قومی اسمبلی نے آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لئے نظر ثانی شدہ بجٹ منظور کر لیا ہے جس میں حکومت آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئے 215 ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ بجٹ منظور ہونے کے بعد فوری طور سے آئی ایم ایف کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تاہم پیرس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایک ایف کی سربراہ کرسٹالینا گیورگیوا سے تین ملاقاتیں کی تھیں۔ اسی تناظر میں بجٹ میں ترامیم پیش کی گئی تھیں تاہم قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے یہ ریمارکس بھی قابل غور ہیں : ’آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق فنڈ دے دے تو بسم اللہ لیکن کام تو چل ہی رہا ہے‘ ۔
یہ کسی بدحواس وزیر خزانہ کا بیان نہیں ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ وزیر خزانہ نے خود ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو اس نہج تک پہنچایا ہے کہ دو طرفہ اعتماد کا شدید فقدان پیدا ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط ملنے سے متعدد عالمی اداروں سے پاکستان کو ملنے والے وسائل بھی فراہم ہوسکتے ہیں اور ملکی معیشت پر غیر ضروری دباؤ میں فوری کمی آ سکتی ہے۔ اسحاق ڈار نے تو بجٹ میں ترامیم کے ذریعے اپنی طرف سے آئی ایم ایف کو ’آخری پیش کش‘ کردی ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ کیا عالمی مالیاتی فنڈ اس ’رعایت‘ کو مناسب خیال کر کے اس ماہ کے آخر تک موجودہ مالی پروگرام کی مدت ختم ہونے سے پہلے نویں جائزے کو تسلیم کر لے گا اور فنڈ سے کم از کم ایک مزید قسط پاکستان کو فراہم ہو جائے۔ یوں ملکی معیشت پر فوری دباؤ میں کمی آئے گی۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ ملکی سیاست کی طرح معاشی معاملات کے بارے میں بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ ملک میں اگرچہ ایک جمہوری حکومت کام کر رہی ہے لیکن حقائق کی اصل تصویر سامنے لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نعروں کی سیاست کا منطقی نتیجہ ہے۔ جس ملک میں سیاسی لیڈر اور پارٹیاں عوام کو طفل تسلیاں دینے کی عادی ہوں، حقائق بتانے کی بجائے قومی افتخار کی جھوٹی سچی کہانیاں سنا کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا رواج عام ہو، وہاں اصل تصویر ہمیشہ دھندلی رہتی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم شہباز شریف گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار یہ اعلان کرچکے ہیں کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کی جا چکی ہیں، بس ایک آدھ ہفتے میں اس پروگرام کے تحت ملک کو اگلی قسط وصول ہو جائے گی۔ یہی بیان قومی بجٹ پیش کرتے ہوئے سنا گیا تھا اور اب اس میں دو سو ارب سے زائد ٹیکسوں کا اضافہ کرتے ہوئے بھی یہی اعلان سامنے آیا ہے۔
ایسے میں سچ تلاش کرنا ہو تو اسحاق ڈار کا قومی اسمبلی میں ایک صحافی کے ساتھ کیا جانا والا سلوک یاد کر لینا چاہیے۔ آئی ایم ایف معاہدہ کے حوالے سے ایک سادہ اور جائز سوال کے جواب میں وزیر خزانہ کا اشتعال اور صحافی پر الزام تراشی کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سچائی کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور جب یہ سچائی سوال کی صورت میں ان کے سامنے لائی جائے تو وہ خفا ہوتے ہیں۔ یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ پارلیمانی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے گروپ کے سوا کسی طرف سے ایک وفاقی وزیر کے اس طرز عمل پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ ملک میں آزادی صحافت کے حوالے سے بہت بات کی جاتی ہے لیکن کیمرے کے سامنے ایک صحافی کو سوال کے جواب میں سسٹم کی خرابی کا ذمہ دار عنصر قرار دینے پر وزیر خزانہ سے کوئی باز پرس نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی سیاست دانوں کو مغربی جمہوری روایت کی مثالیں دینے کا بہت شوق ہے لیکن وہ یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ اگر ایسا ہی رویہ کسی مغربی جمہوری ملک کے وزیر نے ایک صحافی کے ساتھ اختیار کیا ہوتا تو اسے کابینہ سے استعفی دینا پڑتا۔
پاکستان البتہ ایک انوکھا جمہوری ملک ہے جہاں اصولوں اور صحت مند روایات کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو ملک کے لئے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے۔ سال بھر پہلے عدالتی احکامات پر جیل جانے کے خوف سے لندن فرار ہونے والے اسحاق ڈار اب نہ صرف غیر جمہوری بلکہ غیر انسانی طرز عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن کہیں سے کوئی حرف مذمت سننے میں نہیں آتا۔ ایسے عناصر کی پشت پناہی کرنے والے خواہ جمہوریت کے لئے اپنی خدمات کی کتنی ہی لمبی فہرست پیش کرتے دکھائی دیں، ان کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت ضرور مشکل کا شکار ہوگی، اسے داخلی اور عالمی طور سے متعدد ایسی مشکلات کا سامنا بھی ہے جس کے بارے میں عام لوگوں کو کوئی خاص احساس نہیں ہے۔ تاہم اس کی تمام تر ذمہ داری ڈرائینگ روم سیاست، درون خانہ معاملات طے کرنے کے طریقے اور عوام کو اعتماد میں لینے کی بجائے انہیں بے وقوف بنانے والی بیان بازی پر عائد ہوتی ہے۔
