آج رضی کی سالگرہ ہے اس موقعہ پر دعا ہے وہ سدا سکھی رہے اوریونہی اپنی تخلیقات کے ذریعے ہمیں شاداب کرتا رہے
رضی کو راضی کرنے کے لیے کل سے سوشل میڈیا پر اس کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے یہ اب خدا ہی جانتا ہے یا اپنا رضی کہ وہ خوش بھی ہے یا نہیں
لیکن ایک بات طے ہے کہ اب ملتان کی پہچان اب رضی کے تخلیقی کاموں سے بھی ہوتی ہے۔۔ادب ہو یا صحافت
اس نے ہر شعبہ کو فتح کر رکھاہے
ادب کی کون سی صنف ہے جس میں اس نے کامرانی کے جھنڈے نہ گاڑے ہوں یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ بہت سی جگہوں کو درگزر کر کے آگے بڑھ گیا ورنہ وہ چاہتا تو شہر کے بے شمار لوگوں کی طرح ماہر تعلیم بن کر کسی یونیورسٹی یا کالج میں پروفیسر، پرنسپل بن کر موج کر رہا ہوتا لیکن اس نے ایسے تمام آسان کام اوروں کے لیے چھوڑ دیئے اور خود کوادب و صحافت کے لیے وقف کر دیا۔
اتنے عرصے کی تپیسا کے بعد اس کا شمار ادب و صحافت کی اکیڈیمی کے طور پر ہوتا ہے اور یہ اس کا اعزاز ہے کہ اس میدان میں نئے آنے والے اس سے راہنمائی لیتے ہیں۔
وہ میٹھاہو یا کڑوا۔۔اجلا ہو یا میلا۔۔اس کا موڈ برا ہو یا اچھا۔۔وہ دوستوں سے ہنس کے بات کرے یا لڑائی کرے۔۔
سب ہی اس کے نخرے سہتےہیں اور اس شخص کا رضی الدین رضی ہے۔
اتنا عرصہ ہو گیا اس کے یہ سب رنگ دیکھتے ہوئے، اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہےٹھیک ہی کر رہا ہے۔۔
کہ اس کی تمام عادات ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں، ہم اب اس کی ان باتوں کے عادی ہو گئے ہیں کہ اتنے عرصے بعد اگر رضی کو ہم سب نہ سمجھ سکے تو یہ تعلق رائیگاں ہی ہو گا۔لیکن یاد رکھئے ھمارا تعلق رائیگاں نہیں بلکہ ایک ایسا تعلق ہے جس نے ہمیں پہچان دی عزت واحترام میں اضافہ کیا۔یہ باتیں اس لئے کرنے کو جی چاہا کہ
یہ اُس کا ہی جنم دن ہے
مبارک ہو، مبارک ہو
رضی تم کو جنم دن کی مبارک ہو
مرے احباب نے مجھ کو بہت سے پھول بھیجے ہیں
بہت سے خواب بھیجے ہیں
بہت نایاب بھیجے ہیں
مبارک باد سے مہکے کئی پیغام آئے ہیں
تمنائیں،دعائیں،اور مرے خوابوں کی تعبیریں
ہر اک پیغام سے جھلکیں
مگر بے چین کرتی ہیں مجھے بھیگی ہوئی پلکیں
وہ دو بے خواب سی آنکھیں کہ جن میں زندگی میری
کہ جن میں روشنی میری
مبارک ہو ،مبارک ہو
دعاؤں سے چھلکتے فون میں پیغام آئے ہیں
جو میرے نام ہیں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے
اسی کے نام آئے ہیں
مبارک ہو ، مبارک ہو
بہت خوشیاں ہوں،عمرِ معتبر ہواور صحت کی بادشاہی ہو
بہت عزت ملے اور کامرانی ہو
تمہارے رائیگاں دل میں نہ کوئی رائیگانی ہو
مرے دل سے نکلتی یہ دعائیں تو اسی کے واسطے ہیں بس
تو کیا میری دعائیں آج سب احباب نے
میری وساطت سے اسی کے نام بھیجی ہیں
کہ میں تنہا نہیں ہوں اب
وہ میری ذات کا حصہ
یہ اُس کا ہی جنم دن ہے
فیس بک کمینٹ

