ہر خطہ زمین اپنے باسیوں کیلئے مقدس اور محبوب ہوتی ہے۔اس کی صفات باسیوں کے وجود میں سرایت کئے ہوتی ہیں اسلئے اس سے دور چلے جانے والے ہمیشہ ایک عجیب کشش اور کسک محسوس کرتے رہتے ہیں۔پچھلے کئی سال سے کھاتے پیتے گھرانوں کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کا مقصد ہی ملک سے باہر جانا بن گیا ہے۔جن کے پاس اچھے اداروں کی ڈگریاں ہوتی ہیں وہ بھاری فیسیں ادا کرکے اعلیٰ تعلیم کے وسیلے سے ہجرت کر جاتے ہیں۔آج کل ہر کوئی یونان کے ساحل کے قریب جان ہارنے والوں کو معیشت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے ریاست کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔
ریاست،معاشرہ،تعلیمی ادارے بھی قصور وار ہیں کہ انھوں نے کبھی اس ملک کے لوگوں اور خصوصاً نوجوانوں کیلئے ایک ایسا ماحول اور فضا بنانے کی کوشش ہی نہیں کی جس میں وہ پرندوں کی طرح آزادی سے چہچہا سکیں بلکہ زہر اگلنے والوں کی سہولت کاری کی، کبھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اور کبھی خاموش رہ کر۔ یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے باخبر بچے جہاں اک طرف جبریہ حصار کے عالم میں زندگی بس کرتے ہیں جہاں ہر طرف کوئی نہ کوئی رکاوٹ ان کی منتظر ہوتی ہے تو دوسری طرف وہ طاقتوروں کے ہاتھوں سماجی، معاشی اور جنسی استحصال کی مکروہ صورتحال دیکھ کر دہل جاتے ہیں اور ایک ایسے دیس میں جیون بسر کرنے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں وہ بطور فرد آزادی سے سانس لے سکیں مگر گجرات اور اس کے اردگرد علاقوں کے یونا ن جانے والے نوجوانوں کے معاملات مختلف ہیں۔
گجرات اور یونان کا کوئی روحانی سمبندھ ضرور ہے،گجرات کو پاکستان کا یونان بھی کہاجاتا ہے، اس میں حوالہ دانش ہے یا کچھ اور ،یہ ابھی تک طے نہیں ہوا مگر اہل گجرات کی یونان سے محبت دیوانگی کی حد تک ہے، یہاں کے لوگ وہاں پہنچنے میں اتنی بے تابی اور بے چینی دکھاتے ہیں جیسے وہاں کوئی بہت اپنا انھیں آواز دے کر بلا رہا ہو۔
اکثر کشتی الٹنے، ڈوبنے اور کنٹینر میں سانس بند ہونے سے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ضلع گجرات ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ اور میرپور سے ہوتا ہے۔ اتنی اموات کی خبر یں سننے کے بعد بھی لوگ بھاری رقوم دے کر جانا اس لئے ترک نہیں کرتے کہ ان علاقوں میں ہر دوسرے خاندان کا کوئی فرد یونان یا آس پاس کے ملکوں میں آباد ہے ،وہ سیٹل ہونے کے بعد اپنے بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو لے جانے کی کوشش کرتا ہے انھی میں وہ سفاک ٹھیکیدار ہوتا ہے جو پہلے انھیں اپنے پیاروں کو وہاں بلانے پر اکساتا ہے اور پھر اس کا پتہ دیتا ہے جو مطلوبہ رقم کے عوض سکون سے پہنچانے کا وعدہ کرتا ہے۔ کم پڑھے لکھے اور سادہ انسان اس طرح کے جملوں کے دھوکے میں آتے رہتے ہیں۔جن کی ہلاکت ہوئی انھیں دوسری پارٹی نے بلایا تھا ہم کچا کام نہیں کرتے۔انسانی اسمگلنگ کرنے والے پاکستانیوں کی اخلاقی پستی کا عالم دیکھئے کہ دولت کی ہوس میں اپنے ہم وطنوں کیلئے کشتی کا زیریں اور خطرات سے پُر حصہ منتخب کرتے ہیں ۔
اہم سوال مگر یہ ہے کہ یہ لوگ دشوار گزار راستوں سے گزر کر وہاں جانے کو تیار کیوں ہو جاتے ہیں۔ کیا غربت کی وجہ سے جان کی قربانی لگانے کو تیار ہوتے ہیں، بیس سے تیس لاکھ رقم دینے کی استطاعت رکھنے والے غریب تو ہر گز نہیں ہوتے ۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر اتنی رقم ہے تو وہ کیوں جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، دراصل یہ ایسے نوجوان ہوتے ہیں جنہیں کچھ کرنا نہیں آتا ۔وہ صرف روایتی جماعتیں پاس کرکے بیٹھے ہوتے ہیں۔ عملی زندگی کیلئے ان کے پاس نہ کوئی ہنر ہوتا ہے نہ دلچسپی اور نہ کوئی مقصد۔ اب زندگی میں کچھ کرنا ہے تو پھر یونان جانے میں کیا حرج ہے،کہ ملک کی فضا تو ویسے ہی نامہربان ہے، یہ چند دنوں میں حل ہونے والامسئلہ نہیں، وسیع تر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات کی جائیں۔دورانِ تعلیم طالبعلموں کو ان کے شعبوں سے متعلقہ سرکاری و نجی اداروں میں پارٹ ٹائم ملازمتیں دی جائیں۔انھیں مختلف ہنر سکھائے جائیں۔میڈیا پر ہر وقت حالات کا رونا رونے کی بجائے مشکلات سے نجات کی تدبیر پر بات کی جائے اور نوجوانوں کو مقصد کے طور پر چیلنجز کا مقابلہ کرنے پر اکسایا جائے۔
ملک میں تنگ نظری، بنیاد پرستی اور گھٹن پھیلانے والوں کا رستہ روکا جائے۔ جھوٹ، لالچ، استحصال اور بے انصافی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنے میں اساتذہ اوروالدین سمیت ہر فرد کردار ادا کرے۔ یہ ملک بہت خوبصورت ہے،وسائل سے مالا مال ہے مگر مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ بہت ہوگیا اب سیدھے رستے پر سفرکا آغاز کریں۔مایوسی پھیلانے کی بجائے امید کا ستارہ بنیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