جمہوریت، عوام کی مرضی سے منتخب ہونے والے نمائندوں پر مشتمل حکومت قائم کرنے کا نام ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ حلقہ جاتی سیاست، خاندانوں یا برادریوں کے اثر و نفوذ سے نشستیں جیتنے کی کوشش کے بعد گٹھ جوڑ کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومت کو جمہوری قرار دیا جائے۔ جمہوریت حقائق عوام کے سامنے لانے اور ہر مرحلہ پر ان کی رائے لینے کی کوشش کرنے کا نام بھی ہے۔ زندہ و توانا جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ کے علاوہ میڈیا اور دیگر سول فورمز پر اہم امور زیر بحث آتے ہیں اور حکومتیں ایسے تمام فورمز سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس کے برعکس رویہ اختیار کیا جاتا ہے کیوں کہ اقتدار کی راہداریوں میں باریوں کا انتظار کرنے والوں کو عوام کی ضرورتوں یا خواہشات کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ مسائل کی ذمہ داری مخالف سیاسی فریق پر ڈال کر عوام کو گمراہ کیا جائے اور کسی طرح اپنے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔ ملک میں اگر جمہوریت عوام کو گمراہ کرنے کا طریقہ نہ بنایا گیا ہوتا تو ایک صحافی کے ساتھ بدکلامی کے علاوہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے بار بار جھوٹ بولنے والا وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں اپنے ہی تیار کردہ بجٹ میں نظر ثانی کی تجاویز منظور نہ کروا رہا ہوتا۔
کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ لیکن یہ تبدیلیاں کیا ہوں گی، ان کے بارے میں کون فیصلہ کرے گا اور کیوں یہ باور کر لیا گیا ہے کہ ایک عبوری نوعیت کی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملکی انتظام، معیشت و سیاست کے بارے میں دوررس فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔ اس حکومت کے مینڈیٹ پر تو مستقل سوالیہ نشان ہے اور یہ اپنی عدم مقبولیت کو 9 مئی کو اٹھنے والی دھول میں چھپانے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد شہباز شریف کو بدستور وزیر اعظم رہنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ اس معاملہ کے آئینی پہلوؤں پر ماہرین ہی رائے دے سکتے ہیں لیکن اس اصول سے تو کسی کو مفر نہیں ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوری نظام اور 1973 کے آئین کے تحت حکومتی انتظام مقصود ہے تو موجودہ حکومت اگست کے بعد کسی طور اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔ لیکن اس بارے میں واضح اعلان کرنے کی بجائے مسلسل بے یقینی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔
ایک طرف سرکاری معاشی منصوبوں کے بارے میں کوئی مستند بات سامنے نہیں لائی جاتی۔ اسحاق ڈار کا یہ فقرہ کہ اگر آئی ایم ایف نے قرض نہ دیا تو کام تو چل ہی رہا ہے، کسی ٹھوس حکومتی پالیسی کی بجائے ’ڈنگ ٹپاؤ‘ طریقہ کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر خزانہ مسلسل پلان بی کا ذکر کرتے ہیں لیکن قوم کو اس متبادل مالی پروگرام کے بارے میں آگاہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اسی لئے اس ضمن میں افواہوں اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ ایک کمزور اور مشکلات کا شکار معیشت کے لئے قیاس آرائیوں پر مبنی پالیسی کبھی سود مند نہیں ہو سکتی۔ لیکن حکمرانوں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔
وزیر اعظم پیرس کانفرنس میں شرکت کے بعد طویل قیام کے لئے لندن براجمان ہیں اور ان کے بڑے بھائی نواز شریف امارات پہنچ کر اپنے اہل خاندان کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں تاہم پاکستانی عوام کی تفریح طبع کے لئے یہ خبریں ضرور پہنچائی جا رہی ہیں کہ وہ امارات میں سرکاری مہمان ہیں اور ان کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ گویا مسلم لیگ (ن) اپنے طور پر نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر لانچ کر رہی ہے۔ اسی لئے آج ایک طرف قومی اسمبلی نے رکن اسمبلی کی نا اہلی کو پانچ سال تک محدود کرنے کا بل منظور کیا ہے تو دوسری طرف نواز شریف کی قانونی معاونت کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ وہ واپس آئیں اور وزارت عظمی حاصل کرنے کے لئے مہم کا آغاز کریں۔
حکومتی عہدیدار اور سیاست دان مسلسل یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی ایک فرد کسی ملک یا پارٹی کے لئے ناگزیر نہیں ہو سکتا۔ جمہوریت ایک عمل مسلسل کا نام ہے جس میں سیاسی پارٹیوں کو ایک ایسے فورم کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جہاں سے نئی قیادت سامنے آتی ہے۔ یہی قیادت تیزی سے تبدیل ہوتے حالات میں نئے خیالات و طریقوں سے قوم و ملک کی رہنمائی کرتی ہے۔ اس مسلمہ طریقہ سے گریز کا ہر طریقہ زوال کا راستہ ہے۔ اس سے بہتری کا کوئی امکان تلاش کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔
سیاسی رہنماؤں سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ عوام سے جھوٹ بولنا بند کیجئے اور نئی نسل کو معاملات سنبھالنے کے قابل سمجھئے۔ دنیا نے اسی طریقہ سے ترقی کا سفر طے کیا ہے۔ اس کا متبادل فی الوقت موجود نہیں ہے۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

