‘ کے ساتھ کھڑے تھے کسی فرد کے ساتھ نہیں۔ یہ الگ بات کہ اس فرد کو جب یہ طاقت واپس ملی تو وہ اسے سنبھال نہ سکا۔ آپ کا اصل امتحان ہی اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے پاس اختیار اور اقتدار آتا ہے وہ کسی بھی شکل میں ملے۔ اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس سال جو جو بڑے واقعات ہوئے اور جس تیزی سے جنرل مشرف کا اقتدار جاتا نظر آیا اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں سابق آرمی چیف اور ISI چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ہاتھ تھا یہاں تک کہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے ساتھ NRO کرنے میں بھی۔ موقع ملا تو کبھی کیانی صاحب سے پوچھیں گے 9 مارچ سے 3 نومبر 2007 تک کی کہانی اور پھر دور زرداری۔
27دسمبر 2007 کو محترمہ کی شہادت نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا۔ زرداری صاحب کے ’پاکستان کھپے‘ کے نعرے نے کسی حد تک سندھ میں خاص طور پر جذبات کو ٹھنڈا کیا ورنہ تو راولپنڈی سے دوسرے بھٹو کی لاش طوفان برپا کرسکتی تھی۔ 2008 کو الیکشن ہوئے تو ایسا لگا جمہوریت کی ٹرین دوبارہ چل پڑی ہے۔ اس دور کی خاص بات یہ تھی کہ پہلی بار دو بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی۔ زرداری صاحب نے جنرل مشرف کو بحیثیت صدر رخصت کیا اور پھر وہ صدر منتخب ہوئے جبکہ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم۔ میں اس دن قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں موجود تھا پورا ہال ڈیسک بجانے اور نعروں سے گونج اٹھا جب گیلانی صاحب نے ججز کی رہائی اور طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا۔ مگر ججز بحال نہ ہوئے، نہ آج تک طلبہ یونین کے انتخابات۔ اتحاد اب بھی قائم تھا اور بہت سے صحافیوں کی طرح میں بھی بھوربن میں تھا جب نواز شریف اور آصف زرداری صاحب کے درمیان گھنٹوں بات چیت کے بعد ججز بحالی کا معاہدہ ہوا۔ افتخار چوہدری اور ان کے ساتھی ججز پھر بھی بحال نہ ہوئے تو پی پی پی، مسلم لیگ اتحاد ٹوٹ گیا۔ کشیدگی بڑھی تو میاں صاحب نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا وفاق نے پنجاب میں گورنر راج لگا دیا مگر وہ قائم نہ رہ سکا اور وہ کام جو گیلانی صاحب کے اعلان کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے ذریعہ ہو سکتا تھا وہ جنرل کیانی کی گارنٹی پر سرانجام دیا گیا۔
افتخار چوہدری صاحب بحال ہوئے تو ایسا لگا کہ انہوں نے پی پی پی کی حکومت کو نہیں بخشنا، نواز شریف صاحب نے بھی کالاکوٹ پہن لیا اور بجلی گیلانی صاحب پر گری ایک خط نہ لکھنے پر۔ کراچی میں بھی آپریشن کی ابتدا سپریم کورٹ میں از خود نوٹس سے ہوئی ’کراچی بدامنی کیس‘ کے نام سے، مگر جب خود چیف صاحب کے بیٹے کا کیس آیا تو ڈاکٹر شعیب سڈل کو مزید تحقیقات سے روک دیا گیا۔ اسی دور میں پہلی بار فوج نے جنوبی وزیرستان اور سوات وغیرہ میں ملٹری آپریشن شروع کیا اور جنرل کیانی کو پورے تین سال کی توسیع دی گئی۔ 18ویں ترمیم ایک بڑا کارنامہ ہے مگر اس کے ثمرات نچلی سطح تک نہیں گئے نہ ہی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی تسلی بخش رہی۔
2013 میں الیکشن ہوئے اور یوں پہلی بار کسی حکومت نے نہ صرف یہ کہ اپنی آئینی مدت پوری کی بلکہ ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہم نے پرامن منتقلی اقتدار کا منظر دیکھا اسی طرح صدر نے بھی مدت پوری ہونے پر نئے منتخب صدر ممنون حسین مرحوم کو ہاتھ ملاکر ویلکم کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی اور میاں نواز شریف وزیراعظم بنے۔ یہ دور جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید اور کچھ جرنیلوں کی وجہ سے ’جسٹس اور جنرل‘ کے حوالے سے دیکھنا ضروری ہے۔ مگر 2008 اور 2013 کے درمیان اپوزیشن کے خلا کو پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان نے پر کیا۔ خان نے قاضی حسین احمد مرحوم اور خود میاں صاحب کے ساتھ 2008 کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا مگر پھر میاں صاحب الیکشن میں چلے گئے۔ ان دو جماعتوں کے درمیان عمران نے اپنی جماعت کو تیسرے آپشن کے طور پر پیش کیا اور ایک نئے ووٹر کو وہ باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ کے پی میں انہیں اس وجہ سے بھی پذیرائی ملی کہ انہوں نے فاٹا میں آپریشن کی مخالفت کی جبکہ پنجاب اور کسی حد تک کراچی میں بھی ان کو اچھا خاصا ووٹ پڑا۔ کے پی میں ان کی حکومت بنی اور پنجاب میں پی ٹی آئی، پی پی پی سے بہت آگے نکل گئی کیونکہ خود پی پی پی کا ووٹر اینٹی مسلم لیگ بیانیہ کی وجہ سے پی ٹی آئی میں چلا گیا۔ تاہم عمران کے لانگ مارچ اور 126 دن کے دھرنے میں پہلے جنرل پاشا کا مبینہ طور پر بڑا کردار نظر آتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے بہرحال ایمپائر کی حیثیت سے انگلی کھڑی نہیں کی۔ عمران ان سے مل کر واپس آئے تو خاصے مایوس تھے دوسری طرف اپوزیشن پی پی پی نے اس اطلاع پر کہ وزیراعظم سے شاید استعفی مانگا جائے، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ہماری سیاست میں ایک تاریخی موڑ تھا ورنہ تو اپوزیشن انتظار کرتی ہے حکومت کے جانے کا اور اس سے اچھا موقع اور کیا تھا کہ ایک طرف عمران خان اپنے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ ڈی چوک پر اور پی پی پی بڑی اپوزیشن کے ساتھ پارلیمنٹ میں تھی لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنے کی وجہ سے وزیراعظم کو طاقت ملی اور تاریخی اور طویل ملاقات کا ذکر جواس وقت رہا وہ جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کے درمیان تھی۔ (جاری ہے)
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
فیس بک کمینٹ

